عقیدت کے موتی ایک تاثر

تین سو تیرہ تو کروڑوں پر نہیں بلکہ اربوں بلکہ دنیا جہان کے اہل ایمان پر بھاری تھے


نسیم انجم May 31, 2026
[email protected]

ممتاز شاعر حلیم انصاری کا شعری مجموعہ جوکہ قرآنی آیات پر مشتمل ہے، بعنوان ’’عقیدت کے موتی ‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے، انھوں نے تیسوں پاروں کے حوالے سے تیس قطعات لکھے ہیں جو کہ کتاب کی زینت ہیں۔

لکھنے کی ابتدا بھائی حلیم انصاری نے افسانہ نگاری سے کی تھی، پھر فکر معاش اور گھریلو ذمے داریوں نے افسانہ نگاری کے شوق کو پس پشت ڈال دیا۔ایک طویل عرصے بعد شعروسخن کے کوچے میں قدم رکھا اور شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ہر روز ایک قطعہ فیس بک کی زینت بنانا اپنا فریضہ جانا۔

اس طرح اتنا مواد جمع ہو گیا کہ وہ کئی کتابیں شائع کر سکیں، اس کوشش اور طبع آزمائی کے نتیجے میں وہ چار شعری مجموعوں کے خالق کے طور پر شعری منظرنامے پر اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو گئے، وہ فیس بک پر لکھی جانے والی شاعری کے بارے میں خود کچھ اس طرح عرض کرتے ہیں۔

نغمگی سوز و ساز ڈھونڈو ہو

نازکی اور گداز ڈھونڈو ہو

لوگ شاعر ہیں فیس بک کے حلیم

آپ غالب، فراز ڈھونڈو ہو

شاعر کا چوتھا مجموعہ قرآنی تعلیمات کا مظہر ہے، قطعات کی مترجم محترمہ تنویر رؤف ہیں، انھوں نے اردو قطعات کو انگریزی زبان میں ڈھالا ہے۔

ممتاز نقاد، محقق اور ماہر تعلیم ڈاکٹر معین الدین عقیل نے اپنے تاثرات کا اظہار اس طرح کیا ہے۔

’’حلیم انصاری صاحب کو عربی زبان یا قرآنی تراکیب بیان سے بھی خاصی واقفیت اور مناسبت ہے کہ درمیانی متعدد قطعات کے عنوان سے انھوں نے عربی تراکیب سے اخذ کیے ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں، اس ضمن میں یہ امر بھی لائق تحسین ہے کہ حلیم انصاری صاحب نے اسلامی عناصر اور قرآنی محاورات اور ضرب الامثال کو بھی اس طرح موضوع بنایا ہے کہ اشعار کے توسط سے ان کی تعبیر و تشریح ہو سکے اور قاری ان کو اپنے جذب ایمان میں جگہ دے سکے۔‘‘

کتاب کی ابتدا انھوں نے حمد باری تعالیٰ سے کی ہے۔

ہے پاک تو سب حمد و ثنا تیرے لیے ہے

سب برتری، اولیٰ و اعلیٰ تیرے لیے ہے

تیرے سوا کوئی نہیں معبود اے اللہ

ہر نام الٰہ و خدا تیرے لیے ہے

بھائی حلیم انصاری اپنے کلام میں تشبیہات و استعارات کے ساتھ ساتھ رعایت لفظی کو بھی خوب صورتی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

’’اللہ اللہ‘‘

وہ مکہ کا ماہِ تمام اللہ اللہ

کہ چمکا دی طیبہ کی شام اللہ اللہ

سعادت ہوئی میزبانی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی

یہ انصاریوں کا مقام اللہ اللہ

جنگ بدر کے تین سو تیرہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شان و توصیف، ایثار و قربانی، جرأت و بہادری، قوت ایمانی کو اس طرح بیان کیا ہے۔

حوصلے توڑیں گے کیا خاک زمانے والے

ہم تو خود ہی ہیں زمانوں کے بنانے والے

تین سو تیرہ تھے، تب بھی نہ بدر کو چھوڑا

اب کروڑوں میں ہیں باطل کو مٹانے والے

تین سو تیرہ تو کروڑوں پر نہیں بلکہ اربوں بلکہ دنیا جہان کے اہل ایمان پر بھاری تھے، وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوست اور بہت بلند مراتب ساتھی تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے، رضی اللہ علیہم۔ ’’اللہ ان سے راضی ہوا۔‘‘

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللعالمین تھے آپ ﷺ نے منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کا نماز جنازہ تک پڑھایا۔

آج کے مسلمان رتی برابر بھی صحابہ کرامؓ کے برابر درجہ نہیں پا سکتے ہیں۔ درجہ تو بہت دور کی بات ہے ان کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ باطل تو ہر لحاظ سے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ایمان دلوں سے نکل چکا ہے اور طاغوتی قوتیں اپنا سر اٹھا رہی ہیں، کوئی انھیں روکنے والا نہیں۔

زمانے کے عروج و زوال کی داستانوں کو رقم کرنے میں شاعر نے حالات حاضرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی شاعرانہ صلاحیت کو اجاگر کیا ہے۔

کل دوسرا تھا آج تو ہے جس جگہ مکین

ہر روز آسماں بدلتی ہے یہ زمین

قائم فقط عروج اور زوال ہیں یہاں

دائم ہے ایک ذات پاک رب العالمین

منصف کے بارے حکم ہے قرآنی برملا

چوالیس، اڑتالیس آیتیں سورۃ المائدہ

جو بھی کرے گا فیصلہ قرآن سے ہٹ کر

کافر وہ شخص ہوگا اور راندۂ درگاہ

حلیم انصاری صاحب نے محض ایک ایک قطعہ میں قرآن کے حوالے سے بہترین پیغام دیا ہے۔

’’مائدہ‘‘ عربی میں دستر خوان کو کہتے ہیں، عبرت اور نصیحت کے لیے اس سورۃ میں تین خاص واقعات کا بھی ذکر ہے۔

1۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا واقعہ۔ 2۔ سیدنا آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات اور کھانے کے دسترخوان کے نازل ہونے کا واقعہ۔

ایک اور قطعہ جو اللہ کی مہربانیوں اور کرم نوازیوں پر مبنی ہے اور سورۃ رحمن کی مہک سے مزین ہے۔

جب کسی جھرنے پر وادی، پربت پہ جاؤ گے

اور گلشن میں مہکتے پھول و کلیاں پاؤ گے

آسمان سے گنگناتی پھوار چومے گی تمہیں

پھر بھی کیا تم اپنے رب کی نعمتیں جھٹلاؤ گے

انھوں نے عرق ریزی کے بعد قرآن پاک پر لکھنے کے لیے قلم اٹھایا ہے ’’قال الملا(9)‘‘

قال الملا خسارہ ہوگا چھوڑے اگر عیب

دھوکہ اے تاجرو نہ دو فرماتے تھے شعیبؑ

ان بستیوں پر نعمتیں برسائے گا اللہ

بددیانتوں کو رکھتا نہیں دوست وہ لاریب

’’واعلمو‘‘ (10)

اللہ کے احکام کو شعری پیراہن میں ڈھالنا بھی تبلیغ دین کا فریضہ ہے جسے حلیم انصاری نے بہ خوبی انجام دیا ہے۔

عزت و شہرت و اولاد اور شباب

دنیا میں جو بھی دیکھ رہے ہو وہ ہے سراب

واعلمو یہ دنیا ہے بہ مثلِ اک حباب

اللہ کی راہ پر نہ چلے تو آئے گا عذاب

’’عقیدت کے موتی‘‘ کی اشاعت پر میں دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔