انسان نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، وہ خود کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جسے وہ چھو سکتا ہے، دیکھ سکتا ہے اور ماپ سکتا ہے۔ ہماری روزمرہ کی زندگی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی (تین جہتوں) اور وقت کی چوتھی جہت کے گرد گھومتی ہے، لیکن کیا حقیقت صرف اتنی ہی ہے جتنی ہماری آنکھ دیکھ سکتی ہے؟
صوفیانہ روایات اور لوک کہانیوں میں ایک قدیم حکایت ملتی ہے کہ اندھوں کی ایک ٹولی ایک ہاتھی کا جائزہ لینے نکلتی ہے۔ جس کے ہاتھ جو لگا، اس نے اسے وہی سمجھ لیا۔ جس کے ہاتھ ہاتھی کے پیر لگے اس نے کہا ہاتھی ایک ستون ہے، جس نے کان چھوئے اس نے اسے پنکھا گردانا اور جس کے ہاتھ سونڈ آئی وہ اسے سانپ سمجھ کر پیچھے ہٹ گیا۔ یہ سب اپنے اپنے مادی تجربے کی حد تک بالکل سچے تھے، مگر ہاتھی کی اصل اور کلی حقیقت سے سب کے سب محروم تھے کیونکہ ان کا ادراک جزوی تھا۔
حیرت انگیز طور پر، آج اسٹرنگ تھیوری کے بعد جدید سائنس کا حال بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔ کائنات کی آخری حقیقت کو ماپنے نکلے نظریاتی طبیعیات دان بھی زمان و مکان کے الگ الگ حصوں کو چھو کر اپنے اپنے نظریات کی عمارتیں کھڑی کر رہے ہیں، مگر کائنات کی کلیت اب بھی ان کی مادی گرفت سے باہر ہے۔ ہم انسان، جو خود کو کائنات کا سب سے ذی شعور وجود سمجھتے ہیں، دراصل اسی ٹولی کی مانند ہیں جو لمبائی، چوڑائی، اونچائی اور وقت کے چار جہتی قید خانے میں بیٹھ کر لامتناہی وجود کا حتمی نقشہ مرتب کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں نظریاتی طبیعیات کے ماہرین نے ایک ایسا دعویٰ کیا ہے جو انسانی ادراک کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کائنات صرف ان چار جہتوں تک محدود نہیں ہے جن کا ہم تجربہ کرتے ہیں، بلکہ اس کائنات کے تانے بانے میں کم از کم سات پوشیدہ جہتیںموجود ہیں، جو ہماری نظروں سے اوجھل لیکن کائنات کے وجود کے لیے ناگزیر ہیں۔یہ دعویٰ محض کوئی افسانہ یا سائنسی تخیل نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائنات کے سب سے بڑے معمے یعنی ’’کوانٹم مکینکس‘‘ اور ’’آئن اسٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیویٹی‘‘ کو آپس میں جوڑنے کی ایک سنجیدہ ترین سائنسی کوشش ہے۔
آپ اسیسٹرنگ تھیوری اور سات پوشیدہ جہتوں کا معمہ کہہ سکتے ہیں۔اس سائنسی دعوے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ہمیں سٹرنگ تھیوری اور خاص طور پر ایم تھیوری کو سمجھناہوگا۔ بیسویں صدی کے اواخر میں طبیعیات دانوں کو احساس ہوا کہ اگر ہم کائنات کے بنیادی ذرات (جیسے الیکٹران اور کوارکس) کو نقطوں کی بجائے توانائی کی باریک متحرک تاریں تسلیم کر لیں، تو کائنات کے تمام قوانین کو ایک واحد فارمولے میں پرویا جا سکتا ہے،لیکن یہاں ایک ریاضیاتی رکاوٹ سامنے آئی۔ سٹرنگ تھیوری کی ریاضیاتی مساوات اس وقت تک درست ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ کائنات میں اضافی جہتیں موجود نہ ہوں۔
•ایم تھیوری کا ماڈل: اس وقت جدید ترین سائنسی ماڈل کے مطابق کائنات میں کل 11 جہتیں ہیں۔
•پوشیدہ جہتوں کی تعداد: ان 11 جہتوں میں سے 4 جہتیں (3 خلائی اور 1 وقت) وہ ہیں جنھیں ہم دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں۔ باقی بچنے والی 7 جہتیں کائنات کے مائیکرواسکوپک سطح پر اس طرح لپٹی ہوئی ہیں کہ وہ عام انسانی حواس اور موجودہ ٹیکنالوجی کو نظر نہیں آتیں۔
ان سات جہتوں کی ساخت کو سمجھنے کے لیے سائنسدان کلابی یاؤ مینی فولڈز کی مثال دیتے ہیں۔ یہ ایسے پیچیدہ ریاضیاتی اشکال ہیں جن میں ساتوں جہتیں ایک اسکوائر انچ کے اربویں حصے سے بھی اربوں گنا چھوٹے پیمانے پر، یعنی پلانک لینتھ $10{-35}$ میٹرپر موجود ہیں۔
سائنس دانوں کا یہ دعویٰ محض کاغذ پر لکھی مساوات تک محدود نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری سرن میں موجود لارج ہیڈرون کولائیڈر میں کئی برسوں سے ایسے تجربات جاری ہیں جو ان پوشیدہ سات جہتوں کے ثبوت فراہم کر سکیں۔سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کی چوتھی بنیادی قوت، یعنی کششِ ثقل، دیگر تین قوتوں (برقی مقناطیسی، قوی اور ضعیف نیوکلیائی قوتیں) کے مقابلے میں اتنی کمزور کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ گریویٹی دراصل ان پوشیدہ سات جہتوں میں ’’لیک‘‘ ہو جاتی ہے، اگر ایل ایچ سی کے تجربات میں توانائی کے غائب ہونے یا مائیکرو بلیک ہولز کے بننے کے شواہد مل جاتے ہیں، تو یہ ان سات اضافی جہتوں کی موجودگی کا غیر مبہم ثبوت ہوگا۔
ایک کالم نویس کے طور پر، میری دل چسپی صرف اس بات میں نہیں ہے کہ فزکس کی مساواتیں کیا کہتی ہیں، بلکہ میری اصل دل چسپی اس بات میں ہے کہ یہ دریافتیں انسانی سوچ، فلسفے اور ہمارے معنیاتی ڈھانچوں پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔
جدید مغربی فکر نے گزشتہ تین صدیوں سے انسان کو ایک مادی قید خانے میں بند کر رکھا تھا، جہاں صرف وہی چیز حقیقت تھیں جو مادی پیمانے پر پوری اترتیں۔ اس مادی جمود نے انسانی شعور کو محدود کر دیا تھا، لیکن اب، جب سائنس خود یہ کہہ رہی ہے کہ کائنات کا ایک بہت بڑا حصہ ،یعنی سات مکمل جہتیں،ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں، تو مادی حقیقت پسندی کا وہ تکبر ٹوٹ جاتا ہے۔
اس تصور کو سمجھنے کے لیے ایڈون ایبٹ کی مشہور تمثیل ’’فلیٹ لینڈ‘‘ کو ذہن میں لائیں۔ تصور کریں کہ ایک کاغذ کے صفحے پر دو جہتی (ٹو ڈی) مخلوق رہتی ہے، جس کے لیے صرف آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں کا وجود ہے۔ اگر اس کے سامنے ایک تین جہتی(تھری ڈی) گیند گزاری جائے، تو وہ مخلوق پوری گیند کو نہیں دیکھ سکے گی، بلکہ اسے صرف کاغذ پر ابھرتا اور غائب ہوتا ہوا ایک نقطہ یا دائرہ نظر آئے گا۔ٹھیک اسی طرح، ہم تین جہتی دنیا کے قیدی ہیں۔ ہمارے سامنے سے جب کوئی ایسی حقیقت گزرتی ہے جس کا تعلق ان سات پوشیدہ جہتوں سے ہو، تو ہم اسے یا تو ’’اتفاق‘‘ کہہ دیتے ہیں یا پھر ’’مابعد الطبیعاتی معجزہ۔‘‘کائنات کی سات جہتوں کا یہ سائنسی دعویٰ ہماری تہذیبی اور فکری تنزلی کے دور میں ایک نیا رخ فراہم کرتا ہے۔ جب کائنات اتنی وسیع اور کثیر الجہتی ہے، تو انسانی علم کا دعویٰ کتنا ناقص ہو جاتا ہے۔
1۔علمی عاجزی: یہ دریافت انسان کو سکھاتی ہے کہ کائنات کا نظام اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور منظم ہے جتنا ہم اپنی تجربہ گاہوں میں بیٹھ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
2۔مادیت پسندی کا خاتمہ: اگر حقیقت کی سات پرتیں ایسی ہیں جو دکھائی نہیں دیتیں، تو پھر غیب پر یقین رکھنا محض اندھا اعتقاد نہیں، بلکہ ایک گہری سائنسی منطق کا تقاضا بن جاتا ہے۔
3۔وقت اور جگہ کا نیا تصور: ان سات جہتوں میں وقت اور فاصلے کے قوانین وہ نہیں ہوں گے جو ہماری دنیا میں ہیں۔ وہاں ماضی، حال اور مستقبل شاید ایک ہی نقطے پر موجود ہوں۔
سائنس دانوں کا کائنات کی سات پوشیدہ جہتوں کا یہ دعویٰ دراصل انسان کے مادی غرور پر ایک ضرب ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کائنات کے ایک بہت ہی چھوٹے اور محدود حصے کو دیکھ کر پورے وجود کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ہم جس کائنات میں سانس لے رہے ہیں، وہ لامتناہی وسعتوں اور پوشیدہ حقیقتوں کا ایک ایسا شاہ کار ہے جس کے ابواب ابھی کھُلنا شروع ہوئے ہیں۔ یہ سات جہتیں محض ریاضی کے ہندسے نہیں ہیں، یہ اس عظیم تخلیق کار کی صناعی کا ثبوت ہیں جس نے وجود کی تہوں کے اندر تہیں چھپا رکھی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے فکری اور تہذیبی ڈھانچوں کو اس کثیر الجہتی حقیقت کے مطابق عبودیت کی جہت میں ڈھالیں اور مادی قید خانے سے نکل کر کائنات کے اس لامتناہی طلسم کا ادراک کریں۔