ممبئی کے ساحل پر ایک نوجوان کرسی لگائے بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے ایک چھوٹا سا بورڈ رکھا ہے جس پر لکھا ہے،
’’اپنے مسائل سنائیں، فیس ادا کریں۔‘‘ چھوٹے مسئلے کی فیس ڈھائی سو، بڑے مسئلے کی پانچ سو، اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کے ساتھ بیٹھ کر روئے تو اس کی فیس ایک ہزار روپے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو بہت سے لوگوں کے لیے تفریح، حیرت اور طنز کا موضوع ہے۔ بعض نے اسے ایک چالاک کاروباری شخص قرار دیا، بعض نے اسے معاشرتی زوال کی علامت کہا اور کسی نے کہا کہ کم از کم وہ لوگوں کی بات تو سن رہا ہے، ان کے دکھ بانٹ رہا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ لوگ اپنی بات سنانے کے لیے پیسے دینے پر کیوں آمادہ ہو گئے ہیں؟ انھیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کی آخر کیا مجبوری ہے؟
انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور گزرا ہو جب انسان کے پاس اپنے دکھ بانٹنے کے لیے کوئی نہ ہو۔ خاندان، برادری، محلہ، دوست، مسجد، مکتب اور سماجی حلقے، کسی بھی فرد کے لیے ایک ایسا حصار فراہم کرتے تھے جہاں وہ اپنی خوشیاں اور غم دوسروں کے ساتھ بانٹ سکتا تھا۔ دکھ بانٹنا ایک سماجی عمل تھا، کاروبار نہیں۔ مگر جدید دنیا میں صورت حال بدل چکی ہے۔
انسان بظاہر لوگوں کے ہجوم میں رہتا ہے مگر اندر سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ دنیا میں رابطے کے ذرائع جتنے بڑھ گئے ہیں، دلوں کے فاصلے بھی اتنے ہی بڑھتے جا رہے ہیں۔ موبائل فون، واٹس ایپ، فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور درجنوں دیگر پلیٹ فارمز نے ہمیں ہر وقت ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔ ان کے پاس سیکڑوں ’’فالورز‘‘ ہیں مگر ایک بھی ایسا شخص نہیں جس کے سامنے وہ اپنا دل کھول سکیں۔
فرانسیسی مفکر Guy Debord نے اپنی شہرہ آفاق کتاب The Society of the Spectacle میں لکھا تھا کہ جدید معاشرہ ’’تماشے‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حقیقت کی جگہ تصاویر نے لے لی ہے۔ انسان اپنی زندگی جینے کے بجائے اپنی زندگی کی نمائش کرنے لگا ہے، اگر ڈیبورڈ آج زندہ ہوتا تو شاید ممبئی کے اس نوجوان کی ویڈیو کو اپنے نظریے کی ایک عملی مثال قرار دیتا۔ ایک طرف لوگ اپنے مسائل کے ساتھ موجود ہیں اور دوسری طرف ان مسائل کو سننے کا عمل بھی سوشل میڈیا کے لیے ایک تماشہ بن چکا ہے۔
ممبئی کا یہ واقعہ کوئی منفرد مثال نہیں۔ جاپان جہاں کے لوگ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ایماندار اور مہذب سمجھے جاتے ہیں ، وہاں ایسے افراد موجود ہیں جو محض لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کی بات سننے کے لیے فیس وصول کرتے ہیں۔ وہاں ’’کرائے کے دوست‘‘ اور ’’کرائے کے ساتھی‘‘ کی خدمات کئی برسوں سے موجود ہیں۔ بعض لوگ کسی تقریب میں تنہا نہ جانے کے لیے کسی اجنبی کو معاوضہ دے کر ساتھ لے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف اس لیے کسی کی خدمات حاصل کرتے ہیں کہ وہ ان کی بات خاموشی سے سن لے۔
یہ رجحان صرف جاپان تک محدود نہیں۔ جنوبی کوریا، چین، امریکا اور یورپ کے کئی ممالک میں بھی ایسی خدمات مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ کہیں یہ آن لائن پلیٹ فارمز کی صورت میں ہیں، کہیں جذباتی معاونت کے مراکز کی شکل میں اور کہیں نجی مشاورت کی خدمات کے طور پر۔ گویا تنہائی ایک عالمی صنعت بنتی جا رہی ہے اور اس صنعت کا خام مال انسان کے جذبات ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، کیا واقعی انسان صرف سنے جانے کے لیے پیسے دے سکتا ہے؟ ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کی بنیادی نفسیاتی ضروریات میں سے ایک ضرورت یہ ہے کہ اسے محسوس ہو کہ اس کی بات اہم ہے، اس کے جذبات کی قدر کی جا رہی ہے اور کوئی اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اکثر لوگ مشورہ نہیں چاہتے، وہ صرف چاہتے ہیں کہ کوئی انھیں توجہ سے سنے۔ شاید اسی لیے دنیا بھر میں نفسیاتی مشاورت، لائف کوچنگ اور جذباتی معاونت کی خدمات تیزی سے فروغ پا رہی ہیں۔
تاہم اس رجحان کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ جب انسانی جذبات کاروبار بن جائیں تو خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ اخلاص کی جگہ مفاد لے لیں گے۔ دوستی، ہمدردی اور رفاقت جیسی اقدار اگر خرید و فروخت کی اشیا بن جائیں تو سماج کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا معاشرہ صحت مند کہلا سکتا ہے جہاں لوگوں کو اپنی بات سنانے کے لیے بھی ادائیگی کرنی پڑے؟
ہمارے معاشرے میں ابھی صورتحال اس نہج تک نہیں پہنچی، لیکن اس کے آثار نمایاں ہیں۔ مصروفیات بڑھ رہی ہیں۔ لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ والدین اپنے موبائل فون میں مصروف ہیں، بچے اپنی ڈیجیٹل دنیا میں گم ہیں اور بزرگ تنہائی کا شکار ہیں۔ بظاہر سب ایک ساتھ ہیں مگر حقیقت میں ہر شخص اپنی الگ دنیا میں رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور تنہائی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ دنیا بھر کی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ تنہائی صرف ایک جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک صحت عامہ کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ تنہائی دل کی بیماریوں، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی و جسمانی مسائل سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں اگر کوئی شخص لوگوں کی بات سننے کے لیے وقت دیتا ہے تو اس عمل کو مکمل طور پر منفی بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس سارے معاملے کا سب سے اہم پہلو شاید یہ ہے کہ ممبئی کے ساحل پر بیٹھا ہوا نوجوان دراصل ایک فرد نہیں، ایک علامت ہے۔ وہ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے۔ اس کے بورڈ پر لکھی ہوئی فیسیں صرف کاروباری نرخ نہیں بلکہ ہمارے عہد کی سماجی قیمتوں کا اظہار ہیں۔ وہ بتا رہا ہے کہ ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں توجہ ایک قیمتی جنس بن چکی ہے، وقت ایک سرمایہ بن چکا ہے اور سننے کا عمل ایک ’’سروس‘‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
کبھی ماں اپنے بچے کی بات سنتی تھی، دوست، دوست کے دکھ بانٹتا تھا، ہمسایہ، ہمسائے کا حال پوچھتا تھا اور بزرگ نوجوانوں کی الجھنوں کو تحمل سے سنتے تھے۔ یہ سب تعلقات محبت اور ذمے داری کے رشتے پر قائم تھے۔ اب انھی رشتوں کی جگہ مارکیٹ نے لینا شروع کر دی ہے۔ مارکیٹ ہر اس چیز کو خرید و فروخت کا موضوع بنا دیتی ہے جس کی طلب پیدا ہو جائے، اور آج تنہائی کی طلب دنیا کی سب سے بڑی طلبوں میں سے ایک بنتی جا رہی ہے۔
ممبئی کے اس نوجوان کی ویڈیو نے جو سوال اٹھایا ہے وہ باقی رہے گا۔ کیا ہم واقعی اس قدر مصروف، منتشر اور خود میں گم ہو چکے ہیں کہ کسی کی بات سننے کے لیے بھی وقت نہیں نکال سکتے؟ کیا ہماری ترقی، ہماری ٹیکنالوجی اور ہماری ڈیجیٹل کامیابیاں ہمیں ایک دوسرے کے قریب لانے کے بجائے مزید دور لے گئی ہیں؟اگر ان سوالات کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے تو پھر اصل مسئلہ ممبئی کے ساحل پر بیٹھا ہوا وہ نوجوان نہیں۔
اصل مسئلہ وہ معاشرہ ہے جس نے اس کے لیے ایک منافع بخش کاروبار پیدا کر دیا ہے،اور شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ انسان چاند تک پہنچ گیا، مصنوعی ذہانت تخلیق کر لی، دنیا کو ایک اسکرین میں سمو دیا، لیکن اپنے اردگرد موجود انسان کی بات سننے کا ہنر کھوتا جا رہا ہے۔ جب سماج اس مقام پر پہنچ جائے تو پھر دکھ سننے والے پیدا نہیں ہوتے، خریدار پیدا ہوتے ہیں، اور جب ہمدردی خریدی جانے لگے تو سمجھ لیجیے کہ تنہائی صرف ایک احساس نہیں رہتی، ایک پوری معیشت بن جاتی ہے۔ آئیے، غور کریں، اس میں میرا اور آپ کا کر دار کیا ہے؟