صنعتی صارفین پر بھاری فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز

گرڈ سے کم بجلی لینے، سولر پر منتقل ہونیوالی صنعتوں کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہو گا


شہباز رانا June 03, 2026

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو نئی "دو حصوں پر مشتمل صنعتی ٹیرف پالیسی" پیش کی ہے، جس کے تحت قومی گرڈ سے کم بجلی استعمال کرنیوالی صنعتوں پر فکسڈ چارجز میں نمایاں اضافہ کیاجائے گا، جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو فی یونٹ نرخوں میں رعایت دی جائیگی۔

ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا مقصد بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے استعداد ادائیگیوں کے بوجھ کوکم کرنااورصنعتی صارفین کو قومی گرڈ سے منسلک رکھناہے. 

حکومت کا مؤقف ہے کہ بہت سی صنعتیں اپنی منظور شدہ لوڈ صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے کم بجلی استعمال کررہی ہیں اورسولر یادیگرمتبادل ذرائع کی طرف منتقل ہورہی ہیں،جس سے بجلی کے نظام پر مالی دباؤ بڑھ رہاہے۔

پاورڈویژن کے مطابق اگر کوئی صنعتی صارف اپنی منظور شدہ لوڈصلاحیت کا 50 فیصد یا اس سے زیادہ استعمال کرے، تو اسے بجلی کے نرخوں میں تقریباً 1 سے 2 امریکی سینٹ فی یونٹ تک رعایت مل سکتی ہے، جس سے صنعتی بجلی کی قیمت 7 سے 8 سینٹ فی یونٹ تک آسکتی ہے، زیادہ استعمال کی صورت میں نرخ 6 سینٹ فی یونٹ تک بھی گرسکتے ہیں۔

وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے حال ہی میں آئی ایم ایف حکام سے ملاقات میں اس تجویز پر تبادلہ خیال کیا، آئی ایم ایف نے صنعتی بجلی کی کھپت اورگرڈچھوڑنے والے صارفین کے اعداد وشمارطلب کیے ہیں، جس کے بعد ہی حتمی منظوری کافیصلہ کیاجائیگا۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یہ پالیسی آئندہ دو ماہ میں نافذکی جاسکتی ہے، ابتدائی مرحلے میں اس کا اطلاق صنعتی صارفین پر ہوگا، جبکہ بعد میں اسے تجارتی اورگھریلوصارفین تک بھی توسیع دی جاسکتی ہے۔

حکومت کادعویٰ ہے کہ اس پالیسی سے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، بجلی کے نظام کا بہتر استعمال ممکن ہوگااور صنعتوں کو عالمی سطح پر مسابقتی نرخوں پر بجلی دستیاب ہوسکے گی۔

ناقدین کاکہناہے کہ بجلی کے مہنگے نرخوں کے بنیادی مسئلے کوحل کیے بغیر اضافی فکسڈچارجز صنعتوں پر مزید مالی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔