وفاقی حکومت کی جانب سے عید الاضحیٰ کے موقع پر صارفین کو جانوروں کی خریدفروخت کے لیے آن لائن پیمنٹس کی سہولیات کی فراہمی کے باوجود بڑی تعداد میں جانوروں کی خریدوفروخت نقد میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور مختلف بینکوں کی جانب سے مویشی منڈیوں کے قریب موبائل وین کے ذریعے اے ٹی ایم کی سہولت اور آن لائن کیش کی سہولت فراہم کی گئی جس سے بڑی تعداد میں مویشیوں کی خریدوفروخت کے لیے ادائیگیاں بینکنگ چینل سے بھی ہوئی ہیں جبکہ اس سے قبل تقریبا تمام خریدفروخت کیش میں ہوا کرتی تھی۔
اس حوالے سے اسٹیٹ بینک ذرائع کا کہنا تھا کہ عید الاضحیٰ صرف ایک تہوار یا مذہبی فریضہ نہیں ہے بلکہ ملک میں غیر رسمی معیشت کی سب سے بڑی سرگرمیوں کا مجموعہ ہے اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستان میں 650 سے 700 ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کی معاشی لین دین ہوا ہے اور عید سے پہلے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش میں تقریبا 700 ارب روپے کے لگ بھگ اضافہ ہوتا ہے جس میں زیادہ لین دین نقد ہوتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سپلائی چین میں مویشی پال کسان، بیوپاری، ٹرانسپورٹرز، منڈی، مالکان، چارہ فروش، قصاب اور چمڑے کی صنعت سے وابستہ افراد کا روزگار جڑا ہے، عید قرباں کے دوران جانوروں کی خرید و فروخت اور قربانی کا مجموعی اوسط تخمینہ 641 ارب روپے ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں عید قرباں کے 3 دن میں تقریباً 74 لاکھ جانور قربان کیے جاتے ہیں، قربانی میں گائے، بھینس، بکرے، بھیڑ اور اونٹ شامل ہوتے ہیں، 5 لاکھ 32 ہزار ٹن سے زائد گوشت تقسیم ہوتا ہے جو کہ ملک کا سب سے بڑا نجی غیررسمی فوڈ ڈسٹری بیوشن سسٹم بھی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ عید الاضحیٰ کے ایام عید میں شہروں سے دیہات تک 400 ارب روپے سے زائد آمدن کی منتقلی ہوتی ہے، جو کہ لائیو اسٹاک یا مویشی پالنے والے کسانوں اور دیہی خاندانوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جبکہ دوسری طرف قصاب بھی ہزاروں روپے فی جانور فیس وصول کرکے عید سیزن لگاتے ہیں اور قربانی کی کھالوں سے لیدر انڈسٹری کو خام مال ملتا ہے۔