ایران نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران صوبے ہرمزگان اور آبنائے ہرمز میں امریکا کے متعدد فضائی حملوں کو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے صوبہ ہرمزگان میں میزائل تنصیبات اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی تاہم امریکا کا مؤقف یہی رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی اجازت نہیں دے گا اور اس نے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔
امریکا نے آبنائے ہرمز میں ان کارروائیوں کو دفاعی قرار دیا تاہم ایران نے اسے جارحانہ اور بلاجواز اقدامات کہتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع میں کسی ردعمل سے گریز نہیں کرے گا۔
خیال رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تیل کی عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور اضطراب ہے۔
ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری سے جاری کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے جبکہ امریکا واشنگٹن اور مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے یورینیم افزودگی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اب بھی ممکن ہیں اگرچہ کسی معاہدے تک پہنچنے میں چند روز لگ سکتے ہیں۔