اپوزیشن لیڈر کے ایم سی کا شہر میں پانی کے بدترین بحران پر میئر کراچی کو تین دن کا الٹی میٹم

اگر 3دن میں پانی کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو جماعت اسلامی واٹر کاپوریشن کے ہیڈ آفس سمیت شہر بھر میں مظاہرے کرے گی


اسٹاف رپورٹر June 01, 2026

قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہر میں پانی کے بدترین بحران، نصف سے زیادہ شہر میں پانی کی بندش کے حوالے سے قابض میئر کو تین دن کا الٹی میٹم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر 3دن میں شہر میں پانی کی فراہمی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو جماعت اسلامی واٹر کاپوریشن جس کے چیئر مین مرتضیٰ وہاب ہیں‘ کے ہیڈ آفس سمیت شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ  ایک طرف عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں،دوسری طرف حکومتی سرپرستی میں ٹینکر مافیا کاراج ہے اور پانی کی لائنوں کو  ڈائورٹ کرنے اور ناجائز کنکشن کا سلسلہ جاری ہے جس کو روکنے والا کوئی نہیں، پیپلز پارٹی کے 18سالہ بدترین دور حکمرانی کے باعث کراچی آج مسائلستان بنا ہوا ہے اور عوام مسائل کی رینکینگ کی فہرست میں کراچی پورے ملک کا نمبر ون شہر بن گیا ہے۔

 اس وقت کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ خود پیپلز پارٹی ہے، کراچی کی تباہی و بربادی میں ایم کیو ایم ہمیشہ پیپلز پارٹی کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے، فاروق ستار کا K-4منصوبہ مصطفیٰ کمال کے دور میں شروع ہوانے کا دعویٰ سراسر جھوٹا ہے، ہل پارک کے حوالے سے بھی فاروق ستار جھوٹ بول رہے ہیں۔

 جماعت اسلامی کے یوسی چیئر مین ریحان اللہ والا نے ہی ہل پارک پر قبضہ مافیا کے خلاف سب سے پہلے آواز اُٹھائی،پھر ہمارے یوتھ کونسلرتیمور احمد نے اس مسئلے کی پریس کانفرس میں نشاندہی کی، فاروق ستار کو تو اس جگہ کا علم تک نہیں تھا، ہمارے یوسی چیئر مین سے پوچھ کر ہی وہ وہاں پہنچے، مرتضیٰ وہاب کراچی میں کمرشلائزیشن کے حوالے سے بھی نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں، مرتضیٰ وہاب نعمت اللہ خان پر تنقید کرکے اپنے جرائم نہیں چھپا سکتے۔

 2004میں کمرشلائزیشن کی منظور کردہ قرار داد پر پیپلز پارٹی کی شمیم ممتاز کے دستخط بھی موجود ہیں کمرشلائزیشن کی پالیسی  طویل عرصہ سے جاری ہے، 1970میں کے ڈی اے کے ایک لیٹر کے مطابق شاہراہ فیصل کی کمرشلائزیشن کی منظوری دی گئی، قانونی کمرشیلائزیشن تو کسی بھی ترقی یافتہ شہر کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی گلی گلی غیر قانونی تعمیرات کی سر پرستی کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ غیر قانونی کمرشلائزیشن کی مخالفت اور اس کے خلاف جدو جہد کی اور اس وقت بھی جب مرتضیٰ وہاب پارکوں کو کاٹ کاٹ کر کاروبار کے لیے اپنے دوستوں میں بانٹ رہے تھے، جماعت اسلامی اس معاملے کو عدالت میں لے گئی، آج بھی جھیل پارک، ہل پارک، عمر شریف پارک، باغ ابن قاسم، کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس اور دیگر پارکوں میں مرتضیٰ وہاب کی سرپرستی میں تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

 شہر میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات بھی ہو رہی ہیں اور سندھ میں چلنے والا سسٹم اس کا سرپرست بنا ہوا ہے۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ حب نہر کی تعمیر کے باوجود پانی کی مطلوبہ سپلائی نہیں ہورہی،دوسری نہر بننے کے وقت مرتضی وہاب نے کہا تھا کہ اس سے 100ایم جی ڈی کی پانی کی مزید سپلائی ہوگی لیکن آج 60سے 65ایم جی ڈی کی سپلائی ہورہی ہے۔

دھابیجی سے گزشتہ ڈیڑھ مہینے میں 5دفعہ پانی کی فراہمی معطل ہوئی ہے، تین مرتبہ پانی کی لائن پھٹی اور دودفعہ وہاں شٹ ڈاؤن ہوا ہے، 21میں سے صرف 10موٹریں چل رہی ہیں، جس کے باعث کراچی اس وقت پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے، مرتضی وہاب کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ اگر نصف سے زائد شہر کو پانی دستیاب نہیں ہورہا ہوتا تو شہر میں دنگا وفساد ہوجاتا،خود سندھ حکومت کی رپور ٹ کے مطابق اس وقت کراچی کو پچاس فیصد پانی مل رہا ہے، جبکہ دھابیجی میں مسائل کے باعث 25فیصد پانی کی سپلائی مزید کم ہوگئی ہے، فاروق ستار جھوٹ بھول رہے ہیں کہ کے فور کا منصوبہ مصطفی کمال کے دور میں بنا۔

دستاویزات کے مطابق نعمت اللہ خان کی نظامت کے دور 2002میں اس کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ بنی اور 2005میں اس کا پی سی ون بننا شروع ہوا،حب نہرکا نظام عبدالستار افغانی کے دور میں شروع ہوا جبکہ کے ٹو اور کے تھری کا منصوبہ بھی نعمت اللہ خان کے دور میں بنااور کے فور منصوبے کی شروعات بھی ان ہی کی دور میں ہوئی۔

 سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ  2016میں ایم کیو ایم کے معید انور کے خط کے مطابق ایم کیو ایم نے حمایت کی تھی کہ صفا ئی کا سارا نظام سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کردیا جائے،آج پورا کراچی کچرا کنڈی بنا ہواہے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اپنی ذمہ داریوں میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، اس کا بجٹ 43ارب روپے کا ہے، جبکہ سوئیپ کے نام سے نئے محکمے کو 29ارب روپے کا قرضہ دلوایا گیاہے لیکن پورے شہر میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔

عید کے دنوں میں صفائی کی صورتحال کے حوالے سے صرف حافظ نعیم الرحمن نے ہی نہیں بلکہ مختلف چینلز خود عید کے دنوں میں کراچی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی خراب دکھارہے تھے،اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے اپنے اپنے علاقوں کی ویڈیوز بناکر اپلوڈ کی ہیں، مرتضی وہاب جھوٹ،غلط بیانی اور باتوں کو توڑ مروڑ کر حافظ نعیم الرحمن پر الزام لگاکر اپنی نا اہلی کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے کراچی کو انتہائی بدترین صورتحال سے دوچار کیا ہواہے، جب تک صفائی کے نظام کو ٹاؤن اور یوسز کی سطح پر منتقل نہیں کیاجاتا کراچی میں صفائی کے معاملات بہتر نہیں ہوسکتے،مرتضی وہاب نے تین سال میں آج تک کراچی کے ٹاؤن چیئر مینوں کے ساتھ ایک بھی میٹنگ نہیں کی۔

پریس کانفرنس میں سیکرٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری،نائب صدرپبلک ایڈ کمیٹی عمران شاہد،ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے یم سی تمیور احمد،چیئرمین یوسی5 صفورا ٹاؤن نعمان الیاس و دیگر بھی موجود تھے۔