قربانی

قربانی دینے کا جذبہ انسانی جبلت میں روز اول سے شامل ہے اور انسانیت کا تقاضا بھی ہے۔


نسیم انجم May 23, 2026
[email protected]

قربانی دینے کا جذبہ انسانی جبلت میں روز اول سے شامل ہے اور انسانیت کا تقاضا بھی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کسی نہ کسی شکل میں ہر شخص قربانی کے مرحلے سے گزرا ہے۔

پیغمبران کی حیات مبارکہ پر ایک نظر ڈالیں تو سب سے پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ یاد آ جاتا ہے کہ جب قابیل نے شریعت کے خلاف کام کیا اور اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی اور اس علقما نامی لڑکی سے نکاح کرنا چاہا جس کا حق دار ہابیل تھا چونکہ اللہ کے حکم کے مطابق حضرت آدمؑ و بی بی حوا کے جڑواں پیدا ہونے والے بچوں کا نکاح دوسری بار جو ان کی اولاد دنیا میں قدم رکھتی تھی تو ان بچوں سے ان کا نکاح جائز تھا۔ ایک ساتھ پیدا ہونے والا لڑکا یا لڑکی آپس میں نکاح نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت آدم علیہ الاسلام نے اس مسئلے کا حل یہ بتایا کہ وہ بارگاہ الٰہی میں اپنی اپنی قربانی پیش کریں جس کی قربانی قبولیت کا درجہ حاصل کر لے گی وہ خوب صورت لڑکی علقما کو اپنے نکاح میں لے سکتا ہے۔

سورہ المائدہ میں اس کا ذکر یوں ہے جب ان دونوں نے اپنی اپنی قربانی پیش کی تو ان میں سے ہابیل کی قربانی قبول کر لی گئی اور قابیل کی قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہو سکی۔

قابیل نے نفرت اور حسد کی بنا پر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا، یہ انسانی تاریخ کا پہلا قتل تھا۔ جب ہم دوسرے پیغمبروں کی زندگیوں کا جائزہ لیں تو ایثار و قربانی کے بے شمار واقعات ہماری نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی قربانی و آزمائش کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس بے حد مال و متاع تھا، وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے تھے، شیطان کا یہ خیال تھا کہ وہ اللہ کے شکر گزار اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر طرح کا عیش و آرام دیا ہے، لہٰذا شیطان کی بات کو باطل قرار دینے کے لیے انھوں نے آسائشات اور خوشحالی کو اپنی زندگی سے دور کر دیا۔ اللہ نے ان کی خواہش کے مطابق ان کے مویشی اور جانور ہلاک کیے اور پھر ان کے باغات اور کھیت وغیرہ اور ان کا مکان بھی مسمار ہو گیا جس کے نیچے ان کے 7 بیٹے اور 7 بیٹیاں شہید ہو گئیں۔

حضرت ایوب علیہ السلام سخت بیمار ہوئے حتیٰ کہ جسم میں کیڑے پڑ گئے لیکن آپ نے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور جب آزمائش کا وقت ختم ہوا تو ایک طرف شیطان کو مایوسی ہوئی تو دوسری طرف آپؑ کو سب کچھ مل گیا۔ ایثار کی داستانیں ہر پیغمبر کی حیات میں شامل تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت یونس علیہ السلام، فرعون کی بیوی بی بی آسیہ علیہ السلام، بی بی مریم، حضرت نوح علیہ السلام اور بھی بے شمار سچے واقعات سے تاریخ دین روشن ہے۔

خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری حیات مبارکہ آزمائشوں کی آماج گاہ رہی۔ پاکیزہ بچپن و جوانی، طائف کی گلیوں میں کفار کے مظالم اور پھر ہجرت مدینہ۔ شعب ابی طالب، شعب عربی زبان میں پہاڑوں کے درمیان واقع گھاٹی یا وادی کو کہتے ہیں مکہ میں یہ گھاٹی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی ملکیت تھی۔ اسی نسبت سے اسے شعب ابی طالب کہا جاتا ہے۔ یہ بہت مشکل اور کٹھن وقت تھا اور ایک معاہدہ تھا جس کی رو سے کوئی بھی شخص بنو ہاشم کے قبیلے سے بات چیت کرے گا اور نہ شادی بیاہ اور کھانے پینے کی اشیا پہنچائے گا۔ خرید و فروخت پر بھی پابندی تھی۔ مسلمانوں نے اس گھاٹی میں تین سال گزارے، اس کڑے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ صاحب ثروت ہونے کے باوجود حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے محبوب شوہر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کٹھن اور مشکل وقت گزارا۔ یہ قربانی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے لیے دی کہ اسلام تابندہ و رخشندہ چاند و سورج کی مانند چمکتا رہے اور ایسا ہی ہوا۔ فتح مکہ اور ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کے حق میں حالات بدل گئے اور بہت بڑی اور عظیم فتح حاصل ہوئی۔

 ان دنوں ہم عیدالاضحی کے ایام میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ مہینہ ہر سال روئے زمین پر جلوہ فگن ہوتا ہے اور ہم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی و ایثار کا اعادہ کرتے ہیں۔ قربانی کا جانور ذبح کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کا واقعہ ایمان افروز اور اطاعت وصبر اور اللہ سے لازوال محبت کا مظہر ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو متواتر تین دن ایک ہی خواب آتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیا کے خوابوں کی حیثیت وحی کی مانند ہوتی ہے اس لیے وہ سمجھ چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی سب سے قیمتی چیز کی قربانی مانگ رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے خواب کا ذکر اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کیا اور قرآن مجید میں اس کا ذکر اس طرح آیا ہے کہ:

’’اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ تمہاری رائے کیا ہے؟‘‘ فرمانبردار، نیک و صالح بیٹے نے جواب دیا ’’ابا جان! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اس کی تعمیل بجا لائیے، انشا اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘ بیٹے کا جواب سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل اور والدہ بی بی حاجرہ منی کے میدان کی طرف روانہ ہو گئے۔ شیطان نے تین مختلف مقامات پر بہکانے کی کوشش کی، انھوں نے شیطان کو اس طرح مایوس کیا کہ اس پر پتھر مارے، اس سنت کی یاد حج کے موقع پر ہر حاجی پر فرض ہے اسے رمی جمار کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی قربانی کو قبول فرمایا اور حضرت ابراہیم کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جسم مبارک پر ایک خراش بھی نہیں پڑی۔

ماہ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ 10 ذوالحج کو مسلمان پابندی کے ساتھ اچھے سے اچھا جانور قربان کرتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ محض شان و شوکت اور دکھاوا زیادہ، اپنے کردار کو نہیں بدلتے ہیں۔ حرام و حلال کی تفریق سے بے گانہ رہتے ہیں، کیا ان حالات میں قربانی و حج قبول ہو جاتا ہوگا؟