ایران اور امریکا حتمی معاہدے کے قریب

آبنائے ہرمز کی بندی کے باعث پوری دنیا بری طرح متاثر ہو رہی ہے


ایڈیٹوریل May 31, 2026

امریکا اور ایران تنازع کے حوالے سے اگلے روز ایک اہم پیش رفت یہ سامنے آئی جس میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیاہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کئی کم اہم امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔

آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول ٹیکس کے مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ مواد کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔ ادھر میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو میں امریکا کے ساتھ ’معاہدے پر پہنچنے کے لیے مؤثر کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو یہ خاصی اہم پیش رفت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے روز ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول ٹیکس کے مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے تاکہ جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔

تاحکم ثانی کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی جب کہ دیگر کم اہم امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔وہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے سچویشن روم میں اجلاس کرنے جا رہے ہیں۔ ایران کو اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر سمندر میں بارودی سرنگیں موجود ہیں تو انھیں ختم کیا جائے گا اور امریکا پہلے ہی اپنے جدید مائن سویپرز کے ذریعے کئی سرنگوں کو تباہ کر چکا ہے جب کہ باقی بارودی سرنگوں کو ایران فوری طور پر ہٹائے گا یا تباہ کرے گا۔

آبنائے ہرمز کی بندی کے باعث پوری دنیا بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی تجارت میں اتھل پتھل کی وجہ سے کئی ملکوں کی معیشت اتار چڑھاؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ پاکستان بھی ایسے ملکوں میں شامل ہے جب کہ یورپی یونین کے ممالک، برطانیہ، جاپان اور چین بھی ایسے ممالک میں شامل ہیں جو تیل کے لیے آبنائے ہرمز کی راہداری کا استعمال کرتے ہیں۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ امریکا کی ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی ٹریفک بحال ہو جائے گی۔ گو ابھی اس معاملے میں کافی مشکلات موجود ہیں، جن میں بارودی سرنگوں کا معاملہ بھی خاصا اہم ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک بھی بری طرح متاثر ہو رہے تھے، اب ان کی معیشت بھی بہتر ہو جائے گی جب کہ بہت سے ملکوں کے جہاز بحیرہ ہرمز میں پھنسے ہوئے تھے، وہ بھی کلیئر ہو جائیں گے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بھی معاملات خاصے آگے بڑھ چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کا کھلنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ گو ابھی حتمی معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ ہی ابھی فریقین نے اس پر دستخط کیے ہیں تاہم دونوں طرف کی قیادت کے لہجے میں نرمی اور اس امید کا اظہار کہ معاہدہ جلد ہو جائے گا، ظاہر کرتی ہے کہ پس پردہ معاملات طے پا چکے ہیں اور اب صرف معاہدے پر دستخط ہونا باقی ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ انھوں نے ملائیشیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو ٹیلی فون پر عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی ہے اور سفارت کاری سے متعلق امور پر بھی بات کی ہے۔

انھوں نے انسانی ہمدردی پر مبنی مؤقف اختیار کرنے پر ملائیشیا اور امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے قدم بڑھانے اور اس تک پہنچنے کے لیے موثر کوششیں کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کی پالیسی تمام شعبوں میں مسلمان اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ ایران ذلت کے ساتھ سفارتکاری کے عمل میں شریک نہیں ہے، ان کا ملک ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، خطے میں عدم استحکام کا ذمے دار اسرائیل ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم لڑیں بھی اور یہ بھی سمجھیں کہ لڑائی کے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہوگا۔ ایرانی قیادت کی باتوں سے بھی یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے ان کا ذہن خاصی حد تک واضح ہو چکا ہے۔ پوری دنیا کی خواہش ہے کہ جنگ کی آگ دوبارہ نہ بھڑکے۔ اس حوالے سے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے کردار کو نہ صرف امریکا نے تسلیم کیا بلکہ ایران نے بھی تسلیم کیا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت ہماری توجہ جنگ کے خاتمے پر ہے۔ ایرانی پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ امور کے رکن فدا حسین مالکی نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، امریکا کے ساتھ تازہ بات چیت میں بیشتر ایرانی تجاویز مان لی گئی ہیں۔

عالمی میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں مزید 60 دن تک توسیع کے لیے ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے،اس دوران ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے تاہم اس نئے معاہدے کی ابھی صدر ٹرمپ یا ایرانی قیادت نے منظوری نہیں دی۔

دوسری جانب برطانوی اخبار گارڈین نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران معاہدے کا خفیہ مسودہ اسرائیل سمیت اتحادی ممالک کو بھیج دیا ہے، معاہدے میں آبنائے ہرمز اور امریکی ناکہ بندی کھولنے کی شقیں شامل ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق مفاہمت کی یادداشت کے نتیجے میں ایران کو اس کے ان 12 ارب ڈالر اثاثوں تک رسائی دی جائے گی جو منجمد پڑے ہیں۔مسودے میں آبنائے ہرمز کو 30 روز میں جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اخبار کے مطابق چین چاہتا ہے کہ معاہدے کی حتمی توثیق اقوام متحدہ کرے۔ ایرانی سرکاری میڈیا تسنیم نے غیر سرکاری مسودے کے کچھ نکات شائع کیے، جسے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مجوزہ مسودے کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے قریب سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں گی تاہم وائٹ ہاؤس نے اس مبینہ مسودے کو مسترد کیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ پاکستان میں بھی اس کے اثرات آئے ہیں۔ اگلے روز وفاقی حکومت نے 30 مئی سے شروع ہونے والے آیندہ ہفتے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 22,22 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کر دیا۔

پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ سے خاصا متاثر ہوا ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ جیسے ہی ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کی خبر میڈیا میں آئی اور اس کے بعد امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا، تو اس کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہو گیا ہے۔

پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی کا رجحان رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22 روپے کمی کا اعلان کیا ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں اور جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان ہو جاتا ہے تو اس کے بعد عالمی تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہو گی۔ پاکستان کی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے جس قدر ممکن ہو سکے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے۔ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا لازمی چیز ہے۔

اس وقت ذرائع نقل وحمل بہت مہنگے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی بناء پر جہاں عام آدمی متاثر ہو رہا ہے وہاں کاروباری طبقہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان کی کنسٹرکشن انڈسٹری تیل کی قیمتوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

اسی طرح بجلی، گیس اور ایل پی جی وغیرہ کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ اگر حکومت توانائی کے ان ذرائع کی قیمتوں میں بھی خاطرخواہ کمی کرے تو اس سے ملک کی زرعی معیشت کو بھی سہارا ملے گا جب کہ مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بھی فائدہ ملے گا۔ اس کے نتیجے میں کاروباری طبقے کی کاسٹ آف پروڈکشن کم ہو گی۔

نتیجتاً پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا اور اندرون ملک کاروباری سرگرمیاں تیز ہونے کی بناء پر روزگار بھی بڑھے گا۔ پاکستان کی حکومت نے گزشتہ دو مہینوں کے دوران خاصی محنت سے کام کیا ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ کے جھٹکے کو برداشت کر گئی۔

اب اگر حکومت اپنی توجہ بحالی کی طرف دے اور آیندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے تو اس سے عام آدمی کو بھی فائدہ ہو گا اور ملک کے کاروباری طبقے کو بھی خاصا فائدہ ہو گا۔ اس وقت سب سے زیادہ زراعت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خاص طور پر چھوٹے کسان کے لیے ایسی پالیسی اختیار کی جائے جس سے وہ زیادہ سے زیادہ فی ایکڑ پیداوار حاصل کر سکے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنی پیداوار کی پوری قیمت بھی مل سکے۔ چھوٹے کسان کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے۔ اگر چھوٹے کسان کے زرعی مداخل سستے ہو جائیں تو اس کی فی ایکڑ پیداوار کا اسے مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔