اسلام آباد میں 143 ہاؤسنگ سوسائٹیز اجازت کے بغیر چلنے کا انکشاف

آڈٹ حکام نے بتایا کہ غوری ٹاؤن میں جو بھی کنسٹرکشن ہوئی ہے وہ غیر قانونی ہوئی ہے


ضیغم نقوی May 19, 2026
فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران اسلام آباد میں143  ہاؤسنگ سوسائٹیز کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی اجازت کے بغیر چلنے کا انکشاف کیا گیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا کنوینر طارق فضل چوہدری کی زیر صدارت اجلاس ہوا جہاں وزارت داخلہ سے متعلق 04-2003 سے 20-2019 تک کے مختلف برسوں کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا جہاں پاک پی ڈبلیو ڈی کو جوڈیشل اور ایڈمنسٹریٹو کمپلیکس کی تعمیر کے لیے دیے گئے پیسوں کے غلط استعمال سے متعلق آڈٹ اعتراض کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک پی ڈبلیو کو 27.3 ملین کی ادائیگی کی گئی، بعد میں کام سی ڈی اے کو ٹرانسفر ہو گیا لیکن پی ڈبلیو ڈی کو ادا کی گئی رقم سی ڈی اے کو ری فنڈ نہیں کی گئی۔

اسلام آباد کے ڈی سی نے بتایا کہ 1993 میں آئی ٹی سی کمپلیکس بننا تھا اور پاک پی ڈبلیو نے کنٹریکٹر کو ادائیگی کر دی، جس پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہ تو آپ کے اپنے پیسے دوسرا محکمہ لے گیا ہے، ڈی سی نے جواب دیا کہ اسی لیے تو پاک پی ڈبلیو ڈی بند ہو گیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) حکام نے بتایا کہ عدالت نے مزید ٹرائل کے لیے نوٹس جاری کرنا ہے، جس کے بعد کمیٹی نے یہ معاملہ آئندہ کے لیے موخر کر دیا۔

اجلاس کے دوران 143 ہاؤسنگ سوسائٹیز سی ڈی اے کی اجازت کے بغیر چلنے کا انکشاف ہوا اور اس موقع پر غیر مجاز طور پر غوری ٹاؤن کی تعمیر سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ غوری ٹاؤن میں جو بھی کنسٹرکشن ہوئی ہے وہ غیر قانونی ہوئی ہے، سی ڈی اے نے کہا یہ غیر قانونی طور پر ہماری منظوری کے بغیر ہوا ہے، طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صرف یہی سوسائٹی نہیں، کئی اور مسائل موجود ہیں۔

چیئرمین سی ڈی نے بتایا کہ143  ہاؤسنگ سوسائٹیز سی ڈی اے کی اجازت کے بغیر  پلاٹ بیچ رہی ہیں اور چل رہی ہیں، سپارکو اور سروے آف پاکستان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ڈیجیٹائزیشن ہی اس کا حل ہے،45  موضعوں کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آڈٹ پیرا پر آئندہ اجلاس میں پراگریس دیں گے، سی ڈی اے کے اسٹاف کا بالکل قصور ہے، سی ڈی اے کے پاس 12 ہزار لوگ ہیں۔

اس موقع پر رکن کمیٹی رانا قاسم نون نے کہا کہ سب سے پہلے بحریہ ٹاؤن کو پک کر لیں، طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو لوگ ان سوسائٹیز میں انویسٹ کرتے ہیں ان لوگوں کا کیا قصور ہے، ون کانسٹیٹیوشن حکومت کے لیے نیا درد سر بنا ہوا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ لوگ سب کے سامنے انویسٹمنٹ کررہے ہیں، اب وہ درد سر بن گیا ہے، اسلام آباد تجربہ گاہ نہیں ہے کہ یہاں مختلف تجربے کیے جائیں۔

کمیٹی نے سی ڈی اے کو ماہانہ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔