سندھ ہائیکورٹ؛ خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی کی قانون سازی کیخلاف درخواستیں دائر

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو 18 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیے


کورٹ رپورٹر June 05, 2026

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی کی قانون سازی کیخلاف درخواستوں پر فریقین کو 18 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔

ہائیکورٹ میں سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی کی قانون سازی کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن حسیب جمالی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ انسداد منشیات اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں ججز کی تقرری میں عدلیہ کے کردار کو محدود کردیا گیا ہے۔ ججز کی تقرری کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے لازمی مشاورت کو محدود کرکے ایگزیکیٹیو کو امتیازی اختیارات دیے گئے ہیں۔

انہوں نے موقف دیا کہ ترامیم سے قبل تقرری کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے مشاورت لازمی تھی۔ ترامیم کے ذریعے چیف جسٹس سے مشاورت کو محض اتفاق رائے میں تبدیل کر دیا گیا، ججز کے انتخاب اور نامزدگی کا اختیار انتظامیہ کو منتقل ہونے سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی۔ آئین پاکستان عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل اور اختیارات کی تقسیم کی ضمانت دیتا ہے۔

صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے موقف دیا کہ سپریم کورٹ ججز کی تقرری میں چیف جسٹس سے بامعنی مشاورت عدالتی آزادی کا بنیادی تقاضہ قرار دے چکی ہے۔ صوبائی اسمبلی کو وفاقی قانون کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم تبدیلی کا اختیار نہیں۔ وفاقی اور صوبائی قوانین میں تضاد کی صورت میں وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ انسداد منشیات اور دہشتگردی کی عدالتوں کے ججز کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق دفعات کالعدم قرار دی جائیں۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو 18 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔ درخواستوں میں وفاق، سندھ حکومت اور صوبائی محکمہ قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔