’’ایدھی‘‘ پھر سرخرو ٹہرا

یہ سب سعد ایدھی کے سامنے دادا اور باپ فیصل ایدھی کی وہ مشنری تربیت تھی


وارث رضا May 31, 2026

70 برس سے زائد کے پاکستان میں روشن خیال و مثبت فکر کے مقابل رجعتی ریاستی پالیسی اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے بار بار کے تجربے نہ تو ہماری تاریخ سے اوجھل ہوئے ہیں اور نہ ہی ان تجربات کے نقصانات سے تاریخ کے طالبعلم نا واقف ہیں۔

اس بے ترتیب پالیسی کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے دو نامور،روشن خیال اور ترقی پسند سوچ و فکر کے درخشاں نام یعنی فیض احمد فیض اور عبدالستار ایدھی وہ شاندار کردار رہے ہیں جو انسانیت کی سر بلندی اور پرامن بقائے باہمی کے خاطر کام کرتے رہے اور ’’لینن امن ایوارڈ‘‘ لینے کے حوالے سے ،عالمی طورپر پاکستان کی روشن خیال فکر کا وہ نشان بن چکے ہیں،جن پر نسل نہ صرف فخر کر سکتی ہے بلکہ مذکورہ افراد کی بلند انسانی اقدار کی سوچ کو اپنا کر وہ پرامن دنیا میں سرخرو بھی ہو سکتی ہے۔

میں اور پاکستان کی تاریخ کے متعدد گواہ احباب جانتے ہیں کہ ستارایدھی کے پوتے ’’سعد ایدھی‘‘ کی پر امن کوششوں کو تو غیروں اور عالمی دہشت گرد اسرائیل نے تاراج کرنے کے لیے ’’امن فلوٹیلا‘‘ یعنی ’’امن کا بحری بیڑہ‘‘اسرائیلی اسلحہ بردار فوجیوں کے ذریعے دہشت پھیلا کر اپنے قبضے میں کیا اور عالمی بحری قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرکے ’’سعد ایدھی‘‘ سمیت دو ڈھائی سو دنیا کے امن پسندوں کو اغوا کرکے امن پروروں میں خوف و ہراس پھیلایا۔

مگر جب میں اپنے سماج کے ماضی اور ماہ و سال پر نظر دوڑاتا ہوں تو عبدالستار ایدھی ایسے انسان دوست کی وہ زبردستی کی جلا وطنی یاد آجاتی ہے جس پر پاکستانی سماج کا ہر فرد ایدھی صاحب کے ساتھ ریاست کی جانب سے روا سلوک پر افسردہ تھا،سوچیے کہ جب اپنے تصور کیے جانے والے ہی ’’لینن ایوارڈ لینے والے انسان دوست عبدالستار ایدھی کو اپنے مخصوص مفادات کے لیے جلا وطن ہونے پر مجبور کردیں تو پھر انسان کی دادرسی اور مدد کا شعبہ بھائیں بھائیں ہی کرے گا.

جب ستار ایدھی کو اس کے اپنے ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہی وطن اور گھر سے طاقت کی بنا پر بیدخل کرنے پر کمر بستہ ہو جائیں تو ستار ایدھی کی امیدوں کے خواب چکنا چور نہیں ہوں گے تو کیا ہونگے،جب امید کے جلنے والے دیے کو ریاست ’’ گُل‘‘ کر دینے کے درپہ ہو جائے تو کیا کوئی اس عبدالستار ایدھی کی تکلیف اور کیفیت کو سمجھ سکتا ہے کہ جس کو بے قصور و بے خطا اس کے اپنے ہی نکالنے پر بضد تھے؟

عبدالستار ایدھی کے دکھ اور تکلیف کے مقابلے میں اس کا پوتا سعد ایدھی کسی قدر خوش قسمت تو ٹہرا کہ اسے اپنوں نہیں بلکہ غیر ملکی دہشت گرد اسرائیلی اسلحے بردار اغوا کرکے لے گئے تھے اور سعد ایدھی ’’امن بحری بیڑا‘‘ لے جانے کا وہ باہمت نوجوان دنیا کے سامنے اپنے دادا، ایسی استقامت اور بہادری لیے دنیا اور امن کی دشمن قوت اسرائیل کے سامنے ڈٹ گیا۔

سوچتا ہوں کہ عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کے کنبے میں وہ لمحہ کتنا خوشگوار ہوگا جب ان کے کنبے میں فیصل ایدھی کے توسط سے سعد ایدھی کی ماں صبا نے ایک ’’باد صبا‘‘ کی نسیم سحر کی صورت گھر کے آنگن میں ایک عزم اور حوصلے کے ساتھ قدم رکھا ہوگا،سعد ایدھی کی ماں صبا جانتی ہوگی کہ اس کے ساس اور سسر نے کتنی کٹھنائیں انسانیت کی بقا و سلامتی کے لیے جھیلی ہونگی.

مجھے یقین ہے کہ صبا نے اسی لمحے فیصل،ستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کے مشن میں خود کو ہم رکاب کر لیا ہوگا،سعد ایدھی کے اندر حوصلے اور عزم کی یہ قوت صبا کی تربیت اور قربانی کی وہ اعلیٰ مثال ہے جس پر ’’ماں‘‘ دنیا کا فخر رہی ہے،سعد کی قوت ارادی کو آج دنیا نے نہ صرف دیکھا بلکہ پوری انسانیت کو پیغام ملا کہ مشکل حالات میں ہی استقامت اور حوصلے کی بلندی کردار کو سرخرو کرتی ہے۔

اس رجعت پسند ریاست کی جانب سے عالمی طور سے انسانی فلاح کے معتبر نام عبدالستار ایدھی ایسے انسان دوست فرد کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی رویوں کو بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ جس کی موت کو بھی آزاد فکر اور لاکھوں چاہنے والوں کی خواہش کے مطابق سپرد خاک نہیں ہونے دیا گیا،اس دکھ اور المیے کو بھلا فیصل ایدھی،بلقیس ایدھی اور صبا ایدھی سے زیادہ کون جانتا ہوگا،مگر ان سب کے باوجود نہایت استقامت اور حوصلے کے ساتھ فیصل ایدھی نے زمانے اور جبر کے چلن کو نہ صرف سہا بلکہ نبھایا بھی.

فیصل ایدھی نے راستے کی تمام کٹھناؤں کو نہ صرف شکست دی بلکہ ایک دھتی کی طرح باپ عبدالاستار ایدھی کے نہ صرف مشن کو جاری رکھا بلکہ باپ کے مشن کی بامقصد تکمیل کے لیے اپنے جگر گوشوں کو بھی دادا کے مشن میں جوت دیا،فیصل اور صبا کو نہ اولاد کی مشکلات کی پرواہ رہی اور نہ ہی ان دونوں نے ستار ایدھی کے انسانیت پرست مشن میں بیٹے اور بیٹیوں کی قربانی کی پرواہ کی۔

کراچی کی تاریخ ان کرب کے دنوں کو کیسے بھلا سکتی ہے،جب کراچی ایئر پورٹ سے متصل بستی پر جہاز کریش ہونے سے قیامت برپا ہو گئی تھی،ہر طرف آہ و بکا اور ہر فرد اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کا خواہش مند تھا ،ایسے کڑے اور صبر آزما لمحات میں ستار ایدھی کا بیٹا فیصل ایدھی اپنے ہم رکاب ناصر منصور اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہولناک جائے حادثے پر نہ صرف پہنچا بلکہ متاثرین کی مدد کے لیے ان دوستوں نے نہ دن دیکھا، نہ رات بلکہ ایک جنونیوں کی طرح آرام کی پرواہ کیے بغیر زخمیوں کے زخموں پر مرہم رکھتے رہے اور عبدالستار ایدھی کے مشن کو آگے بڑھاتے رہے۔

یہ سب سعد ایدھی کے سامنے دادا اور باپ فیصل ایدھی کی وہ مشنری تربیت تھی جس نے سعد کو فلسطین غزہ کے نہتے اور معصوم بچوں کے اسرائیلی ظلم پر خاموش رہنے نہ دیا،عزم اور حوصلے سے لبریز سعد ایدھی کی ہمت بڑھانے میں ماں صبا اور فیصل سمیت ڈاکٹر بہن بھی ساتھ ساتھ رہی.

بس اسی حوصلے اور لگن نے سعد ایدھی کو موقع فراہم کیا کہ وہ غزہ کے نہتے مظلوم افراد کی امداد کے لیے دنیا بھر کے ’’امن پسندوں‘‘ کو ’’امن بحری بیڑے‘‘ میں اکٹھا کرکے دنیا میں اسرائیلی مظالم کو منظر عام پر لائے اور غزہ کے مستحقین میں غذا ،ادویات اور کپڑے تقسیم کرے،مگر سعد ایدھی و دیگر عالمی امن پروروں کی یہ کوشش ظالم اسرائیل کو گوارہ نہ ہوئی اور اسرائیلی افواج نے نہتے پر امن کو رات کی تاریکی میں یرغمال بنا لیا ۔

ایدھی کے پر امن قافلے کے ساتھ اسرائیلی ناروا سلوک کی خبر نے دنیا بھر میں پر امن احتجاج کے ذریعے سعد ایدھی سمیت تمام امن پروروں کی گرفتاری کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور سعد ایدھی اپنے ایدھی خانوادے کا سر فخر سے بلند کرکے اپنی سر زمین پر محفوظ پہنچ گیا،سعد ایدھی کا عزم ہی اسرائیل کی شکست اور بزدلی کا وہ نشان ہے جو امن کی شمع کو ہمیشہ روشن رکھے گا۔