راقم نے اپنے ایک شائع ہونے والے کالم میں میڈیا پر تنقید کرنے والے ماہرین اور مفکرین کے خیالات کا جائزہ پیش کیا تھا، آج کے کالم میں میڈیا کے مخفی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے کہ میڈیا کے حوالے سے اب تک کون سی تھیوریز منظر عام پر آئی ہیں اور ان میں کیا حقائق پنہاں ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیا ہمیشہ ایک ہی طرح اثر انداز نہیں ہوا۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات کو سمجھنے کے زاویے بھی بدلتے گئے، اس کے خطرناک پہلو بھی سامنے آتے گئے اور یہی تبدیلی ہمیں میڈیا تھیوریز کے ارتقاء میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔1970 سے پہلے اور 1970کے بعد کا زمانہ دراصل میڈیا فہم کی دو مختلف دنیاؤں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک طرف سادہ، خطی اور براہ راست اثرات کا تصور تھا اور دوسری طرف پیچیدہ، نفسیاتی اور سماجی عوامل پر مبنی جدید نظریات کا آغاز۔یہ محض اکیڈمک بحث نہیں بلکہ ایک ایسا فکری سفر ہے جس نے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ انسان میڈیا کو دیکھتا ہے یا میڈیا انسان کو دیکھتا ہے۔
1970 سے پہلے: سادہ مگر طاقتور مفروضے
ابتدائی دور میں میڈیا کو ایک ایسی قوت سمجھا جاتا تھا جو براہ راست انسانی ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے۔ گویا ایک تیر چلایا گیا اور وہ سیدھا نشانے پر لگ گیا۔ اسی تصور کو’’میجک بُلٹ تھیوری‘‘کہا گیا۔اس نظریے کے مطابق میڈیا کا پیغام ایک ہی وقت میں ہر فرد کے ذہن میں داخل ہو جاتا ہے اور تقریباً یکساں ردعمل پیدا کرتا ہے۔ اس دور میں معاشرے کو نسبتاً غیر فعال تصور کیا جاتا تھا، جہاں افراد میڈیا کے پیغامات کو بغیر سوال کیے قبول کر لیتے تھے۔
یہ تصور خاص طورپر جنگی پروپیگنڈے اور ابتدائی اخباری و ریڈیو دور میں بہت مضبوط تھا، لیکن وقت نے جلد ہی ثابت کیا کہ انسانی ذہن اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھا گیا تھا۔جب تحقیق نے گہرائی اختیار کی تو یہ خیال سامنے آیا کہ میڈیا کا اثر براہ راست نہیں بلکہ بالواسطہ ہوتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں ٹو اسٹیپ فلو تھیوری نے جنم لیا، جس کے بانیوں میں پال لازارسفیلڈ اور ایلی ہو کاٹز شامل ہیں۔
اس نظریے کے مطابق میڈیا پہلے ’’ او پینئن لیڈر‘‘ یعنی ’’رائے عامہ کے رہنما‘‘ تک پہنچتا ہے اور پھر یہ رائے عام لوگوں تک منتقل ہوتی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ معاشرہ ایک ہموار سطح نہیں بلکہ مختلف سماجی طبقات اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد کا مجموعہ ہے۔یہ نظریہ میڈیا کے اثرات کو یکدم ختم نہیں کرتا بلکہ انھیں سماجی فلٹرز کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی دور میں مزید تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ لوگ میڈیا کو غیر فعال انداز میں نہیں لیتے بلکہ اپنی ذہنی ساخت اور دلچسپی کے مطابق انتخاب کرتے ہیں۔ اسے ’’ سیلیکٹیو پروسس‘‘ کہا گیا۔اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ’’ لیمیٹڈ ایفیکٹس تھیوری‘‘سامنے آئی، جس نے یہ دعویٰ کیا کہ میڈیا کا اثر محدود ہوتا ہے۔ اس کے مطابق افراد زیادہ تر اپنے ذاتی تجربات، خاندان اور سماجی تعلقات سے متاثر ہوتے ہیں، نہ کہ صرف میڈیا سے۔یہ ایک اہم فکری موڑ تھا کیونکہ اس نے میڈیا کو ’’طاقتور بادشاہ ‘‘کے درجے سے نیچے لا کر ایک’’محدود اثر رکھنے والے عنصر‘‘کے طور پر دیکھا۔
اس دور میں ایک اور اہم تصور’’سوشل لرننگ تھیوری‘‘ کا تھا، جس کے مطابق انسان مشاہدے کے ذریعے سیکھتا ہے۔ میڈیا میں دکھائے گئے کردار، رویے اور طرز عمل ناظرین کے ذہن پر اثر ڈالتے ہیں اور وہ انھیں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح ’’ ڈیفیوژن آف اینو ویشن تھیوری‘‘ نے یہ سمجھایا کہ نئی معلومات یا ٹیکنالوجی معاشرے میں ایک خاص ترتیب سے پھیلتی ہے: پہلے چند افراد، پھر آہستہ آہستہ اکثریت تک۔یہ تمام نظریات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ میڈیا کا اثر یکساں اور فوری نہیں بلکہ تدریجی اور سماجی عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔
1970 کے بعد : فکری انقلاب کا آغاز
1970 کے بعد میڈیا تحقیق میں ایک بنیادی تبدیلی آئی۔ ٹیلی ویژن کا پھیلاؤ، عالمی رابطوں میں اضافہ اور سماجی پیچیدگی نے نئے سوالات پیدا کیے۔ اب میڈیا کو صرف پیغام رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی حقیقت کی تشکیل کرنے والا ادارہ سمجھا جانے لگا۔ یہاں سے جدید میڈیا تھیوریز کا آغاز ہوا ،جنھوں نے میڈیا کے اثرات کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کی۔
جارج گربنر کی پیش کردہ ’’ کلٹیویشن تھیوری‘‘ نے میڈیا فہم میں ایک نیا باب کھولا۔اس نظریے کے مطابق زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنے والے افراد آہستہ آہستہ دنیا کو ویسا ہی سمجھنے لگتے ہیں جیسا میڈیا دکھاتا ہے۔ یعنی میڈیا حقیقت کو ’’پیدا‘‘ نہیں کرتا مگر حقیقت کے تصور کو ضرور بدل دیتا ہے۔مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مسلسل کرائم ڈرامے دیکھے تو وہ دنیا کو زیادہ خطرناک تصور کرنے لگتا ہے۔ اسی رجحان کو Mean World Syndrome کہا جاتا ہے،یہ نظریہ میڈیا کے طویل المدتی اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔
میکسویل میک کومبس اور ڈونلڈ شا نے ’’ ایجنڈا سیٹنگ تھیوری‘‘ پیش کی، جس نے میڈیا کی طاقت کو ایک نئے زاویے سے دیکھا۔اس نظریے کے مطابق میڈیا یہ نہیں بتاتا کہ لوگوں کو کیا سوچنا چاہیے، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ انھیں کس بارے میں سوچنا چاہیے، یعنی اگر میڈیا مسلسل مہنگائی، کرپشن یا سیاست کو نمایاں کرے تو عوام بھی انھی موضوعات کو اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ اس طرح میڈیا ایجنڈا تشکیل دیتا ہے۔یہ نظریہ جدید جمہوری معاشروں میں میڈیا کے کردار کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایلیہو کاٹز نے ایک اور اہم نظریہ ’’یوزز اینڈ گریٹی فیکیشن‘‘ کی صورت میں پیش کیا، جو پہلے تصورات سے بالکل مختلف تھا۔اس کے مطابق لوگ میڈیا کے ’’متاثر‘‘نہیں بلکہ ’’فعال استعمال کنندہ‘‘ ہیں۔ ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق میڈیا کا انتخاب کرتا ہے۔کوئی خبر کے لیے دیکھتا ہے، کوئی تفریح کے لیے اور کوئی سماجی تعلق کے لیے۔ اس نظریے نے انسانی خودمختاری کو میڈیا تحقیق کا مرکز بنا دیا۔
ایلیزابت نوئلے-نویمان نے ’’اسپئرل آف سائلنس تھیوری‘‘ پیش کی، جو معاشرتی دباؤ کی نفسیات کو واضح کرتی ہے۔اس کے مطابق لوگ اپنی رائے ظاہر کرنے سے اس وقت ہچکچاتے ہیں جب انھیں لگے کہ وہ اقلیت میں ہیں۔ میڈیا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ کون سی رائے غالب ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مخالف رائے رکھنے والے افراد خاموش ہو جاتے ہیں، اور غالب رائے مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔یہ نظریہ آج کے سوشل میڈیا ماحول میں بھی انتہائی معقول لگتا ہے۔
ایک اور اہم تھیوری سینڈرا بال۔روکیچ اور میلون ڈی فلیور نے ’’ میڈیا ڈیپنڈینسی‘‘ پیش کی۔اس نظریے کے مطابق جتنا زیادہ افراد میڈیا پر انحصار کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ میڈیا ان پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خاص طور پر بحران کے وقت یہ اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔یہ نظریہ میڈیا کو ایک dependency systemکے طور پر دیکھتا ہے، جہاں معاشرہ معلومات کے لیے میڈیا پر انحصار کرتا ہے۔اگر 1970 سے پہلے کے نظریات کو دیکھا جائے تو وہ زیادہ تر سادہ، خطی اور محدود اثرات پر مبنی تھے۔
ان میں میڈیا کو ایک طاقتور مگر براہ راست اثر ڈالنے والا ذریعہ سمجھا گیا لیکن 1970 کے بعد کے نظریات نے تصویر کو مکمل بدل دیا۔ اب میڈیا کو ایک سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی نظام کے طور پر دیکھا جانے لگا۔نیا سوال یہ نہیں رہا کہ میڈیا کیا کرتا ہے، بلکہ یہ ہو گیا کہ میڈیا کیسے معنی پیدا کرتا ہے۔آج جب ہم سیٹلائٹ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں کھڑے ہیں تو یہ نظریات مزید اہم ہو جاتے ہیں، کیونکہ اب میڈیا صرف ایک ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ماحول (environment) بن چکا ہے۔ میڈیا تھیوریز نے یہ راز کھولا ہے کہ حقیقت صرف وہ نہیں جو ہم دیکھتے ہیں، بلکہ وہ بھی ہے جو ہمیں دکھایا جاتا ہے اور جسے ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔
1970 سے قبل کا دور سادگی کا دور تھا، جب کہ 1970 کے بعد کا دور پیچیدگی اور شعور کا دور ہے اور شاید یہی میڈیا فہم کا اصل ارتقاء ہے۔ایک مسلسل بدلتا ہوا آئینہ، جو کبھی حقیقت دکھاتا ہے اور کبھی حقیقت کو تشکیل دیتا ہے۔