سندھ کے سینئر وزیر ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کراچی سمیت پورے صوبے میں لوگوں کو آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے، آئندہ سرکاری بسیں بایو گیس پر نہیں بلکہ ای وی پرچلیں گی تاہم بایو گیس پلانٹ ریڈ لائن بی آر ٹی پروجیکٹ کے تحت لگایا جائے گا،اس منصوبے کے لئے ٹینڈر آئندہ ماہ ہوجائے گا اور بایو گیس دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کی جائے گی۔گرین لائن میں سفر کرنے والے پہلے 50 ہزار مسافر تھے جن کی تعداد بڑھ کر اب 95 ہزار مسافر تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے یہ بات منگل کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ٹرانسپورٹ سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز بس سروس، پنک بس ، ای، وی بس سب کا کنٹریکٹ ہوا،یہ کنٹریکٹ بالکل شفاف تھا ۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل حکومت کی کمپنی کو پیسے دیئے گئے اوروفاقی ادارے نے بسیں خرید لیں۔انہوں نے کہا کہ ای وی بسز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر لائی گئی ہیںہر بس پر ہم نے سبسڈی دی ہے ،اسی ماڈل کے تحت ہم مزید 500 بسیں لینے جا رہے ہیں، اس کے لیئے ہم نے اخبار میں اشتہار دیاگیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میرے پاس کل423 بسیں ہیں۔ پرائیویٹ بسیں اس قابل نہیں کہ روڈ پر چل سکیں۔ہم نے فٹنیس سینٹر بناکر بسوں کو گراﺅنڈ بھی کیا۔ جماعت اسلامی کے محمد فاروق نے کہا کہ شرجیل میمن جتنے سنجیدہ آج سیشن میں ہیں اگر وہ اتنے ہی سنجیدہ وزارت کے ساتھ ہوجائیں تو کراچی کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔
انہوں نے پوچھا کہ ریڈ لائین کب مکمل ہوگی۔ پندرہ سالوں سے کوئی بی آر ٹی نہیں بنی۔ شرجیل انعام میمن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہر جگہ پوسٹر لگائے ہیں۔ ان لوگوں نے جتنے پیسے اپنی تشہیر کے کام پر خرچ کئے ہیں اگر یہی رقم یہ لوگ اپنے ٹاوئنز پر خرچ کردیں تو کراچی کے حالات درست ہوجائیں۔
شرجیل میمن نے کہ کہا بائیو گیس پلانٹ لگانے میں تاخیر کا سبب یہ ہے کہ پہلے بسیں ڈیزل پر چلتی تھیں لیکن اب گیس اور ای وی پر چلنے والی بسیں آرہی ہیں۔شارق جمال نے کہا کہ بائیو گیس کا ٹھیکیدار بھاگ گیا، اس سے جو نقصان ہوا وہ کون بھرے گا؟ کنسلٹنٹ بھی غائب ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بھی تک ٹینڈر ہی نہیں ہوا تو ٹھیکیدار کیسے بھاگ گیا؟ کونسا کنسلٹنٹ بھاگ گیا؟ اس کا نام بتائیں۔
ایم کیو ایم کے رکن عادل عسکری نے کہا کہ میں سینیئر وزیر کو وزیر اعلیٰ سے بھی زیادہ اہل سمجھتا تھا۔ ریڈ لائین منصوبے کے ٹھیکیدار امین جان اور ایف ڈبلیو کی لاگت کیا ہے؟اگر شرجیل میمن دو ماہ منصوبے کے سائٹ پر گزاریں تو یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔
سینئر وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ مجھے کوئی وقت بتادیں، میں سب کو بریفنگ دینے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امین جان تیس فیصد کا ٹھیکیدار ہے ستر فیصد کا ٹھیکیدار کوئی اور ہے۔ کافی چیزیں ایسی ہیں جو کیمرا اور مائیک پر نہیں بتا سکتا۔ بی آرٹی کے سلسلے میںسوئی گیس اور کے الیکٹرک کے بہت مسائل ہیں۔ ہمارے بہت زیادہ ایشوز ہیں، کبھی این او سی کے لیے سول ایویشن کام رکوا دیتا تھا۔ ہمیں کئی چیلجنز رہے ہیں مگر حکومت کی نیت صاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ تنقید ہوتی ہے، ہمیں بھی اچھا نہیں لگتا۔ لیکن مسائل کو بھی سمجھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن۔ ریڈ لائن منصوبے کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے، معافی چاہتے ہیں اور شرمندگی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانس کراچی کے سی ای او سمیت بہترین افسران تعینات کیے ہیں۔ سندھ واحد صوبہ ہے جو خواتین کو مفت پنک اسکوٹی دے رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمننے کہا کہ ہم 500 لا رہے ہیں وہ کمپنی چارجنگ اسٹیشن بھی لگائے گی جبکہ حکومت ڈیپوز کے لئے زمین دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جتنا عرصہ نگراں حکومت رہی اس نے اپنے نو ماہ کے دور میں بی آرٹی منصوبے پر ایک اینٹ بھی نہیں لگنے دی ۔ہماری سابقہ حکومت میں ڈالر ڈبل ریٹ پر پہنچ گیا جس کی وجہ سے ہر منصوبے کے اخراجات بہت زیادہ بڑھ گئے۔
انہوں نے کہا کہ کسی جماعت نے نگران حکومت میں ایک بیان نہیں دیا۔ بی آر ٹی کالاٹ ون ابھی بھی پرانا کنٹریکٹر کر رہا ہے ۔لاٹ ٹو ہم نے ایف ڈبلیو او کو دیا ہے ۔اس پروجیکٹ میں نیک نیتی سے کام ہو رہا ہے۔ گرین لائین وفاقی حکومت نے بنائی ۔ان دونوں کا آپریشن پہلے پی آئی ڈی سی ایل کے پاس تھا۔ اب دونوں کا کنٹرول سندھ حکومت کے پاس ہے ۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اورنج لائن جب وفاقی حکومت پاس تھی 2 ہزار مسافر سفر کرتے تھے ،اب 9 ہزار مسافر روزانہ سفر کررہے ہیں جبکہ گرین لائین پر سفر کرنے والوں کی تعداد 95 ہزار مسافر روازنہ ہے۔
ایم کیو ایم کے صابر قائم خانی نے یاد لایا کہ چھہ ماہ قبل وزیر صاحب نے لطیف آباد سے بس سروس شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا، شرجیل میمن نے کہا کہ لطیف آباد سے بہت جلد پیپلز بس سروس شروع کرنے والے ہیں جو حیدر چوک تک چلیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر گلی ہر محلے میں پیپلز بس چلائیں گے۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ حیدر آباد میں 29 جگہ پر بس اسٹاپ بنائے ہیں۔ کراچی میں بھی یہ مسئلہ ہے لوگ ہر جگہ بس روکتے ہیں۔ لوگ شاہراہ فیصل پر بھی پیڈسٹرین برج استعمال نہیں کرتے جس سے حادثات بھی ہوتے ہیں۔