فوجی حکمتِ عملی اور قدرت کے نظام سے کھیل کا گٹھ جوڑ جدید دنیا کا وہ بھیانک محاذ ہے جس کی سنسنی کا اندازہ لگانا بھی عام انسان کے بس میں نہیں۔ ہم نے بارود کی ہولناکی دیکھی، جوہری بموں کی تباہ کاری کے قصے سنے، لیکن ذرا سوچیے کہ اگر کوئی طاقتور ملک خود اس دھرتی کے قدرتی نظام کو ہی ایک ہتھیار بنا لے؟ اگر موسموں کے رخ بدل دیے جائیں، مصنوعی زلزلے لائے جائیں یا پورے ماحولیاتی نظام کو آہستہ آہستہ موت کی نیند سلا دیا جائے، تو پھر انسان کہاں پناہ ڈھونڈے گا؟
اس ہولناک تباہی کو روکنے کے لیے ستر کی دہائی میں اقوامِ متحدہ نے ایک عالمی معاہدہ تیار کیا تھا جسے ’این موڈ‘ کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد انسانوں کی جنگوں اور زمین کی قدرتی زندگی کے درمیان ایک لوہے کی دیوار کھڑی کرنا تھا۔ مگر افسوس، آج جب یہ دنیا شدید موسمیاتی بحران اور طاقت کی اندھی دوڑ کی زد میں ہے، یہ اہم ترین معاہدہ کہیں فائلوں کے ڈھیر میں دب کر رہ گیا ہے۔ اگر ہم اپنی دھرتی کو بچانا چاہتے ہیں، تو اس سوئے ہوئے قانون کو جگانا اور پوری دنیا کے سامنے اس آواز کو دوبارہ اٹھانا اب زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔
اس قانون کی بنیاد کسی خیالی کہانی پر نہیں، بلکہ ماضی کے ان سچے اور دل دہلا دینے والے واقعات پر ہے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ انسان قدرت کے ساتھ کتنی بڑی اور خطرناک ہیرا پھیری کر سکتا ہے۔ پچھلی صدی کے اواخر میں، ایک بڑی عالمی طاقت نے ایک طویل علاقائی جنگ کے دوران ’’آپریشن پوپائے‘‘ نامی ایک انتہائی خفیہ مشن چلایا۔ اس مشن کا مقصد بادلوں پر کیمیکلز کا چھڑکاؤ کر کے مصنوعی اور بے وقت بارشیں کروانا تھا۔ ہدف بالکل صاف اور خطرناک تھا: مون سون کے سیزن کو اتنا لمبا کر دیا جائے کہ راستے دلدل بن جائیں، سیلاب آجائیں اور مخالف فوج کی رسد اور سپلائی لائنیں مکمل طور پر کٹ جائیں۔
طیاروں کے ذریعے بادلوں پر چاندی کا زہر چھڑک کر بارشوں کا یہ سلسلہ ایک سے ڈیڑھ مہینے تک بڑھا دیا گیا، جس نے وہاں کی ہنستی کھیلتی زراعت اور ماحولیاتی توازن کو ہمیشہ کے لیے اپاہج کر دیا۔ جب یہ راز فاش ہوا، تو دنیا کے ہوش اڑ گئے اور اسی صدمے کے بعد اس عالمی معاہدے کی ضرورت پیش آئی۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے کھلاڑی ہمیشہ قانون کی روح کا گلا گھونٹتے آئے ہیں اور ’’پرامن مقاصد‘‘ کا لبادہ اوڑھ کر ایسے چور راستے نکال لیتے ہیں جو انہیں بچا لیں۔ اسی دور کے ایک اور تنازعے میں ایک اور طاقتور ملک نے لاکھوں ایکڑ جنگلات پر ایسے زہریلے اسپرے کیے جس سے درختوں کے پتے جھڑ گئے اور زمین بنجر ہو گئی، یعنی پورے ماحولیاتی نظام کو ہی مٹا دیا گیا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر، 1991 کی ایک علاقائی جنگ میں پسپا ہوتی ہوئی افواج نے دانستہ طور پر سات سو سے زائد تیل کے کنوؤں کو آگ لگا دی اور لاکھوں بیرل خام تیل سمندر میں بہا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خطے کا درجہ حرارت اچانک گرگیا، موسم کا توازن بگڑ گیا اور یہاں کی تپش نے ہزاروں میل دور موجود برفانی پہاڑوں پر کالے رنگ کی بارش برسا دی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ جب ایک ملک ماحول پر وار کرتا ہے، تو اس کا زخم پوری دنیا کو لگتا ہے۔
آج یہ جنگ ایک نئے اور جدید ترین روپ میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک طاقتور ملک نے اپنے دور افتادہ شمالی علاقے میں ’’ہارپ‘‘ (HAARP) نامی ایک بہت بڑی تنصیب قائم کی اور اس کے حریف ممالک نے بھی اپنے ہاں ایسے ہی مراکز بنا لیے۔ کہنے کو تو یہ فضا کی بالائی تہوں پر تحقیق کے مراکز ہیں، لیکن حقیقت میں یہ تنصیب اتنی طاقتور لہریں خارج کرتی ہے کہ حریف ممالک اس پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ الزامات ہیں کہ ان لہروں کے ذریعے دشمن ملکوں کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈالا جا سکتا ہے، ان کے موسموں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور زمین کی گہرائیوں کو ہلا کر زلزلے تک لائے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ ان کے فوجی استعمال کے ٹھوس ثبوت خفیہ فائلوں میں بند ہیں، لیکن فضا کے توازن کو بدلنے والے ایسے مہیب ڈھانچوں کی موجودگی ہی دنیا میں شدید بے اعتمادی کا زہر گھول رہی ہے۔
سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اب یہ سب کچھ ’’ترقی اور زراعت‘‘ کے نام پر ہو رہا ہے۔ ایک بڑا ملک اپنے ہاں زراعت کو بچانے اور بادلوں کو قید کرنے کے لیے ہزاروں راکٹوں اور طیاروں کا ایک ایسا جال چلا رہا ہے جو لاکھوں مربع کلومیٹر کے موسم کو بدل دیتا ہے۔ جب ایک سپر پاور اتنے بڑے پیمانے پر بادلوں کا رخ موڑتی ہے، تو وہ پڑوسی ملکوں کے حصے کا پانی چوری کر لیتی ہے۔ ہوا کے دوش پر اڑتے بادل جو کسی غریب ملک میں برسنے جا رہے ہوتے ہیں، انہیں راستے میں ہی نچوڑ لیا جاتا ہے، جس سے پڑوسی ممالک میں قحط اور زرعی بحران جنم لیتا ہے۔ چونکہ یہ سب ’’پرامن‘‘ نام پر ہوتا ہے، اس لیے موجودہ قوانین کے تحت ان کی دشمنی ثابت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اور وہ معصوم بن کر پڑوسیوں کا گلا گھونٹتے رہتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس خوابِ غفلت سے جاگے۔ اگر کسی ایک امیر ملک نے اپنی گرمی کم کرنے کے لیے فضا میں سورج کی روشنی کو روکنے والے کیمیکلز کا یکطرفہ استعمال شروع کر دیا، تو اس کے نتیجے میں پوری دنیا کا مانیٹری نظام بدل جائے گا اور کروڑوں غریب انسان نوالے نوالے کو ترس جائیں گے۔ ہمیں اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس نیت کے چور راستے کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہوگا اور ایک ایسی آزاد سائنسی مانیٹرنگ باڈی بنانی ہوگی جو ان طاقتور ملکوں کی لیبارٹریوں اور فضائی مراکز کا معائنہ کر سکے۔
زمین ایک دھڑکتا ہوا دل ہے، یہ ایک زندہ نظام ہے۔ ہوا کے جھونکے، بادلوں کے قافلے اور سمندر کی لہریں انسانوں کی کھینچی ہوئی ان مصنوعی اور فوجی سرحدوں کو نہیں پہچانتیں۔ اپنے فائدے یا جنگی برتری کے لیے اس دھرتی کے سینے پر زخم لگانا سراسر دیوانگی اور خودکشی ہے۔ وقت کی پکار ہے کہ دنیا کا ہر قلم کار، ہر سائنسدان اور ہر باشعور شہری اس آواز کو عالمی سطح پر اٹھائے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اس دھرتی کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کا اکھاڑا بنانا بند کریں۔ ہمیں ایک ایسی دنیا چاہیے جہاں سائنس زمین کو زخم دینے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے زخموں کو بھرنے کے لیے استعمال ہو۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔