یہ نفس امارہ!

دولت وہ پہلی چیز ہے جسے قربان کرنا چاہیے


شیریں حیدر May 31, 2026
[email protected]

ابھی ابھی ہم نے عید قربان گزاری ہے جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب اللہ کی راہ میں کچھ قربا ن کرنے کا وقت آئے تو اپنی ضرورت، خواہش اور ضد سے بالکل ہٹ کر ہی ایسا ممکن ہے۔ ہم نے قربانی کو یہ سمجھ لیا کہ ایک جانور قربان کرنا ہے، ذرا شو شا کا شوق ہے تو ایک سے زائد کردیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے اعزاز میں کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں تو آپ ایک پوری گائے یا سات بکرے قربان کر دیں، لوگوں میں واہ واہ ہو جائے گی، اور بہت سے لوگوں کو کھانے کو گوشت مل جائے گا اور وہ آپ کو دعائیں دیں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا قربانی کا مطلب وہی ہے جو ہم عام طور پر سمجھتے ہیں؟ کیا قربانی سال میں صرف عید کے موقع پر ہی دینا ہوتی ہے؟ کیا ہم نے سال کے باقی دنوں میں بھی قربانی کا سوچا ہے؟

دولت وہ پہلی چیز ہے جسے قربان کرنا چاہیے، فطرت ہے کہ جس کے پاس ستر روپے ہوں گے وہ خواہش پالے گا کہ اسے تیس اور مل جائیں تو اس کے پاس سو ہو جائے گا، دس بیس خرچ کرنے کا کوئی نہیں سوچے گا۔ دولت جب ہم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، زکوٰۃ اور صدقہ کی نیت سے تو اس سے کئی لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، ان کے رکے ہوئے کام ہوجاتے ہیں۔

ان کی بیماری اورتکلیف کا علاج ہو جاتا ہے اور ہم نے یہ دولت کون سا خود بنائی ہے، ہمیں بھی تو اللہ نے ہی دیا ہے اور اسی میں سے ہم اس کے نام پر کچھ قربان کردیں تو اسے ہماری یہ ادا پسند آتی ہے۔ وہ کسی کا ادھار کہاں رکھتا ہے، دیے ہوئے کو بڑھاکر کسی نہ کسی طور ہمیں لوٹا دیتا ہے۔

ہمارے پا س کافی فالتو سامان ہوتا ہے، اسے بھی ہم سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیںکہ کبھی نہ کبھی تو کام آئے گا۔ بڑے برتن، دیگچے، پراتیں، فالتو رضائیاں، گدے اور اسی طرح کچھ نہ کچھ ایسا فرنیچر بھی ہوتا ہے جس کی عام حالات میں ضرورت نہیں پڑتی لیکن کبھی نہ کبھی ہمیں چاہیے ہوتے ہیں۔

پارٹیوں کے لیے پچاس آدمیوں کے برتن اور جانے کیا کیا الا بلا۔ ہوتا بھی ایسا ہے کہ جس دن ہم اپنی کوئی فالتو چیز کسی کو دے دیتے ہیں، اس سے اگلے دن ہمیں خود اس کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور دل میں پچھتاوا آتا ہے کہ کیوں کسی کو دے دی کہ اب تو واپس بھی نہیں مانگ سکتے۔

چیزوں کو سینت سینت کر رکھنا غیرفطری نہیں ہے اور بالخصوص عورتوں میں یہ عادت زیادہ پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر مرد حضرات دوسروں کے سامنے اپنے گھروں کی عورتوں کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ اس نے گھر میں کافی ’’گند‘‘ جمع کر رکھا ہے۔

عورتوں کی ہر چیز سے جذباتی وابستگی ہوتی ہے، جہیز یا بری کا سامان، بھائی کا دیا ہوا تحفہ، ساس یا ماں کی نشانی، اپنی کمائی سے خریدی ہوئی گھر کی کوئی چیز، شادی کے بعد اپنے لیے خریدا جانے والا پہلا ڈنر سیٹ اور اسی طرح ایک انبار ہوتا ہے جو دوسروں کو گند لگتا ہے لیکن اس کی ساری زندگی کی کہانی اور وابستگی کی داستان انھی چیزوں کو دیکھ کر لکھی جا سکتی ہے۔

اس سارے سامان کو بھی قربان کرنا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اہم ہے کہ ہم اپنی محبوب ترین چیزوں کو اللہ کی راہ میں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے قربان کریں، اپنی خواہشات کو قربان کریں، ضروریات کو قربان کریں ، اپنی انا کو، اپنی ضد کو ، اپنی چاہت کو، اپنی ہوس کو، اپنی خوشیوں کو، اپنے نفس کو اور اپنے جذبات کو۔ وہ کریں جو اللہ ہم سے چاہتا ہے بہ نسبت اس کے کہ جو ہماری انا، خواہش اور ضد ہے۔ جس نے بھی اللہ کی چاہت کے برعکس کچھ کیا، اسے صرف وقتی خوشی حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ اسے اتنی خوشی ضرور دیتے ہیں کہ اس نے اپنی ضد پوری کی، غلط طریقوں سے اور غلط نیت سے تو اسے اس کاعارضی لطف تو ملنا چاہیے مگر یہ خوشی اور لطف جلد ہی اس سے چھن جاتا ہے۔ اصل خوشی یہ ہے کہ آپ کی خوشی کسی دوسرے کی تکلیف، دکھ یا آزار کا باعث نہ بنے۔

ایسی ادھوری خوشیاں پانا اور وہ بھی اس فانی دنیا میں جو چار دن کا میلہ ہے اور پھر ہر شخص اکیلا ہے، اپنے اعمال کے ساتھ، اپنی دائمی زندگی میں اپنے کیے کا پھل کھانے کے لیے۔ کیا آپ نے کبھی اس لطف کو محسوس کیا ہے کہ آپ کے اپنے دل میں دکھ ہو، درد ہو لیکن آپ کے کسی عمل سے دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں خوشی ہو؟

یہ اصل قربانی کی روح ہے۔ آپ یہ عمل اپنی دولت خرچ کرکے بھی حاصل کرسکتے ہیںکہ آپ اپنی کسی ضرورت، مثلاً گاڑی خریدنے کے لیے رقم جمع کررہے ہوں اور کوئی آپ کے سامنے اپنی وہ ضرورت رکھ دے جس کے لیے وہ آپ سے مدد کی توقع کر رہا ہو۔

آپ اس رقم میں سے جتنی بھی رقم اسے دیں گے، اس سے آپ کی بچت میں کمی ہو جائے گی اور آپ پھر سے اپنی خواہش کو پچھلے گئیر سے اٹھائیں گے۔ اس عمل سے آپ کو جو دلی سکون ملے گا وہ اس عارضی دکھ سے بہت بہتر ہو گا جو آپ نے اس رقم میں سے کچھ منہا کرتے وقت محسوس کیا تھا۔ اسی طرح آپ کے دل میں سو طرح کی خواہشات پنپتی ہیں مگر ہر خواہش کے پودے کو ثمر کہاں لگتا ہے، بہت سی خواہشیں پوری نہیں ہو سکتیں، بلکہ زیادہ تر، بقول شاعر…

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے!

ہم اپنے دل کے اندر خواہشوں کے بیج ہی تو لگاتے ہیں، نفس امارہ کا پورا چمن خواہشوں کے بیجوں سے بھر دیتے ہیں۔ کوئی بیج بارآور ہو جاتا ہے اور بہت سے ضایع ہو جاتے ہیں اور جو بارآور ہوجاتے ہیں، ان کی خوشی پر نہ پانے والے کا دکھ حاوی ہوجاتاہے۔

ہم وہی پاتے ہیں جیسا اصل میں دل میں گمان رکھتے ہیں، ہمیں انداہ ہوتا ہے کہ کون سی خواہش جائز ہے اور کون سی نہیں، پھر بھی ہم انھیں پالنے سے باز نہیں آتے۔ خواہشوں کا یہ کھیل ہی اصل میں ہمار ے اور اللہ تعالیٰ کے بیچ تعلق میں خلوص کی کڑی بنتا ہے۔

ہم اپنے دل کی خواہش پوری ہو جانے پر خوش ہوتے ہیں کہ اللہ ہماری طرف ہے اور جو خواہش پوری نہ ہو تو بسا اوقات کلمات شرک بھی منہ سے ادا ہوجاتے ہیں۔ جائز خواہشات کو پالنا اور کسی حد تک ہی ان کی پوجا کرنا لازم ہے، نفس کے گھوڑے کو آپ لگام نہیں دیں گے تو وہ بے لگام گھوڑا اتنی اڑی کرے گا کہ آپ کو اٹھاکر زمین پر پٹخ دے گا۔