امریکا نے وینزویلا اور ایران کے بعد کس ملک کو نشانے پر لے لیا؟ فوجی کارروائی کی تیاری

اس صورت حال میں ان کے ساتھ پُرامن معاہدے کے امکانات زیادہ روشن نہیں، وزیر خارجہ مارکو روبیو


ویب ڈیسک May 22, 2026
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد ہی عمان میں شروع ہوگا

وینزویلا اور ایران کے بعد اب امریکا نے کیوبا کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے کیوبا خطرہ بن چکا ہے اور اس صورت حال میں ان کے ساتھ پُرامن معاہدے کے امکانات زیادہ روشن نہیں۔

ان خیالات کا اظہار مارکو روبیو نے سویڈن روانگی سے قبل صحافیوں سے میں گفتگو کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے تاہم جن لوگوں سے ہمارا سامنا ہے ان کے ہوتے ہوئے مثبت پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔

خیال رہے کہ آج بھی جب صحافیوں نے مارکو روبیو سے پوچھا کہ امریکا راول کاسترو کو کیسے گرفتار کرے گا تو انھوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

اسی دوران امریکی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ امریکی حکام نے فلوریڈا میں ایک خاتون کو حراست میں لیا ہے جو کیوبا کی فوجی کاروباری تنظیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی بہن بتائی جاتی ہیں۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ گرفتار خاتون امریکا میں رہتے ہوئے کیوبا کی حکومت کی معاونت کر رہی تھیں جس پرانھیں ملک بدر کردیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کو خطے میں دہشت گردی کے بڑے سرپرستوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک کو کسی بھی خطرے سے بچانے کا مکمل حق حاصل ہے۔

دوسری جانب کیوبا کے وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیوبا نے کبھی امریکا کے لیے خطرہ پیدا نہیں کیا بلکہ الٹا امریکا مسلسل کیوبا کے خلاف ظالمانہ اور منظم مہم چلا رہا ہے۔

انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امریکا ان کے ملک (کیوبا) کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ماحول بنا رہا ہے جیسا کہ حال ہی میں دوسرے ممالک میں امریکا نے کیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز امریکا نے کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر 1996 میں دو امریکی طیارے مار گرانے کے الزام میں فرد جرم عائد کی تھی۔

امریکا کے قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے کہا کہ امریکا کو توقع ہے کہ راول کاسترو اپنی مرضی سے یا پھر کسی اور طریقے سے امریکی عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کیوبا کو ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت انسانی بنیادوں پر کیوبا کے عوام کی مدد کرنا چاہتی ہے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ کیوبن نژاد امریکی اپنے وطن واپس جا کر ملک کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی صدور کیوبا کے مسئلے کو حل نہ کر سکے تاہم ممکن ہے یہ کام اب میں کروں۔

واضح رہھے کہ امریکی پابندیوں اور تیل کی قلت کے باعث پہلے ہی کیوبا شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ جہاں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے جبکہ حالیہ مہینوں میں طویل بجلی بندشوں اور خوراک کی کمی نے عوامی مشکلات بڑھا دی ہیں۔