ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اسے چار مختلف مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فریقیں کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے یا فیصلے تک نہیں پہنچا جا سکا۔
فارس نیوز نے ایرانی مذاکراتی ٹیم سے وابستہ ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ہم کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جس میں لبنان سے متعلق معاملات کو نظر انداز کیا گیا ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نئے مسودے پر ایران نے ابھی تک اپنا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کو دھمکیوں کے ذریعے دبانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم نے امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کا مقابلہ کرکے اپنی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا سخت، فیصلہ کن اور عبرتناک جواب دیا جائے گا۔