پاکستان بھارت مذاکرات، ایک امید

کراچی میں آباد معمر شہری طفیل احمد خان بھارت کی ریاست یوپی کی تحصیل غازی پور کے گاؤں تیاری میں پیدا ہوئے۔



کراچی میں آباد معمر شہری طفیل احمد خان بھارت کی ریاست یوپی کی تحصیل غازی پور کے گاؤں تیاری میں پیدا ہوئے۔ طفیل احمد خان1948ء سے ہر سال اپنے گاؤں اور لکھنو جاتے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ گاؤں میں ان کے والدین کی قبریں ہیں اور رشتے داروں کے علاوہ بہت سے دوست ہیں۔ ان دوستوں میں ہندو بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 80ء کی دہائی میں ان کے دوست شورت شرما کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ’’ بیٹی کی شادی ہے فوراً آجائیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’وقت کم ہے لہٰذا نہیں آسکوں گا۔‘‘ دوست نے کہا ’’پھر ہم بیٹی کی شادی ملتوی کردیں گے۔‘‘ اس وقت کراچی میں بھارت قونصل خانہ ویزا دیتا تھا، یوں شام کو ویزہ مل گیا اور انہو ں نے شورت شرما کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی۔

طفیل احمد خان کا کہنا ہے کہ ان کے کئی دوستوں کا انتقال ہوگیا ہے اور کچھ زندہ ہیں۔ طفیل کہتے ہیں کہ انھیں اپنے گاؤں میں جتنی عزت ملتی ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ امیر غریب و عورتیں سب ملنے آتے ہیں اور کوئی نہ کوئی تحفہ لے کر آتے ہیں ۔کچھ تو دو امرود اور دو آم محبت کے ساتھ لاتے ہیں۔ طفیل کا کہنا ہے کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں۔ امید ہے کہ جلد حالات بہتر ہوجائیں گے اور وہ پھر ویزا کے لیے درخواست دیں گے اور ضرور اپنے گاؤں تیاری جائیں گے۔ یہ آواز صرف طفیل احمد خان کی نہیں بلکہ برصغیر بھارت و پاکستان کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کی ہے۔

Rashtiya Swayamsevak Sangh (RSS) ہندو انتہاپسند تنظیم ہے۔ اس کے بانی Keshan Baliram Hedgewar نے 1925ء میں یہ تنظیم قائم کی تھی۔ ایک اور ہندو دانشور اور سیاسی کارکن ساورکر نے ہندوستان کو ہندو دیش بنانے کا نعرہ دیا تھا۔ ساؤکر پہلا سیاست دان تھا جس کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں دو قومیں ایک ہندو اور دوسری مسلمان ہیں۔ ساؤکر کے نظریات کا اثر ہندوؤں کی انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس پر ہوا۔ برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی آر ایس ایس کا سیاسی فرنٹ ہے۔

گزشتہ سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جہازوں کی ہونے والی Dog Fighting اور ڈرون حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔نئی دہلی اور اسلام آباد میں دونوںممالک کے ہائی کمیشنر میں انتہائی محدود عملہ تعینات ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفیروں کا تبادلہ بھی نہیں ہوا ہے۔ تجارت بھی معطل ہے، فضائی اور زمینی رابطے منقطع ہیں۔

پاکستان نے تاریخ میںپہلی دفعہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو روکنے کے لیے سفارت کاری سے عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت میں بھی پاکستان سے بات چیت شروع کرنے کے بارے میں میڈیا پر مثبت آراء کا اظہار ہوا ہے ۔ ہندوؤں کی مذہبی انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کے رہنما Dattatreya Hosabale نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں بھارت پر زور دیا کہ پاکستان سے بات چیت کی کوشش کی جائے۔ Dattatreya Hosabale آر ایس ایس کی قیادت میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے لیے عوام کے عوام سے رابطوں کی بحالی ضروری ہے۔

بھارت میں کئی رہنماؤں نے آر ایس ایس کے رہنما کی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔ بھارت کی بری فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ منون نارائن نے آر ایس ایس کے سیکریٹری جنرل کے ان ریمارکس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ’’ بھارت اور پاکستان کے درمیان اب مذاکرات کی کھڑکی کھل جائے۔‘‘ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے اس تجویز کی حمایت میں یہ دلیل دی کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل صرف مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ بھارت کے زیرِکنٹرول کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداﷲ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی پاکستان کے ساتھ بات چیت کی حمایت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کا پہلا فائدہ کشمیر کے لوگوں کو ہوگا اور کشمیر کے دو حصوں کے بند راستوں کو کھول دیا جائے گا اور شہریوں کو کنٹرول لائن کے دونوں پار آنے جانے اور تجارت کی آزادی ہونی چاہیے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس اصولی مؤقف کا اظہار کیا کہ پاکستان بھارت سے بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اس دوران بھارت کے کرکٹ بورڈ اور I.C.C نے پاکستان کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ محسن نقوی کو بھارت کے شہر احمد آباد میں آئی سی سی کے بورڈ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے، اجلاس 30 اور 31 مئی کو ہوگا۔اسلام آبادکے ذرائع کہتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

بھارت اور پاکستان 15 اگست 1947ء سے قبل ایک ملک تھے۔ آزادی کی جدوجہد کی کامیابی کے بعد دونوں الگ ملک قائم ہوئے مگر برطانیہ کی سامراجی پالیسیوںکی بناء پر کشمیر کا مسئلہ الجھ کر رہ گیا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے دو بڑی جنگیں اور چار سے پانچ چھوٹی چھوٹی جنگیں ہوئیں۔ ان جنگوںکے بعد مذاکرات ہوئے اور مذاکرات کے ذریعے ہی اس خطے سے جنگ کے بادل کہیں اور چلے گئے۔ دسمبر 1971ء کی جنگ کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور 90 ہزار پاکستانی فوجی بھارت کی قید میں چلے گئے۔ اس کے علاوہ بھارت نے مغربی پاکستان کے 10 ہزار مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ 1972ء میں بھارت میں وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے ذریعے جنگی قیدی رہا ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل شروع ہوا۔ مئی 1976ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہائی کمیشن کے قیام پر اتفاق ہوا۔

بھارت سے سڑک اور ہوائی جہاز کے راستے کھل گئے اور محدود پیمانہ پر تجارت شروع ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنایا، اگرچہ اس زمانے میں سیاچین کا معاملہ ہوا مگر جنرل ضیاء الحق نے اس معاملے پر کوئی سخت ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ جب بے نظیر بھٹو پہلی دفعہ وزیر اعظم بنیں تو بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اسلام آباد آئے۔

میاں نواز شریف کے دورِ اقتدار میں بھارت کے وزیر اعظم واجپائی دوستی بس میں سوار ہو کر لاہور آئے اور مینارِ پاکستان پر پاکستان کی سالمیت کے عزم کا اظہار کیا مگر اس وقت کارگل پر ہونے والی جھڑپوں سے صورتحال پھر کشیدہ ہوئی، مگر جب پرویز مشرف خود صدر کے عہدے پر فائز ہوئے تو انھوں نے بھارت سے اچھے تعلقات کے لیے کوششیں شرو ع کیں، وہ واجپائی سے بات چیت کے لیے آگرہ گئے مگر Cross Border Terrorist کے مسئلے پر اتفاق رائے نہ ہونے سے یہ تاریخی موقع ضایع ہوگیا مگر بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد جنرل مشرف کی پالیسی تبدیل ہوگئی۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ۔

دوسری جانب بھارتی فوج نے روزانہ ہونے والی گولہ باری کو بند کردیا۔ سری نگر سے مظفر آباد بس چلنے لگی اور کشمیر کے دو حصوں کے درمیان تجارت شروع ہوگئی۔ جب بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے بھارت کے آئین میں ترمیم کی تو تحریک انصاف کی سابقہ حکومت اس بارے میں عالمی رائے عامہ کو تو ہموار نہ کرسکی البتہ بھارت سے تعلقات تقریباً ختم کردیئے۔

 پلوامہ میںدہشت گردی کے واقعے اور بھارت اورپاکستان کی فضائیہ کے درمیان جھڑپوں اور بھارت کے 6 طیاروں کے گرائے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات پھر انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں جس کا نقصان صرف دونوں ممالک میں آباد منقسم خاندانوں کو بھی ہو رہا ہے۔ بھارت کی بری فوج کے سربراہ نے گزشتہ دنوں ایک نفرت آمیز بیان دیا۔ خارجہ امور کے ماہر سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ بھارت کے نظام میں فوج کے سربراہ کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، وہاں پالیسی بیان وزیر خارجہ بیان کرتے ہیں اور آر ایس ایس کے سیکریٹری جنرل کے بیان کی اس لیے اہمیت ہے کہ آر ایس ایس ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسی تیار کرتی ہے۔

 امریکا کے صدر ٹرمپ گزشتہ ہفتہ چین کے دورہ پر گئے۔ انھوں نے چین کے صدر سے طویل مذاکرات کیے۔ اگرچہ ان مذاکرات کے بارے میں زیادہ حوصلہ افزاء خبریں نہیں آئیں ،اس کے باوجود دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ہونا عالمی امن کے لیے نیک شگون ہے۔

امریکا، چین کو مستقل تنہا کرنے کی کوشش کررہا ہے اور کئی دفعہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خاص خراب ہوجاتے ہیں۔ چین کے صدر Xi Jinpingنے اس ملاقات میں صدر ٹرمپ پر واضح کیا کہ چین تائیوان کے بارے میں کسی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا، مگر پھر بھی دونوں ممالک نے دیگر تمام امور پر اتفاق رائے کیا۔ جب دنیا کی سب سے بڑی دو طاقتوں کے مابین بات چیت ہوسکتی ہے تو پھر بھارت اور پاکستان مذاکرات کیوں نہیں کرسکتے؟ معمر شہری طفیل احمد خان کی یہ بات برحق ہے کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں۔