گومل یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں اور مالی بے ضابطگیوں کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا

514 مشکوک ڈگریاں جاری ہونے کا انکشاف، تحقیقات کا دائرہ وسیع، وزیر تعلیم کی بلاتفریق کارروائی کی یقین دہانی


اسٹاف رپورٹر June 03, 2026
فوٹو فائل

گومل یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں کے اجرا اور مالی بے ضابطگیوں کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آگیا ہے، جس کے نتیجے میں 514 مشکوک ڈگریوں کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ متعدد اہم افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ہونے والی بے قاعدگیوں کا انکشاف موجودہ انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی جانچ پڑتال کے دوران ہوا۔

ابتدائی تحقیقات میں سیکڑوں ڈگریوں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے اور ان کی منسوخی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔سنڈیکیٹ کے فیصلے کی روشنی میں سابق ڈائریکٹر افیلی ایشن کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ جعلی ڈگری کیس میں سابق کنٹرولر امتحانات کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید افراد کے خلاف بھی کارروائی متوقع ہے۔

یونیورسٹی میں مالی خرد برد اور انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے نئی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ احتسابی عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ گومل یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کا سخت احتساب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو کرپشن اور جعلی ڈگری مافیا سے پاک کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے تحت صوبے کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور احتسابی عمل بلا امتیاز جاری رہے گا تاکہ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔