خالد کہانی کا ’’خلد‘‘

اعلیٰ طبقات کی بستیوں کے مکین ہمیشہ سے ’’استحصالی ٹولے ‘‘کے وہ ہرکارے رہے ہیں


وارث رضا June 07, 2026

آج کے کراچی سندھ میں جہاں اعلیٰ طبقات کے علاقوں کے علاوہ عام آبادیوں کے رستے ،سڑکیں اورگلیاں ادھڑی ہوئی ہوں،جہاں کے گھروں کے مکین پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہوں۔

جہاں حکومت اور بلدیہ کے محکمے کی چابکدستی میڈیا اور اشاعت کے ذریعے دکھائی جارہی ہو مگر عام فرد بھی پانی کے حصول کے لیے ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر کر دیا گیا ہو،جہاں کی جامعات اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ منصب پر اپنے چاپلوس بٹھانے کا چلن عام ہوچکا ہو۔

جہاں کے گلی چوبارے اور تہذیب کے نشانات کو جدید ترقی کے نام پر ملیا میٹ کیا جا رہا ہو،جہاں پر بیٹھک اور شعر و ادب و فنون سمیت احترام آدمیت کی درسگاہوں اور اداروں کی باگ ڈور ’’آقا کے شاہی غلاموں‘‘کے سپرد کی جا رہی ہوں۔

جہاں پارکس اور کھیل کود کے میدان پر قبضے آئے روز کا معمول بنادیے گئے ہوں ،وہاں ایک درد مند صحافی اور شعرو ادب کی نا رسائی کا ماتم کرتا ہوا یہ ’’جنونی سا خالد‘‘یہ چاہے کہ ’’کراچی سندھ میں دوبارہ سے شعرو ادب اورشائستگی کی محافل کا قبضہ دوبارہ ہوجائے‘‘ تو ایسے میں خالد معین کی بڑ کو کون سنے گا۔

مگر وہ ہے کہ تہذیب و شائستگی کی واپسی سے اب تک پر امید بھی ہے اور اسے یقین بھی ہے کہ ’’کراچی سندھ‘‘ کے ادبی چوبارے کبھی نہ کبھی اپنے اس عروج کو پالیں گے ،جس کی شائستہ اور مضافاتی مٹی ہی نے تو خالد معین کو جنم دیا ہے۔

خالد معین کی یہ جنگ کہانی نہیں بلکہ ہر روایت، برداشت،رواداری،دوسرے کی رائے کا احترام اور تمام تر اختلاف کے باوجود شائستہ رویوں کے شکستہ ہونے کا وہ نوحہ یا کہانی ہے جن کو مضافات کے تخلیق کاروں نے اپنے حسن سلوک سے سماج کا حصہ بنایا تھا۔

خالد معین کی جنگ کہانی میں لکھے گئے صحافتی زندگی کے واقعات اور شب روزکا بیان بتاتا ہے کہ کراچی کے مضافاتی علاقے ہی سے درس و تدریس اور شائستگی کی وہ پو پھوٹی ہے جو آج بھی ادب و شائستگی کا رنگ لیے ہوئے ہے،کراچی میں ادب و فنون کی تاریخ سے اگر کراچی کے مضافات،لیاری،کورنگی،لانڈھی،ملیر اورلالو کھیت کے ادب،فنون اور صحافتی زندگی کو نکال دیا جائے تو نہ ادب نہ فنون اور نہ ہی کراچی کی صحافت بچے گی۔

اعلیٰ طبقات کی بستیوں کے مکین ہمیشہ سے ’’استحصالی ٹولے ‘‘کے وہ ہرکارے رہے ہیں جن کی پٹاری سے صرف لوٹ مار اور کرو فر ہی نکلا ہے،مجھے خالد کی جنگ کہانی پڑھتے ہوئے تلخی کو چاشنی کے پیرائے میں ڈھالنے کا وہ ہنر نظر آیا،جس میں مضافاتی تربیت کے آداب اور رتبوں کا احترام واضح طور پر نظر آیا، جو چاہتے ہوئے بھی ’’ممی ڈیڈی نسل‘‘شاید ہی ا پنا سکے یاکر سکے۔

بھلا آپ یا بر صغیر کا ادب کراچی کی مضافاتی بستیوں کے ان بلند پایہ شاعر و ادیب کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنے شعر و ادب اور ادبی بیٹھکوں ’’بزم علم و دانش‘‘عوامی ادبی انجمن،سندھی ادبی سنگت اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے فکری نظریئے کے تحت سماج میں روشن خیالی اور ترقی پسند تہذیب کی بنیاد کو آگے بڑھایا۔

آپ کیسے ادب سے،استاد قمر جلالوی، بہزاد لکھنوی،سعید رضا سعید، خالد علیگ،شیخ ایاز،جمال ابڑو،رسا چغتائی،جوہر سعیدی،ن م دانش،صبا دشتیاری، منصف رضا،جون ایلیا،شوکت صدیقی،صہبا اختر،محسن بھوپالی،عزیزحامد مدنی،عبیداللہ علیم ،سلیم کوثراور خالد معین کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔

ہر گز نہیں اور مزید یہ کہ اس دور کے بعد کراچی کے شعر و ادب پر جو جاوید صبا،فاضل جمیلی اور توقیر چغتائی اپنے دوستوں کی آخری نسل بچی ہے ،اس کے طور و اطوار اب کہاں دیکھے جا سکتے ہیں اور اگرتہذیب و ادب کی اس نسل کو میلوں ٹھیلوں میں گم کردینے کا کوئی افسوسناک پہلو ہے تو کم از کم وہ ادب و فنون کی ہرگز نمائندگی نہیں کرتا۔

یاد رکھا جائے کہ ’’مضافات‘‘ کے تخلیق کاروں کی تخلیق کے سوا دیس کا ادب من پسند گروہ بندی لیے ادبی میلوں ٹھیلوں اور کانفرنسز میں تالیوں کی واہ واہ کے ذریعے صرف بانجھ ہی کیا جا رہا ہے۔

ادب ہی کیا فنون و ثقافت کے شعبے بھلا ’’مضافات‘‘ میں جنم لینے والے اسٹریٹ تھیٹر کے اسماعیل یوسف،منصور سعید،صحافی محمد حنیف، صدیق سانول،کمال احمد رضوی سمیت مضافات کے تخلیقی ذہن سازی کرنیوالے دستک، سنگت،عوامی تھیٹر،نیشنل تھیٹر، بانگ، سیوک، ناؤاور دیگر وہ تھیٹر گروپ کی سماج کی سمت درست کرنے کی خدمات کو کیسے بھلا سکتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے سماجی اور سیاسی شعور سے سماج میں اخلاقی قدروں کے چلن کو عام کیااور تھیٹر کو عوامی شعور و آگہی کا وہ حوالہ بنایا جس کے نشانات لچر تھیٹر سے زیادہ آج بھی مضبوط و توانا ہیں۔

کیا اب مرزا غالب بندر روڈ یا جانگلوس ایسے شاہکار ڈرامے سے سماجی تربیت کرنے کا کوئی اہتمام کیا جا رہا ہے؟کیا اب راحت کاظمی،شکیل،قاضی واجد ،سبحانی بایونس،شائستہ اکرام اللہ اور ظہور احمد ایسے فنون و تھیٹر کے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے اندر خود ایک تہذیب اور تخلیق ہوا کرتے تھے؟

سندھ کے کراچی میں ادبی مزاج کو تہذیب و شائستگی کے درس دینے والی وہ بیٹھکیںکیا ہوئیں جو ادبی ذوق کے نوجوانوں کو نشست و برخاست کے گر سکھایا کرتی تھیں؟ لیاری،ملیر،شاہ فیصل کالونی کی وہ لائبیر یاں کہاں تلاش کی جائیں جن کے ذریعے تہذیب کی آبیاری کی جاتی تھی۔

تمامتر اختلاف کے باوجود دوسرے کے نکتہ نظر کو سننے اور ان سے علمی مکالمہ کرنے کا وہ ماحول کہاں گیا جس سے مجھ سمیت خالد معین ایسے سیکڑوں دوست دو زانو کیے بیٹھنے کا ہنر سیکھے اور اب بھی متمنی ہیں کہ وہ شائستگی جو میلوں،ٹھیلوں اور کانفرنسز میں گم کر دی گئی ہے دوبارہ اپنی ڈگرپر واپس آئے، مگرکیا کہا جائے کہ زمانے کی ہنگامہ خیزی اور دوڑ نے ایسے سوچنے والوں کو بے بس کر دیا ہے۔

اب صرف ہمارے ایسوں کے درمیان گم گشتہ تاریخ کے وہ واقعات ہیں جن پر آج بھی خالد معین ایسے ہی فکر مند اور دکھی ہیں،اب بھلا کراچی کے اعلیٰ ادبی ذوق کے کمال دماغ ثروت حسین ،شوکت عابد،رضی مجتبیٰ اور افسانہ نگار قمر عباس ندیم کو کتنے لوگ ہیں جو جانتے ہیں،ابَ یہ بھی کام خالد معین ہی کرے کہ کراچی کے ان اعلیٰ دماغ ادیبوں کے متعلق لوگوں کو اپنے وی لاگ کے ذریعے بتائے اور جن اداروں کو ایسے افراد پر پروگرام کرنے چاہیے ہیں وہ صرف من پسند پروگرامز کروا کر صرف فنڈز اور اپنی داد سمیٹیں؟

خالد معین نے جہاں محبتیں سمیٹی ہیں وہیں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات یا اختلاف کو بھی شائستہ پیراہن پہنائے ہیں جس سے پڑھنے کی دلچسپی اور ذوق و شوق برقرار رہتا ہے،خالد بیتے دنوں اور اس میں مختلف احباب کی جہاں خوبیوں کا زکر کیا ہے وہیں خالد نے بہت پیار سے ان کی کمزوری کو بھی ادبی چاشنی فراہم کی ہے۔

خالد کے اختلاف رکھنے کا یہ سلیقہ ہی تو ہے جو کراچی کے مضافات کے ادبی رجحان کو ’’ممی ڈیڈی کروفر‘‘ سے بلند رکھتا ہے،یہاں بتاتا چلوں کہ ہم اکثر ’’خلد‘‘ کو مذہبی معنوں میں ہی تلاش کرتے ہیں جب کہ خالد معین کی یہ جنگ کہانی وہ دستاویز ہے جو ہمیشہ ایک حوالے کا کام دے گی۔

اخبار کے ماحول سے آگہی دے گی،برداشت اور کوفت کے جذبوں کو سامنے لائے گی،اسی لیے خالد معین کی یہ جنگ کہانی ’’خلد‘‘ یعنی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے،خالد معین اور کہانی کے مختلف کرداروں کو رضی مجتبیٰ کے اس شعر میں تلاش کریں،بہت لطف آئے گا کہ ؎

شعور ذات ہمیں خود سے دور ہو کے ملا

یہ آئینہ تو ہمیں چور چور ہو کے ملا