اسلام آباد:
قومی اقتصادی کونسل کی جانب سے 3 جون کو آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 1.5 ٹریلین روپے مالیت کے لگ بھگ حجم کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس میں سالانہ منصوبے کی بھی منظوری دی جائے گی۔ اس سے قبل سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) پی ایس ڈی پی اور سالانہ منصوبے کی منظوری دے گی جس کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور صوبوں کی جانب سے اپنی اپنی ترجیحات کے تناظر میں پی ایس ڈی پی اور سالانہ منصوبے میں فنڈز کی ڈیمانڈ کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 3 جون کو وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہونے کا امکان ہے۔ اجلاس میں چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ اور وزراء خزانہ سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے حکام شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا ابتدائی حجم 1126 ارب روپے تجویز کیا گیا تھا جسے وزارتِ خزانہ نے بجٹ حد کے طور پر مقرر کیا تھا تاہم صوبوں اور وفاق کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ڈیمانڈ کے تناظر میں اب پی ایس ڈی پی کا مجوزہ حجم 1.5 ٹریلئن کے لگ بھگ ہوگیا ہے اور ابھی بھی یہ رقم وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے طلب کیے گئے 2900 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہے۔
ذرائع کے مطابق مجموعی ترقیاتی پروگرام میں سے تقریباً 70 ارب روپے ارکانِ پارلیمنٹ کی پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) اسکیموں کے لیے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی ہے کہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں ان شعبوں کو ترجیح دی جائے جن کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے۔ اس سلسلے میں ریلوے، آئی ٹی اور پاور ڈویڑن کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ ان شعبوں میں جاری اصلاحات اور ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے تقریباً 286 نئے اور جاری منصوبوں کے لیے 4 ہزار ارب روپے سے زائد کے فنڈز طلب کیے ہیں تاہم حکومت کی توجہ نئے منصوبوں کے بجائے اہم جاری اسکیموں کی بروقت تکمیل اور ان کے لیے مالی وسائل کی مسلسل فراہمی پر مرکوز ہے اور قومی اہمیت کے حامل بڑے آبی ذخائر اور پن بجلی منصوبے بدستور حکومتی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔
ذرائع کے مطابق داسو، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں بھی نمایاں فنڈز مختص کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ حکومت انہیں توانائی، پانی ذخیرہ کرنے اور زرعی ضروریات کے تناظر میں ناگزیر قرار دے رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) اور قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس اب جون کے اوائل میں متوقع ہیں اور تین جون کو متوقع قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی، سالانہ منصوبے اور ترقیاتی فریم ورک کی منظوری دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کا اعلان بھی جون 2026 کے پہلے عشرے میں کیے جانے کا امکان ہے۔