پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب قومی گرڈ کی مالی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے لگا

بجلی کے مجموعی استعمال کا 25 فیصد شمسی توانائی سے حاصل ہو رہا ہے، گلوبل انرجی مانیٹر


بزنس رپورٹر May 23, 2026
فوٹو: فائل

گلوبل انرجی مانیٹر کی سالانہ رپورٹ Boom and Bust 2026 کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی کا ایک انقلاب برپا ہو رہا ہے جو قومی گرڈ کی مالی صورتحال کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔

رپورت کے مطابق 2025 میں پاکستان میں غیر مرکزی (decentralized) شمسی تنصیبات میں زبردست اضافہ ہوا اور اندازاً اب مجموعی بجلی کے استعمال کا 25 فیصد شمسی توانائی سے حاصل ہو رہا ہے جس کا بیشتر حصہ آف گرڈ نظاموں پر مشتمل ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا کہ شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ کے باوجود پاکستان اب بھی کوئلے کے بجلی گھر فعال ہیں، ملک کے کسی بھی فعال کوئلہ پلانٹ کے لیے ریٹائرمنٹ کی کوئی منصوبہ بند تاریخ موجود نہیں اور نہ ہی پاکستان نے اپنی قومی طور پر طے شدہ شراکتوں (NDCs) میں کوئلے کے خاتمے کی ضرورت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

مقامی کوئلے کو توانائی کے تحفظ کی بنیاد کے طور پر مزید فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئلے پر انحصار کرنے والے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (IPPs) طویل المدتی ضمانتوں میں توسیع چاہتے ہیں، جو آئندہ دہائی میں کوئلے کی بجلی کو نظام میں مزید مضبوط کریں گی اور کم لاگت متبادل ذرائع کے لیے گنجائش کم کر دیں گی۔

گلوبل انرجی مانیٹر کے گلوبل کول پلانٹ ٹریکر کی سینئر محقق لوسی ہمر نے کہا کہ چیلنج اب ‘بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے’ سے بدل کر ‘اس چیز کی قیمت ادا کرنے’ تک پہنچ گیا ہے جو استعمال ہی نہیں ہو رہی۔ پاکستان اب اس عالمی جدوجہد کی صفِ اول میں ہے جہاں توانائی کے نظام ایسے غیر معاشی کوئلہ معاہدوں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی ضرورت وہ پہلے ہی کھو چکے ہیں۔”

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (PRIED) کے شعبۂ توانائی منتقلی کی سربراہ شاہیرہ طاہر نے کہا کہ ایران میں جنگ کے بعد پاکستان کو ایک سنگین مخمصے کا سامنا ہے: یا تو تقسیم شدہ شمسی توانائی کی رفتار کو برقرار رکھا جائے، یا درآمدی ایندھن پر چلنے والے کوئلہ بجلی گھروں کو مقامی کوئلے پر منتقل کیا جائے تاکہ جنگ سے پیدا ہونے والی سپلائی رکاوٹوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے، یعنی غیر ملکی فوسل فیول کی جگہ مقامی ایندھن کو فروغ دینا۔ تاہم مثبت بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اب بھی تیزی سے تقسیم شدہ شمسی توانائی اپنا رہے ہیں، باوجود اس کے کہ حکومت نے سولر پینلز کی فروخت پر 10 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے اور گرڈ سے منسلک سولرائزیشن کی حوصلہ شکنی کے لیے متعدد ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔

PRIED کی کمیونیکیشن اسپیشلسٹ زہرہ نعیم نے کہا کہ ایران جنگ نے اس خدشے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ پاکستان کے کوئلہ منصوبوں کی پائپ لائن مزید وسیع ہو سکتی ہے، خاص طور پر توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی کوئلے کے استعمال میں اضافے پر زور دیا جا رہا ہے۔