ویڈلاک پالیسی پر آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں اختلاف

قانونی حیثیت پر اختلاف نے دونوں آئینی فورمز میں فکری کشیدگی نمایاں کی، احسن کھوکھر


حسنات ملک May 25, 2026

اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے متضاد فیصلے حکومت کی ویڈلاک پالیسی میں ابہام پیدا کر دیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق ویڈلاک پالیسی سرکاری ملازم جوڑے کو قانونی امید دیتی ہے کہ دونوں کو ایک ہی سٹیشن پر تعینات کیا جائے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ویڈلاک پالیسی کو غیرمعینہ تعیناتی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اس سے کوئی قانونی استحقاق حاصل ہوتا ہے۔

حافظ احسن کھوکھر نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ ویڈلاک پالیسی کی قانونی حیثیت پر تین اہم عدالتی فیصلے جاری ہوئے، 2 فیصلے سپریم کورٹ، ایک وفاقی آئینی عدالت نے دیا، فیصلوں میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کی رائے میں واضح اختلاف سامنے آیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں واضح کیا کہ ویڈ لاک پالیسی محض انتظامی گائیڈلائن نہیں، بلکہ متعلقہ حکام کو متاثرہ ملازمین کی جائز توقعات پر عمل کا پابند کرتی ہے، تاوقتیکہ آئینی تقاضوں کے تحت یہ پالیسی ختم یا اس میں ترمیم کر دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے برعکس وفاقی آئینی عدالت نے یکسر مختلف تشریح کرتے ہوئے ویڈلاک پالیسی کو محض ایک انتظامی سہولت قرار دیا، جو مخصوص سٹیشن پر مستقل تعیناتی کا قابل نفاذ حق نہیں دیتی۔

آئینی عدالت کے مطابق ویڈلاک پالیسی کو قانونی استحقاق قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ پالیسی مجاز حکام کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے اختیارات کے تابع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویڈلاک پالیسی کے نفاذ اور قانونی حیثیت پر اختلاف نے دونوں آئینی فورمز کے درمیان قانونی رائے میں فرق کو نمایاں کیا ہے اس کا آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت جائزہ لینے کی ضرورت ہے، جو عدالتی فیصلوں کی پابندی سے متعلق ہے۔