سنئیر سول جج غربی نے شدید بارشوں کے دوران اورنگی ٹاؤن نالے میں گر شہری کی ہلاکت کے دعوی پر ٹی ایم سی اورنگی ٹاؤن کو متوقی کے اہلخانہ کو ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیدیا۔
سنئیر سول جج غربی نے شدید بارشوں کے دوران اورنگی ٹاؤن نالے میں گر شہری کی ہلاکت کے دعوی کا فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے حادثے کا زمہ دار ٹی ایم سی اورنگی کو قرار دیدیا۔ عدالت نے ٹی ایم سی اورنگی ٹاؤن کو متوقی کے اہلخانہ کو ڈیڑھ کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیدیا۔
عدالت نے کے ایم سی کو واقعے سے بری الزمہ قرار دیدیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ متوفی حادثے کے وقت جوان اور غیر شادی شدہ تھا۔ مقتول کے پاس بڑی عمر باقی تھی اور کسی بیماری میں بھی مبتلا نہیں تھا۔ ٹی ایم سی کی وجہ سے متوفی کی قیمتی زندگی چھن گئی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی مشاہداتی نظام کے دور میں جو بارش کی مقدار کی درست پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
متعلقہ حکام کی یہ نااہلی اور ناکامی ہے کہ انہوں نے پیشگی اقدامات نہ کیے اور خطرناک مین ہول کو بند نہ کیا۔ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن اپنی غفلت اور لاپرواہی پر مبنی رویّے کے باعث اس ناگہانی موت میں بنیادی ذمہ دار قرار ہے۔
اہلخانہ کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف دیا تھا کہ 26 جولائی 2020 کو ہونے والی شدید بارشوں متوفی عارف قریشی گھر واپس آرہا تھا کہ نالے میں گر گیا تھا۔ انتظامیہ کی غفلت اور نا اہلی کی وجہ سے نالے کی نامناسب دیکھ بھال اور کور نہیں تھا۔
نالے میں گرنے سے متوفی شدید زخمی ہوکر جان بحق ہوگیا۔ ٹی ایم سی کے وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ درخواستگزار کے الزامات غلط ہیں کیس قابل سماعت نہیں ہے۔ بارشوں میں تمام حفاظتی اقدامات کیئے گئے تھے۔