آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پنکی کے کیس میں کئی متعبر نام سامنے آئے ہیں، پنکی سے منشیات کے خریداروں اور بڑی تعداد میں خرید کر آگے فروخت کرنے والوں کے تمام نام سامنے لائے جائیں گے۔
منگل کو کراچی چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے خطاب اور میڈیا ٹاک کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ بھتہ خوری سے لیکر منشیات جیسے جرائم سب سائبر اسپیس میں منتقل ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنکی کے ایک سے زائد اکاونٹ ہوسکتے ہیں، بینکنگ معاملات کے لئے ایف آئی اے کو شامل کیا گیا ہے، جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ انمول عرف پنکی کو گلیمرائز نہ کریں کہ اس پر فلم بن جائے۔ پنکی کو کوئی خصوصی سیکورٹی نہیں بلکہ مناسب دی گئی ہے.
انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات بیچنے والے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منشیات فروخت کرنے والوں کی فہرستیں بنائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ سندھ کے تعاون سے منشیات کے خاتمے پر کام کر رہے ہیں، ایک ہزار سے زائد مجرموں کو پکڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو منشیات کا کام کررہے ہیں، انہیں نہیں بخشیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچے کے آپریشن کی کامیابی کا سہرا سندھ پولیس کے افسران اور جوانوں کو جاتا ہے، اسٹریٹ کرائم ہر مہینے بتدریج کم ہورہا ہے، اس میں مزید کمی کی کوشش کررہے ہیں، کچے میں ڈھائی سال سے جاری آپریشن کی رفتار مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کئی علاقے تاحال نو گو ایریاز ہیں، کچے کے ڈاکوؤں کے پاس جدید ہتھیار ہیں۔
کچے میں سندھ پولیس آئے دن شہریوں کی لاشیں اٹھانے جاتی تھی، موٹروے، نیشنل ہائی وے اور انڈس ہائی وے ہمارے تین اہم راستے ہیں جو دریائے سندھ کے کنارے ہیں۔
ہمارا عزم ہے کہ کچے کے علاقے کو پرامن بنایا جائے۔ چار مہینوں میں 41 بڑے ڈکیت مارے جاچکے۔ 320 نے خود کو پولیس کے حوالے کیا ہے۔ 250کلو میٹر سے 600 سے زائد ڈاکو پکڑے یا سرینڈر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں نو گو ایریا ختم کیا اللہ کے فضل سے سندھ میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہے۔ امن کی پائیداری کے لئے ہم سندھ حکومت کے ساتھ مل کر غلہ بانی پر کام کررہے ہیں۔
شہر سے ہول سیلز بازاروں کو سبزی منڈی کی طرح منتقل کریں۔انہوں نے کہا کہ صنعتی زون کے لئے ایکسپریس وے بنائیں، نادرن بائی پاس پر ایکسپریس وے لانگ ٹرم ٹریفک کا حل ہے۔ مسئلہ کراچی پورٹ کا ہے۔ آپ حکومت کے ساتھ مل کر اس پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ بنیان مرسوس کی کامیابی مل کر کام کرنے کے سبب ہے۔ ہم نے 50کروڑ سے زائد چالان سے جمع کیے ہیں۔ ہمارا ارادہ قانون کی پاسداری کرانا ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں ہول سیل کی مارکیٹ شہر کے درمیان واقع ہیں جسکے سبب شہر میں ٹریفک جام ہوتا ہے۔ شہر کے بڑی مارکیٹوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی چیمبر مارکیٹوں کو باہر منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے جس طرح سبزی منڈی شہر سے باہر منتقل ہوچکی ہے اس طرح دیگر مارکیٹ بھی منتقل ہونی چاہیئے۔
سندھ ایکسائز میں نمبر پلیٹ کی فیس کم کروائی ہے، جوبلوچستان کی نسبت زیادہ تھی۔ 70فیصد ٹینکرز میں ٹریکر نصب کرائے جاچکے ہیں۔ گاڑی کی فٹنس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوگی۔ صوبائی حکومت کو آٹو کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ گزشتہ 3 ماہ سے سندھ حکومت کے تحت منشیات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ 3 ماہ میں 1700 سے زائد منشیات کے ڈیلرز گرفتار کیے.
40 کلو آئس 560 کلو گرام چرس اور دیگر بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی ہیں۔ قبل ازیں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف، بی ایم جی کے چئیرمین زبیر موتی والا اور وائس چئیرمین جاوید بلوانی نے بھی خطاب کیا۔