ہم مذاکرات چاہتے ہیں، اس فیصلے کو کمزوری نہ سمجھا جائے، قائد حزب اختلاف

اگر اس ملک کو چلانا ہے تو ضروری ہے کہ بات چیت ہو، یہ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، علامہ راجا ناصر عباس


اسامہ اقبال May 21, 2026
فوٹو: اسکرین گریب

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ مذاکرات کا فیصلہ کرنے کو کمزوری نہ سمجھا جائے جبکہ سیاسی بحران دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ عوام کے اوپر اتنا بوجھ ڈالا جا رہا ہے کہ ملک نہیں چل پا رہا، مذاکرات کا مقصد ملک کو ٹریک پر لانا ہے، پاکستان میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی قیدی سارے کے سارے بے گناہ ہیں، ان کو رہا کرنا چاہیے، کیا پاکستان میں آپ اختلاف رائے نہیں رکھ سکتے۔

راجا ناصر عباس نے کہا کہ ہمارے ہاں قرآن، دین، انیبا اور اولیا مقدس ہیں، لیڈران نہیں ہیں، یہاں تو آدمی بات بھی نہیں کر سکتا، اگر اس ملک کو چلانا ہے تو ضروری ہے کہ بات چیت ہو، یہ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اپوزیشن چیمبر کے چمبر میں آجائیں، کیا ملک کو بحران سے نکالنا وزیراعظم کی ذمہ داری نہیں ہے؟ ہم ملک کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں مگر عزت کے ساتھ ہونے چاہئیں۔