کراچی؛ 22 لڑکیوں کا ریپ اور اغوا کرکے مبینہ زیادتی کے مقدمے کا ڈراپ سین ہوگیا

مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، اپنی مرضی سے نریش کے ساتھ گئی، ہم نے پسند کی شادی کی ہے، لڑکی کابیان


کورٹ رپورٹر June 03, 2026
فوٹو: فائل

کراچی:

22 لڑکیوں کا ریپ اورلڑکی کو اغوا کرکے مبینہ زیادتی کے مقدمے کا ڈراپ سین ہوگیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو مقدمے کی سماعت میں سب انسپکٹر روبینہ شاہین 22لڑکیوں کا ریپ کرنے کے شواہد عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہیں۔

لڑکی کے اغوا اور زیادتی کا الزام بھی پسند کی شادی  کا معاملہ نکلا، جس پر متاثرہ لڑکی نے اپنا زیر دفعہ 164 کا بیان قلمبند کرادیا، جس میں اس نے اپنے بیان میں اغوا کا الزام غلط قرار دیدیا۔

لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، میں اپنی مرضی سے نریش کے ساتھ گئی تھی۔ نریش اور میں ایک دوسرے کو پسند کرتے اور ہم نے پسند کی شادی کی ہے۔ اغوا اور زیادتی کا مقدمہ جھوٹا ہے جبکہ پولیس مجھے اور میرے شوہر کو تنگ کررہی ہے۔

عدالت نے لڑکی سے استفسار کیا کہ آپ کس کے ساتھ جانا چاہتی ہیں؟ جس پر لڑکی نے کہا کہ میرے اور شوہر کے گھر والوں کو اس شادی سے کوئی اعتراض نہیں ہے، اس لیے میں اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔

بعد ازاں عدالت نے متاثرہ لڑکی کا بیان قلمبند کرکے لڑکی کو شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی۔ عدالت نے ملزم کو لڑکی کو ساتھ لے جانے کے لیے 50 ہزار روپے کے حفاظتی مچلکے بھی جمع کرانے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ ملزم کے خلاف نیپیئر تھانے میں مقدمہ درج ہے۔