لاہور کے آسمان سے چمگادڑیں کیوں غائب ہو رہی ہیں؟

ماضی کے مقابلے میں چمگادڑوں کی تعداد میں واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے


آصف محمود June 01, 2026

شہری آبادیوں کے پھیلاؤ، تیز روشنیوں، پرانے درختوں کی کٹائی اور عوامی سطح پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کے باعث چمگادڑوں کی تعداد دنیا بھر کے بڑے شہروں کی طرح لاہور میں بھی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین جنگلی حیات اور حیاتیات کے مطابق اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو شہری ماحولیاتی نظام کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی یہ مخلوق مستقبل میں مزید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

لاہور کا تاریخی باغ جناح چمگادڑوں کی بڑی پناہ گاہوں میں شمار ہوتا ہے جہاں کئی دہائیوں سے پرانے اور گھنے درختوں پر سیکڑوں چمگادڑیں بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی یہ چمگادڑیں خوراک کی تلاش میں نکلتی ہیں جبکہ دن کے اوقات میں درختوں کی شاخوں سے الٹی لٹکی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ باغ جناح آنے والے شہریوں کے لیے یہ منظر معمول کا حصہ بن چکا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ان کی تعداد میں واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

ماہر جنگلی حیات شاہ زیب خورشید کے مطابق چمگادڑوں کی آبادی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی اربنائزیشن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہروں کی توسیع، نئی سڑکوں، رہائشی و تجارتی منصوبوں اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث پرانے درختوں اور قدرتی مسکنوں کا خاتمہ ہو رہا ہے جس سے چمگادڑوں سمیت متعدد اقسام کی شہری جنگلی حیات متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چمگادڑیں مخصوص درختوں اور نسبتاً پرسکون مقامات پر رہنا پسند کرتی ہیں لیکن شہری سرگرمیوں میں اضافے نے ان کے لیے موزوں ماحول محدود کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق چمگادڑوں کی آبادی میں کمی کی ایک اہم وجہ عوامی سطح پر پائی جانے والی غلط فہمیاں اور توہمات بھی ہیں۔ باغ جناح میں آنے والے بعض شہری چمگادڑوں کو قدرت کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اب بھی ان کے بارے میں منفی تصورات رکھتے ہیں۔

مقامی طالب علم جان میرک کہتے ہیں کہا کہ چمگادڑیں بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور قدرت میں موجود ہر جاندار کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ ان کے مطابق انسانوں کو ان جانوروں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان کے کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک نوجوان جوہام کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چیز بلا مقصد پیدا نہیں کی اور چمگادڑیں بھی قدرتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ اسی طرح محمد منیر نے کہا کہ چمگادڑوں کے بارے میں بہت سی باتیں محض غلط فہمیوں پر مبنی ہیں اور عوام کو ان کے بارے میں سائنسی معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

دوسری جانب شہری ریحانہ احمد کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے سنتی آئی ہیں کہ چمگادڑیں منحوس ہوتی ہیں، اس لیے وہ ان کے قریب جانے سے گریز کرتی ہیں۔ ایک اور خاتون بشریٰ خالد نے کہا کہ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ چمگادڑیں خون چوستی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ان سے خوف محسوس کرتی ہیں۔ امتیاز حسین کے مطابق چمگادڑوں کی اچانک پرواز اور غیر معمولی شکل و صورت بعض افراد میں خوف اور کراہت پیدا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام میں پائی جانے والی ان غلط فہمیوں کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں پائی جانے والی بیشتر چمگادڑیں انسانوں کے لیے بے ضرر ہیں اور ماحولیاتی نظام میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں۔

چمگادڑیں صرف ایک جنگلی جانور نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حشرات خور چمگادڑیں بڑی تعداد میں مچھروں، پتنگوں اور دیگر کیڑوں کو کھاتی ہیں جس سے قدرتی طور پر کیڑوں کی آبادی قابو میں رہتی ہے۔ اسی طرح بعض اقسام پھولوں کے زرگل منتقل کرنے اور بیج پھیلانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر چمگادڑوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو تو اس کے اثرات پورے ماحولیاتی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

سینئر ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر محمد اظہر کے مطابق چمگادڑیں ایکو سسٹم کا لازمی جزو ہیں اور قدرتی ماحول میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چمگادڑوں کی موجودگی دراصل ایک صحت مند ماحولیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کے مطابق شہری علاقوں میں ان کے تحفظ کے لیے عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ کیا جا سکے اور لوگ ان جانوروں کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ حیاتیات کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت دنیا کے متعدد بڑے شہروں میں تیز مصنوعی روشنیاں، فضائی آلودگی، شور اور قدرتی رہائش گاہوں کے خاتمے نے شہری جنگلی حیات کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق چمگادڑوں سمیت متعدد اقسام کی اربن وائلڈ لائف گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نمایاں دباؤ کا شکار ہوئی ہے جبکہ کئی انواع شہری علاقوں سے تقریباً غائب ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چمگادڑوں اور دیگر شہری جنگلی حیات کو محفوظ رکھنے کے لیے پرانے درختوں کا تحفظ، گرین کوریڈورز کی بحالی، غیر ضروری روشنیوں میں کمی، شہری پارکوں میں مقامی درختوں کی شجرکاری اور جنگلی حیات دوست منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق باغ جناح جیسے مقامات نہ صرف لاہور کے سبز ورثے کی علامت ہیں بلکہ شہری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان مقامات اور یہاں موجود جنگلی حیات کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے تو نہ صرف چمگادڑوں کی آبادی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے بلکہ شہری ماحولیاتی نظام کو بھی مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول چمگادڑوں کی تعداد میں مسلسل کمی محض ایک نوع کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ شہری ماحول میں حیاتیاتی تنوع کے کمزور ہونے کی علامت ہے، جس پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
آصف محمود
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔