سندھ کی سرکاری جامعات نے وفاقی حکومت کی جانب سرکاری ملازمین کے لیے ہاؤس سیلنگ الائونس میں کیے گئے اضافے کو اپنانا شروع کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی کے بعد اب کراچی میں ہی قائم دو دیگر جامعات ’’داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی اور بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری " نے بھی اپنے تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کو اس الائونس کی ادائیگی شروع کردی ہے۔
دونوں جامعات کے آفیشل ذرائع نے ملازمین کو ہائوس سیلنگ 85 فیصد اضافے کے ساتھ ادا کرنے اور اسے تنخواہ کے ساتھ ہی جاری کرنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔
واضح رہے کہ ہائوس سیلنگ الائونس میں یہ اضافہ گزشتہ بجٹ 2025/26 میں کیا گیا تھا اور اسے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے نومبر 2025 سے لاگو کیا گیا تھا۔
ادھرداؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی کے آفیشل ذرائع نے "ایکسپریس " کو بتایا کہ ہم نے یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ اور سینیٹ سے منظوری کے بعد کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر ہائوس سیلنگ میں اضافے کی منظوری حاصل کی ہے جسے یونیورسٹی اپنے ہی خزانے سے ادا کررہی ہے۔
یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلی سندھ نے اپنی منظوری کے نوٹ میں یہ واضح کیا تھا کہ اس الاؤنس کا کوئی بھی مالی بوجھ حکومت سندھ پر نہیں ڈالا جائے گا جبکہ بہتر ملی منصوبہ بندی کے سبب یونیورسٹی کے پاس اتنے فنڈز اور گرانٹ موجود یے کہ ہم اپنے ملازمین کو یہ الائونس دے سکتے ہیں۔
ادھر رابطہ کرنے پر بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے آفیشل ذرائع کا کہنا تھا کہ این ای ڈی اور داؤد انجینئرنگ کے بعد ہمارے ملازمین کا اصرار تھا کہ ہاؤس سیلنگ کا انکریمنٹ انھیں بھی دیا جائے چونکہ ہم پہلے ہی سے ہائوس سیلنگ تنخواہ کے ساتھ جاری کرتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اس روشنی اور مطالبہ پر انتظامیہ نے انکریمنٹ کو بھی adopt کرلیا ہے اور مئی میں جاری اپریل کی تنخواہیں ہاؤس سیلنگ انکریمنٹ کے ساتھ ہی جاری ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے اپنے ملازمین کو ہاؤس سیلنگ الاؤنس 85 فیصد اضافے کے ساتھ گزشتہ کئی ماہ سے دیا جارہا ہے اس اضافے سے صرف گریڈ 22 کا الائونس 89 ہزار روپے سے بڑھ کر 1 لاکھ 65 ہزار روپے ہوگیا ہے جبکہ گریڈ 1 اور 2 کے ملازمین کا الائونس ساڑھے 6 ہزار سے بڑھ کر 12 ہزار کے لگ بھگ ہوگیا ہے۔