عطا اس بھوک سوں ہم لوگ رہنا
زخردن ساگ لونی سوک رہنا
بقول ایک لکھاری کے شاعر ملا عبدالحکیم ’’عطا ٹھٹوی‘‘ کے اس شعر کا مطلب ہے کہ ہم حکمران طبقات سے نہیں جڑیں گے۔ ہم مراعات یافتہ طبقات کے ساتھ نہیں جڑیں گے۔ ہم کو بھوک میں رہنا اچھا لگتا ہے بھلے ساگ اور قلفہ ہی کیوں نہ کھانا پڑے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’اب آپ شعور کا لیول دیکھیں۔ اس زمانے کی ترقی پسندی کا لیول دیکھیں، یعنی اپنے ضمیر کے ساتھ اور وقار کے ساتھ ساگ والی روٹی کھائیں گے۔‘‘ یہ ان مقالہ نویس کے اصلی الفاظ ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ سامعین میں سے کسی ایک کو بھی شاید شاعر عطا ٹھٹوی کے سماج دشمن کردار کا علم نہ تھا اور وہ نہ ہی عطا ٹھٹوی نام کے کسی شاعر کو جانتے تھے۔
میرا خیال ہے کہ لکھاری کو اگر یہ سب ترقی پسندی، شعور، وقار اور ضمیر کی لیول لگتی ہے تو پھر تو یہی ہوا کہ عطا ٹھٹوی بھوکا مر رہا تھا مگر اس کے باوجود یہ بھوکا شخص حکمرانوں کی چاپلوسی کیوں کر رہا تھا اور شاہ عنایت پر پھانسی گھاٹ میں کھڑے ہوکر بھوک سے نڈھال یہ شاعر طنز اور بدتمیزی کیوں کر رہا تھا؟
دراصل ایسے شعراء کو ہی دنیا ’’درباری شاعر‘‘ کے نام سے پکارتی اور یاد کرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جھوک کی جنگ میں شاہ عنایت شہید کو جھوٹے وعدے کرکے مذاکرات کے نام پر دھوکہ کرکے جب اس دور کے ٹھٹہ کے مغل گورنر اعظم خان کے پاس لے آئے اور اس کے بھائی رحمت اللہ شاہ اور داماد محمد یوسف سمیت وفد کے تمام اراکین کو گرفتار کرکے ان پر تشدد اور دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ اپنی فکر سے دستبردار ہوجائے مگر شاہ عنایت کے واضح انکار پر جب ان کے سامنے ہی ان کے بھائی رحمت اللہ شاہ اور داماد شاہ محمد یوسف کا سر تن سے جدا کیا گیا تو یہ درباری شاعر جسے ’’عطا ٹھٹوی‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، وہاں پر وہ نہ صرف موجود تھے بلکہ شاہ عنایت اللہ شہید پر اپنی شاعری کے ذریعے طنز کے تیر برسا رہے تھے۔
نامور دانشور اور کتاب ’’صوفی شاہ عنایت شہید ‘‘کے مصنف صوفی حضور بخش اپنی شہرہ آفاق تصنیف میں لکھتے ہیں کہ ’’ملا عبدالحکیم عطا ٹھٹوی بڑا شاعر تھا، حکمرانوں کا قصیدہ گو تھا اور شاہ عنایت سے حسد کرتا تھا۔ حکمرانوں اور نواب اعظم خان کو خوش کرنے کے لیے انھوں نے شاہ عنایت شہید کے لیے کیا زبان استعمال کی ہے۔
دیکھا جائے تو ہر دور میں ایسے ابن الوقت، خوشامدی، چاپلوس، شاعر، ادیب، صحافی اور کالم نگار ہوتے ہیں جو عمدہ طعام کھانے کے لیے اپنا گذر بسر آسان بنانے کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کرنے کر کے تمام حدود پھلانگ لیتے ہیں اور حکمرانوں، جاگیرداروں، پیروں اور ملاؤں کے آگے سرعام خود کو سرخرو کرتے ہیں۔ ملا عبدالحکیم عطا ٹھٹوی بھی ان میں سے ایک تھا۔
عطا ٹھٹوی کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو۔ کہتے ہیں۔
’’شنیدہ شد بدکن ،شیوا جی‘‘ کافری بودہ است
بشہر تتہ کنون نیز شیوا پئیدا شد
از و تمرد ظاہر شدہ بسماہل نیاز،
و زین تمرد باطن عجب ہویدا شد
(ترجمہ؛ سنا ہے کہ دکن میں ’’شیوا‘‘ (شیواجی جو مغلوں کے خلاف لڑا تھا) نامی ایک کافر ہوتا تھا، اب ٹھٹہ شہر میں ایک ’’شیوا‘‘ پیدا ہوا ہے جو کہ ضرور تمندوں اور حاجتمندوں سے جبر کرتا ہے اور ان کی سرکشی سے عجیب خفیہ راز افشا ہوئے ہیں۔مندرجہ ذیل غزل ان کا اردو زبان میں لکھا ہوا ہے جو کہ سخت مخاصمانہ ہے۔
چنگو نہ سند بستا باز سکھ سوں…عنادی گرمیاں جھوک رہتا
بحالت دکھنا یاد از الش ہم…نظر بر مورکی مغلو رہتا
زخرمن خوشہ از خوان ریزہ چینم…نہ یاد از گریہ مملوک رہتا
زبسا افراط اقطار فقیراں…نگاہی جاب صعلوک رہتا
تیرا عمر خضر ’’فیاض غازی‘‘…عطا در داعیان مسلوک رہتا
(یہ پرانی اردو ہے جو فارسی کا امتزاج ہے اور شاعر شاہ عنایت کو دشمن کہہ کر لکھتا ہے کہ اگر یہ دشمن جھوک میں مزید رہتا تو سندھ میں سکھ کا دور نہ ہوتا۔ فیاض غازی وہ گورنر ٹھٹہ نواب اعظم خان کو کہتا ہے کہ اس کی سخاوت،فیاضی کی وجہ سے وہ یہ شعر لکھنے پر مجبور ہوا ہے۔