امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سمیت اہم عالمی اور داخلی معاملات پر مشاورت کے لیے کل اپنی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس طلب کرلیا جو معمول کے برعکس وائٹ ہاؤس کے بجائے صدارتی ریزورٹ کیمپ ڈیوڈ میں منعقد ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کابینہ کا یہ غیر معمولی اجلاس بظاہر اچانک اور پہلے سے طے شدہ نہیں ہے جس میں کابینہ کے تمام اہم اراکین شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو وائٹ ہاؤس کے بجائے دور ایک پُرسکون اور محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اعلیٰ حکام بغیر کسی سیاسی یا میڈیا دباؤ کے اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کرسکیں۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر غور کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ایک نئی مفاہمتی ڈیل کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم اس معاملے پر خود ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے کئی رہنما اور سخت گیر حلقے سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے میں واشنگٹن بہت زیادہ نرمی دکھا رہا ہے۔
ان ناقدین کا مؤقف ہے کہ تہران پر دباؤ برقرار رکھا جانا چاہیے اور کسی بھی نئی ڈیل میں ایران کے جوہری اور علاقائی کردار پر سخت شرائط عائد ہونی چاہئیں۔
یاد رہے کہ کیمپ ڈیوڈ امریکی صدور کی جانب سے ماضی میں بھی حساس قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اہم مشاورت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
یہی مقام 1978 کے تاریخی کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے لیے بھی مشہور ہے جس میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔