اسلام آباد:
نئے وفاقی بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے جبکہ بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
نئے بجٹ میں عوام پر 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
بجٹ میں شعبہ صحت کے نئے اور پرانے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 22 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے شعبہ صحت کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں ڈرگ کنٹرول کے لیے صرف 14 کروڑ اور ایکشن پلان برائے قومی آبادی کے لیے صرف 50 کروڑ روپے رکھے جائیں گے۔
ہیلتھ سیکٹر کے 21 جاری اور 12 نئے منصوبوں کے لیے بجٹ تجویز کیا گیا ہے، نئے منصوبوں کیلئے 2 ارب 64 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اسلام آباد کینسر ہاسپٹل کے لیے ایک ارب 29 کروڑ 76لاکھ روپے، وزیراعظم کے انسداد ہیپاٹائٹس سی پروگرام کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ وزیراعظم کے انسداد ذیابیطس پروگرام کیلئے ایک ارب روپے، انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس سسٹم کی ترقی پر ایک ارب 83 کروڑ روپے، قومی صحت کے جاری منصوبوں کے لیے 19.36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اسلام آباد کینسر اسپتال کے لیے 1.298 ارب روپے، اسلام آباد میں جناح اسپتال پولی کلینک منصوبے کے لیے 1.5 ارب روپے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی متعدی امراض لیبارٹری کے لیے ایک ارب روپے، جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے لیے 50 کروڑ روپے، پمز میں اسٹروک اور کریٹیکل کیئر سہولیات کی توسیع کے لیے 1.5 ارب روپے مختص ہونے کا امکان ہے۔
اسلام آباد کینسر اسپتال کے آلات کی خریداری کے لیے 1.5 ارب روپے، وزیراعظم قومی صحت پروگرام کے لیے 2 ارب روپے، ایچ آئی وی، ایڈز، ملیریا اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کے لیے 50کروڑ روپے، ایکشن پلان برائے قومی آبادی کے لیے صرف 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔