سیاسی بحران کے باعث ڈالر کی قدر 101 روپے سے بھی تجاوز کرگئی

زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹیں سیاسی خبروں اور افواہوں کے زیراثر رہیں ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوگیا


Business Reporter August 21, 2014
انٹربینک 44 پیسے اضافے سے 101.20، اوپن مارکیٹ میں 55 پیسے بڑھ کر 101.10 روپے ہوگیا۔ فوٹو: فائل

سیاسی بحران اور دھرنا دینے والی جماعت کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنے کی خبروں نے پاکستانی روپے کی قدر کو مزید تنزلی سے دوچار کردیا ہے اور ڈالر کی قدر 101 روپے سے بھی تجاوز کرگئی۔

زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹیں بدھ کوسیاسی افق پر پھیلنے والی خبروں اور افواہوں کے زیراثر رہیں اور امن وامان کی صورتحال ممکنہ طور پر خراب ہونے کے خدشات کے پیش نظر زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کے طلبگاروں کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔ بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی نسبت ڈالر کی قدر مزید 44 پیسے بڑھ گئی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ بڑھ کر 101.20 روپے ہوگئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 55 پیسے بڑھ کر 101.10 روپے کی سطح پر آگئی۔

ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بتایا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کے درمیان ڈیڈلاک ختم ہونے کے پاکستانی روپے کی قدر پرمثبت اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا گھبراہٹ کے شکار سرمایہ کار ڈالر میں سرمایہ کاری سے گریز کریں کیونکہ سیاسی دھرنا پرامن انداز میں ختم ہونے کی صورت میں امریکی ڈالر کی قدردوبارہ تیز رفتاری کے ساتھ گھٹے گی جس کی وجہ سے ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اربوں روپے مالیت کے خسارے سے دوچار ہونا پڑے گا۔