گوشت کی فریزر میں جگہ تو ہے پر غریب کے لیے نہیں

قربانی کے ان دنوں میں جب ایک غریب پھٹے پرانے کپڑے پہنے ٹوٹی ہوئی چپل پہن کر کسی بنگلے کے گیٹ پر دستک دیتا ہے



قربانی کا مذہبی فریضہ انجام دینے کے بعد اگر ہم شریعت کے اصولوں اور گوشت کی تقسیم کو معاشی و فلاحی پیمانے کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو ایک سنہرا اصول جو طے کیا گیا وہ سامنے آتا ہے جس میں غریبوں کی فلاح و بہبود اور معاشی خوشحالی غریبوں کی دل جوئی کے راز بھی پوشیدہ ہیں، وہ اعلان ہے تین برابر حصے کرنے کا۔ ایک حصہ اپنے لیے، ایک سفید پوش رشتہ داروں کے لیے، ایک ان غریبوں کے لیے جن کے گھروں میں سال بھر مٹھی بھر دال کو دیگچی میں پانی بھر کر چڑھا دیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ گزشتہ برس 74 لاکھ 18 ہزار جانوروں کی قربانی دی گئی تھی۔ اس سال بھی قربانی کے موقع پر لاکھوں جانور ذبح ہوں گے اور ہر قربانی کے تین مساوی حصے کرکے دو حصے یعنی دو تہائی سفید پوش رشتہ داروں معاشرے کے غریب لوگوں میں بانٹ دیا جائے، تو ملک کے کروڑوں غریب خاندانوں کی ہانڈیوں میں کئی دنوں تک قربانی کا گوشت پک سکتا ہے، کروڑوں بچے جو غذائی قلت کا شکار ہیں ان تک پروٹین پہنچ سکتا ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی اور انصاف پر مبنی تقسیم کرکے روحانی سکون حاصل کر لیتے۔ لیکن جدید دور نے جہاں انسان سے اس کا سکون چھین لیا گیا، وہاں اسے ’’ڈی فریزر‘‘ جیسی ایسی مشین دے دی گئی جو انسانی بخل کو طویل العمری عطا کرتی ہے جس کے باعث اب سالم بکرا، گائے اونٹ کا سارا گوشت محفوظ کرنے کے لیے کہیں ایک کہیں دو اور کہیں تین ڈی فریزر سجا لیے جاتے ہیں، ان مشینوں کے جب دروازے گوشت بھر کر جیسے ہی بند کر لیتے ہیں، ان پر بخل کا تالا لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دل بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے، اگرچہ ایسا ہر کوئی تو نہ کرتا ہوگا لیکن بہت سے لوگ اس گوشت کی بوٹیاں بنا کر پلاسٹک کی شفاف تھیلیوں ’’مارکر‘‘ سے کچھ یوں لکھ رہے ہوتے ہیں۔تکہ، کڑاہی،قورمہ، کباب، پائے وغیرہ وغیرہ لکھ کر فریزر میں سجا کر ہاتھ جھاڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں، لو جی چھٹی ہو گئی 4 ماہ، 6 ماہ، 8 ماہ تک گوشت خریدنے کی۔

قربانی کے ان دنوں میں جب ایک غریب پھٹے پرانے کپڑے پہنے ٹوٹی ہوئی چپل پہن کر کسی بنگلے کے گیٹ پر دستک دیتا ہے، کوئی اسے تھوڑا سا گوشت دے دیتا ہے، کوئی منع کر دیتا ہے، اگر کسی غریب کے حصے میں جس طرح کا گوشت آتا ہے اس کے بارے میں مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ ایک یا دو چھوٹی بوٹیاں، دو چار ہڈیاں یا کوئی سخی ہوا تو چربی بھی دے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، یہ بات سن کر دل دہل جاتا ہے۔ اب آپ خود دیکھیں کہ خدا کے نام پر اس غریب کو دے کر اس پر کوئی احسان کرتے ہیں کہ وہ بھی انتہائی ممنون و شکر گزار ہو کر اسے نعمت سمجھ کر قبول کر لیتا ہے۔

کچھ ایسے بھی ہیں جو بڑی فراخ دلی کے ساتھ گوشت بانٹتے ہیں۔ وہی سکون پاتے ہیں لیکن کچھ اس قسم کی دریا دلی کے مناظر بھی دیکھے گئے ہیں، اگر ’’افسر بالا‘‘ کے بنگلے پر بھیجنا ہو، کسی امیر ترین رشتے دار کے گھر بھیجنا ہو یا بیٹیوں کے سسرال بھیجنا ہو تو بکرے کی سالم ران، وہاں ہڈیوں کا نام نہیں ہوتا۔ اس قسم کا گوشت جو بڑے صاحب کی میز کی زینت بن سکے، جو پہلے ہی روزانہ بریانی، قورمہ، مرغن غذائیں کھا کھا کر دل کے اسپتال کا چکر لگاتا رہتا ہے۔ ایسے موقع پر وہ غریب رشتے دار جو شاید کسی کچی آبادی میں رہتا ہو، زیادہ تر کے ذہنوں کی اسکرین سے غائب ہی ہو جاتے ہیں۔

ہم قربانی تو کرتے ہیں، جانور ذبح کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے اندر کا بخل، گوشت کی ہوس وغیرہ کو ذبح کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ مقدس ایام صرف گوشت جمع کرنے کا سالانہ تہوار بن کر رہ گیا ہے،اگر قربانی کے گوشت کو فریزر میں قید کرنے کے بجائے دو تہائی کو غریب رشتے داروں اور غریب لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے تو یہ ’’غذائی سبسڈی‘‘ (Food Subsidy) پاکستان کا سب سے بڑا خودکار نظام بن جاتا ہے جو کسی سرکاری ریلیف پیکیج کے بغیر ملک کی اکثریت غریب آبادی کو ایک بڑا معاشی تحفظ (Social Safety net) فراہم کرتا ہے، اگر اسلامی اصولوں کے مطابق گوشت کی تقسیم کی جاتی ہے تو غریب خاندان کو 8 سے 10 کلو گوشت بھی مل سکتا ہے اور فریزر کے بغیر اس گوشت کو کسی طرح محفوظ کرتا ہے، وہ لوگ بخوبی اس ہنر کو جانتے ہیں۔

عید قرباں کا یہ مذہبی فریضہ امیر طبقے کی بچت کو رقم کی صورت میں دیہی عوام میں منتقل کر دیتا ہے جس سے کسان خوشحال ہو جاتا ہے اور پھر یہی خرچ کی گئی رقم قربانی کے گوشت کی صورت میں بڑی مقدار میں غریب شہریوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اسے مملکت کا وہ فلاحی نظام کہہ سکتے ہیں جس کے لیے حکومت کو کوئی رقم خرچ نہیں کرنا پڑتی اور نہ ہی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اب بہت سے افراد نے حالات بدل دیے ہیں۔ ان کی نظر میں قربانی کے گوشت کے لیے فریزر میں جگہ بہت ہوتی ہے، لیکن غریب رشتے دار غریب آدمی کے لیے ان کے دل میں جگہ نہیں ہے۔