ماہر معیشت اشتاق تولہ نے آئندہ مالی سال کیلیے ماڈل بجٹ تیار کیا جس میں ڈالر کی قدر 250 روپے جبکہ مہنگائی میں 6 فیصد تک کمی کیلیے تجاویز دی گئیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اشتاق تولہ نے روپے کی قدر کو 250 فی ڈالر تک لانے سے مہنگائی میں 6فیصد تک کمی آسکتی ہے، ہنڈی کے بجائے بینکنگ چینل سے رقوم بھیجنے پر 10روپے فی ڈالر بونس دینے سے ترسیلات بڑھ سکتی ہیں۔
انہوں نے اپنی تجاویز پر مشتمل ماڈل بجٹ میں لکھا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت مقامی ترقی یا سخت آئی ایم ایف شرائط کے درمیان پھنسی ہوئی ہے اور عالمی مالیاتی فنڈز کی سخت پالیسیاں طویل المدتی معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو بجٹ منظوری کے لیے سخت شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا ہے۔ ماڈل بجٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پالیسیوں سے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.4فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف سے ہٹ کر مقامی اصلاحات کریں تو خسارہ 2.1 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ معاشی استحکام کے لیے مقامی ٹیکس اصلاحات اور آمدنی بڑھانا ضروری ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کو ٹیکس چھوٹ دینے سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ زراعت پر ٹیکس لگا کر ریونیو بیس کو وسیع کرنا اب وقت کی ضرورت ہے۔ توانائی کے شعبے کے نقصانات کم کیے بغیر بجٹ خسارے پر قابو پانا ناممکن ہے۔
ماڈل بجٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ سرکاری اداروں کی نجکاری سے بجٹ پر موجود بوجھ کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے ریگولیٹری رکاوٹوں کو ختم کرنا لازمی ہے۔
ماڈل بجٹ میں تجویز دی گئی ہے غیر ملکی اثاثوں کی واپسی پر ٹیکس چھوٹ سے 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ پالیسی ریٹ میں 01فیصد کمی سے حکومتی قرضوں پر تقریباً 625ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔