غیر یقینی کی بجائے امن کی حقیقی راہ ہموار کی جائے

دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اس گزرگاہ سے ہوتا ہے


ایڈیٹوریل June 04, 2026

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ چند بیانات، چند سفارتی پیغامات اور چند عسکری فیصلوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش نے نہ صرف خطے کی سیاسی حرکیات کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سلامتی، بین الاقوامی سفارت کاری اور عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات کو بھی براہِ راست اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تازہ ترین حالیہ اطلاعات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ایک طرف مذاکرات، جنگ بندی اور مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں جب کہ دوسری طرف دھمکیوں، فضائی حملوں، پابندیوں اور عسکری تیاریوں کا سلسلہ بھی رکا نہیں۔ یہی متضاد کیفیت اس بحران کی سب سے پیچیدہ اور خطرناک جہت ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے حتمی متن پر غور و خوض دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ مسلسل کشیدگی اور محدود جنگی کیفیت کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ تاہم تہران کی محتاط روش کو محض سفارتی تاخیر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ایران کی قیادت گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات کی بنیاد پر ہر معاہدے کو محض قانونی دستاویز نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کے امتحان کے طور پر دیکھتی ہے۔ 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل بداعتمادی، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور سیاسی محاذ آرائی سے عبارت رہے ہیں۔

ایسے ماحول میں کسی بھی نئی مفاہمت کے لیے صرف شرائط کا تعین کافی نہیں بلکہ اس امر کی یقین دہانی بھی ضروری ہوتی ہے کہ معاہدہ وقتی سیاسی ضرورت یا اقتدار کی تبدیلی کی نذر نہیں ہوگا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ایران کے موجودہ رویے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ تہران کے نزدیک مسئلہ صرف جوہری پروگرام یا اقتصادی پابندیوں کا نہیں بلکہ قومی خودمختاری، علاقائی اثرورسوخ اور اس سیاسی شناخت کا بھی ہے جو گزشتہ چار دہائیوں میں تشکیل پائی ہے۔ ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کے بنیادی ڈھانچے پر وسیع رعایتیں دیتا ہے تو داخلی سطح پر اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ اگر وہ مکمل سختی اختیار کرتا ہے تو اقتصادی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

چنانچہ اس کی موجودہ حکمت عملی بظاہر وقت حاصل کرنے، شرائط کا تفصیلی جائزہ لینے اور زیادہ سے زیادہ سفارتی فوائد حاصل کرنے پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فریقین کسی اہم پیش رفت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کے بیانات میں اعتماد اور سیاسی خوداعتمادی نمایاں ہے، لیکن زمینی حقائق اس خوش بینی کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ اگر مذاکرات واقعی اتنے ہی نتیجہ خیز ہیں جتنا کہ امریکی قیادت دعویٰ کر رہی ہے تو پھر خطے میں عسکری سرگرمیوں کا تسلسل، لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کے بحران اور ایران کی جانب سے بار بار سامنے آنے والے تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بین الاقوامی سیاست میں اکثر اوقات بیانات کا مقصد حقیقت بیان کرنا نہیں بلکہ ماحول تشکیل دینا ہوتا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی فریقین سفارتی نفسیات کو اپنے حق میں استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بحران کا سب سے حساس پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی اسے سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہیں جب کہ ایران مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اگرچہ تہران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، لیکن مغربی دنیا میں اس حوالے سے شکوک و شبہات بدستور موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پابندیوں، معاہدوں اور مذاکرات کا مرکزی محور جوہری سرگرمیاں بنی ہوئی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان کہ ایران بعض ایسے معاملات پر بھی گفتگو کے لیے تیار ہوا ہے جنھیں وہ ماضی میں ناقابلِ بحث قرار دیتا تھا، یقیناً اہم پیش رفت ہے، مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی وابستہ ہے کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے صرف بات چیت کافی نہیں بلکہ اعتماد سازی کے ٹھوس اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جوہری تنازعہ محض سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اسرائیل واحد ریاست ہے جسے جوہری صلاحیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اس نے کبھی باضابطہ طور پر اس کا اعتراف نہیں کیا۔ ایران اس صورتحال کو علاقائی عدم توازن قرار دیتا ہے جب کہ مغربی ممالک اسرائیل کو اپنے تزویراتی اتحاد کا اہم ستون سمجھتے ہیں۔ اس تضاد نے خطے میں عدم اعتماد کو مزید گہرا کیا ہے اور جوہری بحث کو صرف تکنیکی یا قانونی مسئلہ نہیں رہنے دیا۔ آبنائے ہرمز کا بحران اس پورے تنازعے کی معاشی جہت کو نمایاں کرتا ہے۔ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اس گزرگاہ سے ہوتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ یا غیر یقینی صورتحال نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی تجارتی نظام میں بھی بے چینی پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور دیگر بڑی طاقتیں اس آبی راستے کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔

تاہم ایران اسے محض بحری گزرگاہ نہیں بلکہ ایک تزویراتی اثاثے کے طور پر دیکھتا ہے۔ تہران کے نزدیک اگر اس پر اقتصادی پابندیاں برقرار رہتی ہیں اور اس کے مفادات کو مسلسل نقصان پہنچایا جاتا ہے تو وہ بھی اپنے دستیاب وسائل اور جغرافیائی حیثیت کو سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ لبنان میں جاری صورتحال نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی محض دو فریقوں کا تنازع نہیں بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اگرچہ مختلف سطحوں پر جنگ بندی اور ثالثی کی کوششوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ فضائی حملوں، سرحدی جھڑپوں اور دھمکی آمیز بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جنگ بندی عارضی اور ہر مفاہمت غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لبنان کا محاذ تہران کے لیے محض خارجی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی وسیع تر علاقائی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

حزب اللہ کو ایران کی علاقائی پالیسی میں ایک اہم مقام حاصل ہے اور اسرائیلی کارروائیوں کو تہران اپنے اثرورسوخ کے خلاف اقدام تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان میں پیش آنے والا ہر واقعہ براہ راست ایران اور امریکا کے مذاکراتی ماحول کو متاثر کرتا ہے، اگر اسرائیلی حملے جاری رہتے ہیں تو مذاکراتی عمل کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔اس پورے بحران میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کے اندر پیدا ہونے والی دراڑ بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو تقریباً غیر متزلزل سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ اطلاعات نے اس تاثر کو جزوی طور پر چیلنج کیا ہے، اگر واقعی امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے سخت لہجے میں گفتگو کی اور لبنان میں فوجی کارروائیوں پر ناراضی کا اظہار کیا تو یہ محض شخصی اختلاف نہیں بلکہ پالیسی کے زاویوں میں فرق کی علامت ہے۔

واشنگٹن خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے جب کہ اسرائیلی قیادت اپنی سلامتی کے نام پر زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپنانے پر آمادہ نظر آتی ہے۔یہ اختلافات اگرچہ دونوں ممالک کے اسٹرٹیجک اتحاد کو فوری طور پر متاثر نہیں کریں گے، لیکن ان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے دائرہ کار اور اس کے سیاسی نتائج کے بارے میں سوچ یکساں نہیں رہی۔پاکستان کا مؤقف اس پورے منظرنامے میں نسبتاً متوازن اور تعمیری دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد نے مسلسل تحمل، سفارت کاری، مذاکرات اور ثالثی پر زور دیا ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف پاکستان کے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بھی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب طاقت کے استعمال کو مسائل کا حل سمجھا جا رہا ہے، پاکستان کی جانب سے مکالمے اور سیاسی حل کی حمایت قابلِ توجہ ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے کی جانب سے سفارت کاری کو واحد پائیدار راستہ قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ عسکری کارروائیاں وقتی کامیابیاں تو دے سکتی ہیں لیکن دیرپا امن کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتیں۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ فریقین جنگی بیانات اور سیاسی انا کے حصار سے نکل کر حقیقت پسندانہ سفارت کاری کو موقع دیں۔ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ جنگیں اگرچہ طاقت کا اظہار بن سکتی ہیں، لیکن مسائل کا مستقل حل نہیں بن پاتیں۔ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات، اعتماد سازی اور سیاسی تدبر کے ذریعے ہی حاصل ہوتا ہے۔

ایران، امریکا اور اسرائیل کے سامنے بھی یہی راستہ موجود ہے، اگر انھوں نے اسے اختیار نہ کیا تو موجودہ بحران آنے والے برسوں میں ایک ایسے طویل عدم استحکام میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کی قیمت صرف متعلقہ ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو ادا کرنا پڑے گی۔ مشرق وسطیٰ کو اس وقت میزائلوں سے زیادہ مذاکرات، دھمکیوں سے زیادہ حکمت اور عسکری برتری سے زیادہ سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی وہ عناصر ہیں جو جنگ کے بادلوں کو چھانٹ کر امن کی کسی حقیقی صبح کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔