اسٹریپسلز کی گمراہ کن مارکیٹنگ، کمپنی پر تین کروڑ جرمانے کا فیصلہ برقرار

اسٹریپسلز کو دوا کے طور پر پیش کیا، یہ نان میڈی کیٹڈ پروڈکٹ ہے جو فوڈ آئٹم کے طور پر رجسٹرڈ ہے، کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل


بزنس رپورٹر June 01, 2026

اسلام آباد:

کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے اسٹریپسلز کی گمراہ کن مارکیٹنگ پر سی سی پی کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا، کمنی تین کروڑ روپے جرمانہ ادا کرے گی۔

کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریکٹ بینکائزر نے صارفین کو مصنوعات کی نوعیت کے بارے میں گمراہ کیا، ریکٹ بینکائزر نے کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 10(2)(ب) کی خلاف ورزی کی، اسٹریپسلز کو دوا کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ یہ نان میڈی کیٹڈ پروڈکٹ تھی اور اسٹریپسلز اس وقت فوڈ آئٹم کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔

ٹریبونل نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی کے بعد کمپنی نے پیکجنگ اور انتباہات میں نمایاں تبدیلیاں کیں، اب ’’نان میڈی کیٹڈ‘‘ کا انتباہ اردو اور انگریزی میں نمایاں طور پر درج کیا جا رہا ہے پہلے نان میڈی کیٹڈ ہونے کی معلومات کم نمایاں انداز میں فراہم کی جاتی تھیں۔

ٹریبونل نے کمپنی کو اسٹریپسلز کی حیثیت دوا سے فوڈ پروڈکٹ میں تبدیلی کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے کہ کمپنی کم از کم تین اردو اور تین انگریزی اخبارات میں اشتہارات شائع کرے گی، مکمل تعمیل تک اسٹریپسلز سے متعلق وضاحتی اشتہارات ہفتہ وار شائع کیے جائیں گے۔

کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے کہا ہے کہ سی سی پی صارفین کو گمراہ کن مارکیٹنگ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، یہ فیصلہ، اشتہارات میں شفافیت اور صارفین کے باخبر انتخاب کے حق کو مضبوط بناتا ہے۔