ایران معاہدے کی امید؛ چند گھنٹوں میں پیٹرول کی قیمت دھڑام سے گر گئی

اسرائیل لبنان جنگ بندی سے بھی پیٹرول کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جس میں مزید کمی ہوئی


ویب ڈیسک June 05, 2026
اسرائیل لبنان جنگ بندی اور ایران کیساتھ ممکنہ امن معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے

امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ کے بجائے ایران سے امن معاہدے پر مصر ہونے کا پیٹرول کی عالمی منڈی میں مثبت اثر پڑا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی اور صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگ میں ہچکچاہٹ کے اظہار کے بعد سے حوصلہ افزا رجحانات دیکھنے کو ملے ہیں۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں دن کے اختتام پر ان کم ہوتی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی اور برینٹ کروڈ 93.5 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت 91 ڈالر تک مزید نیچے گرگئی تھی۔ امید ہے اس میں مزید کمی آئے گی۔

قبل ازیں دوپہر میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3 فیصد سے زائد کمی کے بعد 94 ڈالر فی بیرل کے قریب آگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی تقریباً 4 فیصد کمی کے ساتھ 92 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ ٹریڈ ہوتا رہا تھا۔

پیٹرول قیمتوں میں یہ کمی اسرائیل اور لبنان کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان بھی وسیع تر امن معاہدے کے امکانات روشن ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔

سرمایہ کاری فرم آگین کپیٹل کے پارٹنر جان کلڈف کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اس وقت ممکنہ سیاسی حل کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے جبکہ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ پیش رفت نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات کو کمزور کر دیا ہے اور سرمایہ کار اب خطے میں استحکام کی توقع کر رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات میں کمی بھی بتائی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح تک پہنچا سکتی ہے۔

تاہم حالیہ سفارتی اشاروں کے بعد مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

البتہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی فوجی یا سیاسی پیش رفت سے تیل کی قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔