ثمرات اور باغبان

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ بیرا شاعر و تیرا تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ


[email protected]

خبر کوئی خاص نئی نہیں ہے کیونکہ اس ملک میں آج تک کوئی ’’نئی بات‘‘ ہوئی نہیں ہے تو نئی خبر کیسے آئے گی ایک پشتو کہاوت کے مطابق وہی پرانے لوگ وہی طریقے۔صرف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے۔دنیا میں کتنے پرچم اور جھنڈے آئے ہیں لہرائے ہیں آئیں گے اور لہراتے رہیں گے لیکن ’’ڈنڈا‘‘ سارے جھنڈوں میں ایک جیسا ہوتا ہے۔ تو یہ جو پرانی خبر نیا جامہ پہن کر آئی ہے کہ ’’ثمرات آنا‘‘ شروع ہوگئے ہیں۔اب آپ ’’ثمرات‘‘ کے بارے میں پوچھیں گے تو ہم ہرگز بتا نہیں پائیں گے کیونکہ آج کل کوئی ثمر پیڑ پر نہیں پکتا بلکہ کاربیٹ سے پکایا جاتا ہے جس طرح عوام کو ’’بیانات‘‘ سے پکایا جاتا ہے۔یہ’’ثمرات‘‘ جو آج کل ’’آنا‘‘ شروع ہوگئے ہیں اور’’ صوبائی حقوق‘‘ پر حکومت اور اپوزیشن کے ’’اتحاد‘‘ کے ثمرات بتائے گئے ہیں۔ 

مطلب یہ کہ صوبائی حقوق پر حکومت اور اپوزیشن ایک ہوگئے ہیں اور یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ ’’حقوق‘‘ صرف منتخب ممبران عرف جمہوری شہنشاہوں صرف سلیکڈ،جمہوری شہزادوں کے ہوا کرتے ہیں ان کے علاوہ عوام عرف کالانعام کے ’’حقوق‘‘ نہیں ہوتے صرف اور صرف’’حقے‘‘ ہوتے ہیں وہ بھی خالی۔ان ثمرات کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تاریخ اس لحاظ سے پاکستان اور ان ’’ثمرات‘‘ کی تاریخ ہم عصر ہم شکل اور ہم عمر ہے۔

پہلی بار یہ’’ثمرات‘‘ اس وقت آنا شروع ہوئے تھے جب ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا باغ لگایا تھا اور کنونشن مسلم لیگ نے اسے سینچا تھا۔لیکن شروع ہونے کے باوجود وہ’’ثمرات‘‘ پہنچ نہیں پائے کیونکہ اس باغ کے سارے پیڑوں پر اُلو بیٹھے تھے اور وہی سارے’’ثمرات‘‘ توڑ کر کھا گئے یا کریٹوں میں پیک کرکے ’’دساور‘‘ کو بھیج دیے گئے پھر اسی باغ کے پرانے پیڑوں سے نئی کونپل پھوٹیں اور قائد عوام فخر ایشیا نے اس کی آبیاری کی، اسے اسلام کی کھاد ڈالی سوشل ازم کی گوڈی نلائی کی اور جمہوریت سے سینچا۔تو اس کے ’’ثمرات‘‘ روٹی کپڑا مکان کی صورت میں آنا شروع ہوگئے۔پھر مردحق ضیاء الحق نے ایک ایسا باغ لگایا جس کے ثمرات۔ہم خروما و ہم ثواب تھے،خیر تو اسی طرح اس ملک میں طرح طرح کے مالی اور باغبان آتے رہے رنگ برنگے باغ لگاتے رہے لیکن اس کے بعد پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہ’’ثمرات‘‘ کہاں چلے جاتے تھے، غالب گمان یہی ہے کہ وہ ثمرات کریٹوں میں بھر کر دساور کو بھیجے جاتے ہوں گے کیونکہ یہاں تو ان ثمرات کو کھانا اور چکھنا تو کیا کبھی دیکھا بھی نہیں۔بات ثمرات یا پھلوں کی ہورہی ہے تو ایک حقیقہ دُم ہلا رہا ہے اسے بھی سن لیجیے۔

ایک دن ہم شہر سے گاؤں آنے لگے تو سوچا چلو آج بچوں کے لیے کچھ پھل خرید لیں۔ حکومت کے لگائے ہوئے رنگ برنگے باغوں کے ’’ثمرات‘‘ تو پیٹ بھر کر روزانہ کھاتے ہیں آج سچ مچ کا کوئی پھل کھلاتے ہیں۔ بیچاروں کے سامنے ایک مالٹوں کا ریڑہ کھڑا تھا، ریڑھے والے سے بھاؤ پوچھا تو ہوش اُڑ گئے،کہا بھائی اتنے مہنگے مالٹے۔ بولا مالٹے ’’باہر‘‘ جاتے ہیں اس لیے۔سوچا ہمارا’’باہر‘‘ جانے والوں سے کیا کام۔آگے بڑھے تو انگوروں کا ریڑہ تھا اس ریڑھے والے نے بھی ہوشربا نرخ بتائے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ’’باہر‘‘سے آتے ہیں اس لیے مہنگے ہیں۔اور ان باہر ’’جانے‘‘اور باہر سے’’آنے‘‘ والوں کے درمیان کھڑے کے کھڑے رہ گئے کہ نہ ’’باہر‘‘ سے آنے والوں میں سے تھے اور نہ ’’باہر‘‘ جانے والوں میں سے تھے اس لیے صرف انھی پھلوں یا ’’ثمرات‘‘ پر تکیہ کیے ہوئے ہیں جو سرکاری اور سیاسی باغوں سے آنا شروع تو ہوجاتے ہیں لیکن ہم تک کبھی نہیں پہنچ پاتے۔نہ جانے کہاں چلے جاتے ہیں

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ بیرا شاعر و تیرا

تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

جو بات ہماری سمجھ میں آرہی ہے وہ یہ کہ سیاسی و سرکاری باغوں کے یہ ثمرات جو آنا شروع ہوجاتے ہیں تو دراصل ان کی پیدائش میں ہی مضمر ہوتی ہے ایک صورت خرابی کی۔یعنی ان میں کیڑے پڑجاتے ہیں اور چونکہ باغبان ان پر ’’سپرے‘‘ نہیں کرتا اس لیے ثمرات کے اپنے پیٹ کے کیڑے انھیں کھا جاتے ہیں۔اب اس زیر بحث خبر کے ساتھ ہی ایک اور خبر ۔کابینہ میں توسیع کی بھی ہے بلکہ اس میں ’’دیر‘‘ ہونے کا سبب بھی بتایا گیا۔کہ امیدواروں کے پسندیدہ محکموں کی ’’بہتات ہوگئی‘‘ اب آپ خود ہی دانا ہیں کہ ’’ثمرات‘‘ کا حشر نشر کیا ہوگا؟ ایک بہت پرانا شعر یاد آرہا ہے جسے خاندانی منصوبہ بندی والے بہت استعمال کرتے تھے کہ

توڑا شجر کی شاخ تو کثرت نے ثمر کی

دنیا میں گرانباری اور اولاد غضب ہے

لیکن کابینوں میں خاندانی منصوبہ بندی کون کرے۔