کسی ملک کو آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس لینے نہیں دیں گے؛ صدر ٹرمپ

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو آزاد اور محفوظ دیکھنا چاہتا ہوں، امریکی صدر


ویب ڈیسک May 21, 2026
ایران کے پاس بہت تھوڑا وقت باقی بچا ہے، جلد امن معاہدہ کرلے؛ ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو ’’آزاد بین الاقوامی آبی گزرگاہ‘‘ کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور وہاں کسی قسم کے ٹول یا فیس کی حمایت نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ممکنہ ٹول عائد کرنے کی تجویز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے محتاط انداز میں جواب دیا کہ ہم اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو ایک آزاد اور محفوظ آبی گزرگاہ کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں کسی جہاز سے ٹول ٹیکس لیا جائے اور نہ کوئی فیس عائد کی جائے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو اس وقت آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور امریکی بحری ناکہ بندی سو فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ کوئی بھی اس فولاد کی دیوار کو عبور نہیں کرسکا۔

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

ایرانی حکام اس سے پہلے اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادی ایران پر دباؤ بڑھاتے رہے تو تہران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں یا ٹول عائد کرنے جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جس کے باعث دنیا کو تیل و گیس کی ترسیل رک گئی اور پیٹرول کی قلت ہورہی ہے جس کے باعث قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہو رہا ہے۔