ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کا اطلاق لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہوتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فوری توجہ کے لیے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی بلا شبہ تمام محاذوں پر جنگ بندی ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ایک محاذ پر خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہوں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں جبکہ ایران اور لبنان اسرائیلی کارروائیوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دے رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں حزب اللہ کی حمایت سے گریز نہیں کرے گا اور لبنان میں جنگ بندی کسی بھی ممکنہ ایران۔امریکا معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
دوسری جانب بعض امریکی اور اسرائیلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ بندی لازمی طور پر لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتی جس کے باعث معاہدے کی تشریح پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔