پنکی کے 16 بینک اکاؤنٹ ملے، معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف جارہا ہے، سندھ پولیس کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

پنکی اے این ایف کو 2019ء سے مطلوب تھی تو اسے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ سینیٹر سیف اللہ ابڑو


فوٹو: فائل

اسلام آباد:

آئی جی سندھ پولیس نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا ہے کہ ابھی تک پنکی کے 16 بینک اکاؤنٹس ملے ہیں، اس کے ایک اکاؤنٹ سے 90 لاکھ روپے نکلے، اس کا معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف بھی جارہا ہے۔

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس نے انمول پنکی کے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس نے بتایا کہ یہ 2008ء میں لاہور آئی جہاں یہ ماڈلنگ کرنا چاہتی تھی، پہلا شوہر رانا ناصر تھا جو کہ ڈرگ ڈیلر تھا، پھر اس نے طلاق لے کر سی آئی اے کے افسر سے شادی کرلی، یہ خاتون اور اس کے بھائی منشیات فروش ہیں، یہ لاہور سے سیٹ اپ چلاتی تھی، خواتین کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی،2021ء سے 2026ء تک اس کے خلاف 17 کیسز بنے، پنجاب میں اس پر پانچ کیسز ہیں، اس کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہوئی، یہ معاملہ کافی پھیل رہا ہے، 2019ء میں ایک کیس میں اس کا پاسپورٹ بلاک ہوگیا تھا اس نے بعد میں دوسرا پاسپورٹ بنوانے کی کوشش کی۔

ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ انمول پنکی کے خلاف سندھ پولیس اور وفاقی ادارہ کام کررہے تھے، انمول کو 12 مئی کو آپریشن کے دوران گارڈن کے علاقے سے گرفتار کیا گیا، گرفتاری کے دوران کوکین اور اسلحہ برآمد ہوا، ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا جیسے اس کی پیشی ہوئی وہ ہائی لائٹ ہوا، عدالت پیشی پر ہمیں ریمانڈ نہیں ملا، کراچی میں منشیات کا عادی شخص مر گیا، اس سے برآمد ہونی والی ڈبی پر انمول پنکی برانڈ اس کی تصویر تھی، اس معاملے میں ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو معطل کیا۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس بتایا کہ ابھی تک پنکی کے 16 بینک اکاؤنٹس ملے ہیں، اس کے ایک اکاؤنٹ سے 90 لاکھ روپے نکلے، اس کا معاملہ منی لانڈرنگ کی طرف بھی جارہا ہے، اس کے کانٹیکٹس اسلام آباد میں بھی ہیں، ہم پنجاب پولیس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کے ساتھ مل کر بھی اس معاملے پر بات کریں گے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پوچھا کہ پنکی  خام مال کہاں سے خرید رہی تھی؟ کہاں بیٹھ کر بنا رہی تھی اور کن کن لوگوں کو سپلائی کررہی تھی؟ وہ اے این ایف کے پرچے میں 2019ء سے مطلوب تھی تو آپ نے اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟ میں پورے ملک میں صرف سرکار کو بدمعاش سمجھتا ہوں، جو بدمعاشی کرے گا تو سرکاری مشینیری حرکت میں آئے گی۔

اے این ایف حکام نے کہا کہ ہمارے پاس انمول کا کیس 2019ء میں بنا تھا ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک تھا، ابھی یہ سندھ پولیس کی تحویل میں ہے۔

اجلاس میں سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات پر گرما گرم بحث بھی ہوئی جہاں غیرت کے نام پر قتل، میٹرو بس سروس، افغان مہاجرین، کچی آبادیوں اور سمیت اہم معاملات زیر بحث آئے۔

اجلاس میں سینیٹر ثمینہ زہری کا کرمنل لاء ترمیمی بل دو ہزار چھبیس منظور کر لیا گیا۔ ثمینہ زہری نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کی اجازت ختم ہونی چاہیے اور کاروکاری مقدمات میں جرگوں کو عدالت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

اجلاس میں اسلام آباد میٹرو بس سروس سے متعلق بل پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر سرمد علی نے سی ڈی اے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میٹرو بس ایک سال سے بغیر واضح قانون کے چل رہی ہے، جبکہ کمیٹی ارکان نے سی ڈی اے حکام کی تیاری پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر بھی احتجاج کیا گیا، جبکہ افغان مہاجرین، شناختی دستاویزات اور راولپنڈی پولیس سے متعلق معاملات پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔

کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن، غیر قانونی ہوٹلز اور تجاوزات کے معاملات پر سی ڈی اے حکام کو تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔