تائیوانی صدر سے ملاقات کی خواہش؛ چین سے واپسی پر ٹرمپ نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا

میں سب سے بات کرتا ہوں اور ہم تائیوان کے مسئلے پر بھی کام کریں گے، امریکی صدر


ویب ڈیسک May 21, 2026
چین کے دورے سے واپسی پر صدر ٹرمپ کی تائیوانی ہم منصب سے ملاقات کی خواہش۔ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کے صدر لائی چینگ تی سے براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ کانگریس سے منظور شدہ تائیوان کے لیے 14 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے پر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے صدر لائی سے بات کریں گے؟

اس پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں ان سے بات کروں گا، میں سب سے بات کرتا ہوں۔ ہم اس صورتحال کو بہت اچھی طرح سنبھال رہے ہیں اور ہم تائیوان کے مسئلے پر بھی کام کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات اس وقت کی ہے جب وہ حال ہی میں چین کے سرکاری دورے سے لوٹے ہیں جسے انھوں نے کامیاب دورہ قرار دیا تھا اور اس وقت روسی صدر بیجنگ میں موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ کی ملاقات کی اس خواہش امریکا اور تائیوان کے تعلقات میں ایک غیرمعمولی پیش رفت اور سفارتی روایات سے بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 1979 میں امریکا کی جانب سے تائی پے کے بجائے بیجنگ کو چین کی واحد قانونی حکومت تسلیم کرنے کے بعد سے کسی امریکی صدر اور تائیوانی صدر کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہوا۔

تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کی تائیوانی ہم منصب کے ساتھ رابطے یا ملاقات کے بارے میں کوئی باضابطہ منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جنپنگ نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ اگر تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں سنبھالا گیا تو یہ انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ چین ہمیشہ سے تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا آیا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے بھی تائیوان کو چین کے ساتھ ملا لے گا۔

اگر ٹرمپ واقعی تائیوانی صدر سے براہِ راست رابطہ کرتے ہیں تو اس سے امریکا اور چین کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

2016 میں بھی جب ٹرمپ پہلے بار صدر بنے تھے تو انھوں نے اس وقت کی تائیوانی صدر تسائی سے فون پر بات کرکے کئی دہائیوں پر محیط سفارتی روایت توڑ دی تھی جس پر چین نے سخت احتجاج کیا تھا۔

دوسری جانب صدر لائی چنگ تی نے اپنے عہدے کے دو سال مکمل ہونے پر کہا کہ امریکا کے ساتھ رابطے ہمیشہ کھلے ہیں اور اگر صدر ٹرمپ سے بات کرنے کا موقع ملا تو وہ یہی کہیں گے کہ ان کی حکومت آبنائے تائیوان میں موجودہ صورتحال برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

انھوں نے چین پر خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا سے اسلحہ خریدنا تائیوان کے دفاع کے لیے ضروری ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ یہ تعاون جاری رہے گا۔

جس پر چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے صدر لائی پر الزام لگایا کہ وہ بیرونی طاقتوں کے سہارے تائیوان کی آزادی کے خواب دیکھ رہے ہیں اور تائیوان کے چین کا حصہ ہونے کی بنیادی حقیقت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔