جب دنیا تھکنے لگتی ہے

پاکستان اور بھارت میں بھی گرمی صرف موسم کی نہیں، سیاست کی بھی ہے


زاہدہ حنا May 31, 2026

دنیا شاید تھک گئی ہے، یہ تھکن صرف جسم کی نہیں، روح کی تھکن ہے۔ انسان کی وہ اندرونی شکست ہے جو اس وقت جنم لیتی ہے جب وہ روزانہ موت کی خبریں سنتا ہے، روتے ہوئے بھوک سے نڈھال بچوں کی تصویریں دیکھتا ہے، شہروں کو جلتے ہوئے دیکھتا ہے اور پھر خاموشی سے اپنے موبائل فون کی اسکرین بند کرکے سو جاتا ہے۔

غزہ میں بچے اب بھی ملبے سے کھلونے نکال رہے ہیں۔ یوکرین میں مائیں اب بھی اپنے بیٹوں کی تصویروں کے ساتھ ریلوے اسٹیشنوں پر کھڑی ہیں۔ افریقہ کے کئی علاقوں میں لوگ اب بھی بھوک سے لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف دنیا کے طاقتور ملک مصنوعی ذہانت کے نئے ہتھیار آزما رہے ہیں۔ کہیں ڈرون ہیں، کہیں روبوٹ سپاہی، کہیں ایسی مشینیں جو انسان کے چہرے سے اس کے خوف کا اندازہ لگا سکتی ہیں۔

مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ انسان نے ترقی تو بہت کر لی ہے مگر شاید دردمندی اور انسانیت کو پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ایک وقت تھا کہ کبھی جنگوں کے بعد شاعر پیدا ہوتے تھے۔ اب جنگوں کے بعد صرف ڈیٹا سامنے آتا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد، تباہ ہونے والی عمارتوں کی گنتی مہاجرین کے اعدادوشمار۔ انسان اب خبر نہیں رہا ایک عدد بن گیا ہے۔

یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ برطانیہ جو کبھی اپنی ٹھنڈی ہواؤں کے لیے پہچانا جاتا تھا، آج غیرمعمولی ہیٹ ویوز سے خوفزدہ ہے۔ سائنسدان کہہ رہے ہیں کہ دنیا اس موسم کے لیے تیار نہیں جسے خود انسان نے پیدا کیا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اب بھی درخت کم اگا رہے ہیں اور اسلحہ زیادہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں بھی گرمی صرف موسم کی نہیں، سیاست کی بھی ہے۔ یہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب کم اور نفرت زیادہ تھمائی جا رہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں سوال پوچھنے والے طالب علم مشکوک سمجھے جاتے ہیں اور ٹی وی اسکرینوں پر چیخنے والے دانشور قرار پاتے ہیں۔

دنیا کے طاقتور ممالک آج بھی امن کے نام پر جنگ بیچ رہے ہیں۔ کہیں تیل کے لیے، کہیں پانی کے لیے، کہیں نظریات کے لیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر جنگ کے بعد قبرستان ہی آباد ہوتے ہیں، بازار نہیں۔

اب ایک نئی جنگ شروع ہو رہی ہے انسان اور مشین کے درمیان۔ مصنوعی ذہانت نے زندگی آسان ضرور بنائی ہے مگر اس نے انسان کو تنہا بھی کیا ہے۔ اب خطوط نہیں آتے، صرف notifications آتے ہیں۔ اب انسان موبائل کی دنیا میں ایسا کھو گیا ہے کہ اپنے ارد گرد موجود انسان سے بے خبر ہوگیا ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے سحینا اسلام آباد سے کراچی آئی ہوئی ہے۔ اس نے جس محبت اور توجہ سے میری دیکھ بھال کی اس نے دل کو ایک عجیب سا سکون دیا۔ اب وہ ایک آدھ دن میں واپس چلی جائے گی تو دل اداس ہے مگر اس اداسی کے ساتھ ایک خیال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ دنیا واقعی کتنی بدل گئی ہے۔

کبھی یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی پروفیسر کراچی میں رہ کر اسلام آباد میں اپنے طلبہ کی تعلیم اور روزمرہ معاملات سے جڑا رہ سکے۔ آج ٹیکنالوجی نے انسان کو یہ سہولت دی ہے کہ استاد اپنے طلبہ کے ساتھ ویڈیو کال اور واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے دور رہ کر بھی رابطہ برقرار رکھ سکتا ہے۔ دنیا نے اگر انسان سے بہت کچھ چھینا ہے تو کچھ نئے راستے بھی دیے ہیں اور شاید انھی راستوں میں زندگی کی تھوڑی سی روشنی باقی ہے۔

میں سوچتی ہوں کہ کیا آنے والی نسلیں بھی انتظار کریں گی؟ کیا وہ بھی کسی پرانی کتاب کے صفحے میں سوکھا ہوا پھول رکھیں گی؟ یا وہ صرف ڈیجیٹل یادداشتوں میں زندہ رہیں گی۔

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے لیکن کچھ چیزیں اب بھی وہی ہیں۔ ماں کی آنکھ میں اولاد کے لیے انتظار آج بھی ہوتا ہے۔ بھوک اب بھی اذیت ناک ہے۔ محبت اب بھی انسان کو بہتر بناتی ہے اور جنگ اب بھی سب کچھ برباد کر دیتی ہے۔مجھے ڈر صرف ایٹم بم سے نہیں لگتا۔

مجھے ڈر اس دن سے لگتا ہے جب انسان دوسرے انسان کے درد پر کچھ محسوس کرنا چھوڑ دے گا۔کیونکہ تہذیبیں صرف اس وقت ختم نہیں ہوتیں جب شہر جلتے ہیں بلکہ تہذیبیں اس وقت ختم ہوتی ہیں جب دل پتھر ہو جاتے ہیں۔ شاید ہمارا اصل امتحان یہی ہے کہ ہم دلوں کو پتھر نہ ہونے دیں۔

میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ شاید انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اس نے جنگیں ایجاد کیں بلکہ یہ ہے کہ اس نے خاموشی کو عادت بنا لیا۔ اب ظلم صرف میدان جنگ میں نہیں ہوتا، ظلم اس لمحے بھی ہوتا ہے جب کوئی بھوکا بچہ اسکرین پر نظر آتا ہے اور ہم چند لمحوں کے افسوس کے بعد اگلی ویڈیو دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ مسلسل بے حسی انسان کے اندر آہستہ آہستہ ایک خلا پیدا کر رہی ہے۔ ایسا خلا جہاں نہ دکھ پوری طرح محسوس ہوتا ہے اور نہ خوشی مکمل طور پر زندہ رہتی ہے۔

آج کے انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم لمحوں میں دنیا بھر کی خبریں جان لیتے ہیں لیکن اپنے گھر کے کسی اداس چہرے کو پڑھنے کی فرصت نہیں رکھتے۔ شاید اسی لیے رشتوں میں وہ گہرائی باقی نہیں رہی جو کبھی خطوں، ملاقاتوں اور طویل انتظار میں ہوا کرتی تھی۔ اب ہر چیز تیز ہے رابطے بھی، فیصلے بھی اور تعلقات بھی۔ مگر روح کی تسکین کبھی رفتار سے حاصل نہیں ہوتی۔

مجھے پرانے وقتوں کی بعض باتیں بہت یاد آتی ہیں۔ شام ڈھلے گھروں کے صحن میں بیٹھے لوگ، بزرگوں کی کہانیاں، بچوں کی بے فکر ہنسی اور وہ سکون جسے اب شاید ہم ترقی کی دوڑ میں کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ جدید دنیا نے ہمیں سہولتیں ضرور دی ہیں، مگر سکون اب بھی انسان کو انسان سے ہی ملتا ہے، کسی مشین سے نہیں۔

اس سب کے باوجود امید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ دنیا اب بھی ان لوگوں کی وجہ سے قائم ہے جو نفرت کے زمانے میں محبت بانٹتے ہیں، جو جنگ کے شور میں امن کی بات کرتے ہیں، جو اندھیروں میں بھی چراغ جلائے رکھتے ہیں۔

شاید انسانیت کی اصل طاقت یہی چھوٹے چھوٹے چراغ ہیں، اگر یہ بجھ گئے تو دنیا واقعی بہت اندھیری ہو جائے گی۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر احساس کو زندہ رکھیں۔ کسی کے دکھ پر رک جائیں، کسی کی بات غور سے سن لیں، کسی تھکے ہوئے انسان کے لیے آسانی پیدا کر دیں، کیونکہ آخرکار دنیا کو بڑی طاقتیں نہیں بلکہ نرم دل انسان بچاتے ہیں۔