حملے روکو ورنہ وفاداری ختم، طالبان امیر کی ٹی ٹی پی کو وارننگ، پاکستان غیر مطمئن

طالبان رویے میں ٹھوس تبدیلی نہیں آئی، دہشت گرد نیٹ ورکس میں افغانوں کی بھرتی جاری


کامران یوسف May 31, 2026

اسلام آباد:

پاکستان کو یہ یقین دلانے کی کوشش میں کہ وہ اسلام آباد کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے، طالبان حکومت نے غیر رسمی طور پر یہ پیغام پہنچایا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو وارننگ دی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملے روک دے ورنہ وہ طالبان کی وفاداری سے محروم ہو سکتی ہے۔

ایک معتبر پاکستانی ذریعے نے دی ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ یہ پیغام طالبان حکومت کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے کام کرنے والی ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو لگام دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

تاہم ذریعے کے مطابق پاکستان نے اس اقدام کو ناکافی اور اس جوہر سے عاری قرار دیا ہے جو زمین پر کوئی معنی خیز تبدیلی لانے کے لیے درکار ہے۔

اس معاملے سے واقف حکام نے بتایا کہ متعلقہ حکام کے اندر جاری جائزہ یہ ہے کہ طالبان کی حالیہ یقین دہانیوں کا مقصد بین الاقوامی اور علاقائی دباؤ کو کم کرنا لگتا ہے۔

ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے بارے میں طالبان حکومت کے رویے میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں آئی ہے۔

طالبان حکام کے ان بار بار کے دعووں کے باوجود کہ انہوں نے اسلام آباد کے خدشات کو دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، دہشت گرد نیٹ ورکس میں افغان شہریوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے۔

اہلکار کے مطابق طالبان قیادت کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات وقت حاصل کر سکتے ہیں اور پاکستان کی طرف سے دباؤ کو کم کر سکتے ہیں، لیکن اسلام آباد اب بھی غیر مطمئن ہے۔

مسئلہ قابلِ تصدیق کارروائی کی عدم موجودگی کا ہے۔اگرچہ بداعتمادی بدستور موجود ہے لیکن تعلقات میں مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

پاکستان اور طالبان حکومت کے سینئر حکام نے اپریل کے پہلے ہفتے میں چین کے شہر ارومچی میں ایک ہفتہ طویل بات چیت کی تھی ۔

بیجنگ نے ارومچی مذاکرات کو تعمیری اور مثبت قرار دیا اور کہا تھا کہ امید ہے یہ عمل دونوں پڑوسیوں کے درمیان ایک جامع افہام و تفہیم کا باعث بنے گا۔

ان روابط کے باوجود پاکستان کو مسلسل دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود اگر بہتری کا کوئی حقیقی امکان نظر آئے تو اسلام آباد مذاکرات کے ایک اور دور میں شرکت کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور چین نے افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے لاحق خطرے کو تسلیم کیا اور کابل پر زور دیا کہ وہ ٹی ٹی پی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس جیسی تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کئی مہینوں سے موجود ہے۔ وقتاً فوقتاً سرحد کے ساتھ فوجی تصادم سامنے آتا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں متعدد کراسنگ پوائنٹس پر سرحدی جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں دونوں طرف جانی نقصان ہوا اور اہم تجارتی راستے عارضی طور پر بند ہو گئے۔

اس وقت مزید تلخی آئی جب پاکستان نے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے سرحد پار حملے کیے۔

کابل کی جانب سے وقتاً فوقتاً سفارتی روابط اور یقین دہانیوں کے باوجود پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وعدوں اور اقدامات کے درمیان فرق بداعتمادی کو ہوا دے رہا ہے اور دوطرفہ تعلقات میں بامعنی بہتری کو روک رہا ہے۔