بنگلادیش کے علاقے پیروج پور کے ایک مدرسے میں جنسی زیادتی کے الزام میں استاد کو معطل کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مدسے کی انتظامیہ نے شکایات سامنے آنے پر استاد کے خلاف تحقیقات کا آغاز تھا جس میں الزامات درست پائے گئے۔
توگرہ دارالاسلام کامل مدرسہ کے پرنسپل نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ بدفعلی کے ثبوت ملنے کے بعد مدرسہ کی انتظامی کمیٹی نے محدث 46 سالہ کوثر حسین کو معطل کر دیا ہے۔
ایک مدرسے کے ایک استاد کو یہ الزامات سامنے آنے کے بعد معطل کر دیا گیا ہے کہ اس نے مرد طالب علموں کے ساتھ جنسی زیادتی کی، مینیجنگ کمیٹی نے اندرونی تحقیقات کے بعد کارروائی کی۔
مدرسے کی انکوائری کمیٹی کا کہنا ہے کہ اپنی تحقیقات اور فیصلے سے اسلامک یونیورسٹی اتھارٹی کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے اور اگلا فیصلہ وہی کریں گے۔
حال ہی میں ایک ویڈیو لیک ہوئی تھی جس میں استاد کو مدرسہ کیمپس کے ایک کمرے کے اندر طالبعلم کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مدرسہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ گزشتہ سال کے آخر میں پیش آیا جب متاثرہ طالبعلم مبینہ طور پر نجی اسباق کے لیے استاد کوثر حسین کے پاس گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس بیہودہ عمل کی ویڈیو کمرے کے باہر موجود کسی شخص نے بنائی اور وائرل کردی۔
یہ معاملہ پہلی بار گزشتہ سال دسمبر میں مدرسہ حکام کے علم میں آیا تھا جس پر تحقیقات کے لیے رواں سال فروری میں 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
مدرسہ کے ایک اسسٹنٹ ٹیچر اور تحقیقاتی کمیٹی کے رکن محمد سیف عالم نے کہا کہ انکوائری سے غلط کام کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان نے ایک سے زائد لڑکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی جرم کیا ہے۔ کم از کم مزید دو بچوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ استاد کوثر حسین گزشتہ سال دسمبر کے وسط سے مدرسہ سے غائب ہے جب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر سامنے آیا تھا۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ملزم کوثرحسین سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا کیونکہ موبائل فون بند جا رہا ہے اور گھر پر تالا ہے۔