نسائی ادب (Feminist Literature ) میں اُردو شاعرات نے اپنے جذبات، احساسات اور سماجی مسائل کو کھل کر پیش کیا ہے۔ ابتدا میں پردے کی پابندیوں کی وجہ سے شاعرات کم تھیں یا مردانہ قلمی نام استعمال کرتی تھیں۔
لیکن بعد میں ادا جعفری، پروین شاکر، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید جیسی اہم شاعرات نے تانیثی حسیت کو اُردو شاعری میں مضبوط کیا۔
آج بھی جہاں بے شمار شاعرات اپنے اپنے انداز میں شعر کہہ رہی ہیں، وہیں عرفانہ امرؔ اپنے اسلوب لہجے اور روایتی حسن کی بدولت اپنا وقار قائم کرنے میں کامیاب ہیں۔ عرفانہ امرؔنے پاکستان کے تاریخی شہر سیالکوٹ میں 7فروری 1958 کو آنکھ کھولی۔
عرفانہ امرؔاپنی علم دوستی، ادب پروری، مہمان نوازی کی وجہ سے علم وادب کی دنیا میں مقبول ہیں۔ انھوں نے شاعری کا آغاز نو برس کی عمر میں بچوں کی نظم ’’سیدہ کی چڑیا‘‘ سے کیا جو اُس وقت کے اخبار ’’کوہستان‘‘ میں بچوں کے صفحے پر شائع ہوئی۔
بعدازاں بی اے کا امتحان گورنمنٹ گرلز کالج کچہری روڈ سیالکوٹ سے پاس کرنے کے بعد رشتہ ازدواج سے منسلک ہو کر حافظ آباد سسرال آ گئیں، جہاں زندگی کی دس برس کی بہاریں دیکھنے کے بعد شوہر کی بینک ملازمت کے باعث مختلف شہروں میں تبدیلی کی وجہ سے بہت سے شہروں میں قیام کرتے ہوئے نوے کی دہائی میں گوجرانوالہ میں مستقل سکونت اختیار کی اور جلد ہی یہاں کے علمی ادبی حلقوں میں مقبول ہونے لگی۔
شاعری کے ذوق کیساتھ ساتھ وہ حُسن قرآت کی طرف بھی راغب ہوئی، جب کہ کھیلوں میں ٹیبل ٹینس اور والی بال میں دلچسپی رکھتی تھیں، لیکن ان کا زیادہ تر رحجان فن تقریر و خطابت کی جانب رہا۔ایک زمانے میں وہ کالج کی اسٹوڈنٹ یونین کی صدر بھی رہیں۔
کالج میں ان کی اُستاد مسز اشرف رہنما تھیں جب کہ علمی اور ادبی تشنگی بجھانے اور کلام کو شاعری کے قوانین کے مطابق ڈھالنے کے لیے انھوں نے گوجرانوالہ کے نامور ادیب پروفیسر اکرم رضا کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور عروض و شاعری کے دیگر لوازمات سے آگاہی حاصل کی۔ان کے اندازِ بیاں اور ان کے حسن تکلم کو اس شعر کے مصداق دیکھا جا سکتا ہے :
اُس کا اندازِ بیاں خوب تھا لیکن پھر بھی
کاش وہ حُسنِ تکلّم میں امرؔ پر جاتا
عرفانہ امرؔ کا جب دوسرا شعری مجموعہ ’’محبت بے زباں کیوں ہو‘‘ منظر عام پر آیا تو سفینہ ادب، حسن قلم، بزمِ دوستانِ قلم، بزمِ اقبال جیسی مستند ادبی تنظیموں نے انھیں گوجرانوالہ کی نمایندہ شاعرہ تسلیم کر لیا۔ کیوں کہ وہ بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں اور محبت ان کی شاعری کی کلید ہے، وہ اس محبت کے خلا میں زندہ ہیں اور اسی گمشدہ احساس نے انھیں ایک لہجہ دیا ہے جس کی بازگشت ان کی بیشتر شاعری میں سنائی دیتی ہے۔
ان کے ہاں ظلم، جبر، زیادتی اور بے حسی کے خلاف ردِ عمل ہے لیکن ایک خاتون ہونے کے ناتے انھوں نے نسوانیت کے وقار کو بھی بلند رکھا۔ان کے نزدیک محبت کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، محبت کی اپنی زبان ہے، محبت کو بے زباں کیوں رہنے دیں اس کا اظہار ہونا چاہیے۔ محبت کو زباں نہیں ملے گی تو ہمارے دل کے نہاں خانوں میں دفن ہو کر رہ جائے گی۔
عرفانہ امرؔ کی شاعری عشق کے اُن احساسات کی ترجمان ہے جن میں جذبوں کی صداقت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ صاحب مطالعہ بھی ہیں اور اپنے اطراف ماحول پر گہری نظر بھی رکھتی ہیں۔
پروفیسر اکرم رضا لکھتے ہیں کہ ’’عرفانہ امرؔ ایک معصوم طالبہ سے ایک باوقار خاتون کے درجہ پر فائز ہونے تک اور گھریلو ذمے داریوں سے عہدہ بر آ ہونے والی عرفانہ امر تک علمی ریاضت، شعری تگ و تاز اور مشاہداتی پرواز کے بے شمار ایسے مراحل ہیں جن کی بدولت یہ خاتون اہل ِ نظر سے اپنی پختگی کلام کی دادِ سخن وری لے رہی ہے۔‘‘
ان کا تیسرا شعری مجموعہ ’’عشق امر بیل سہی‘‘ ہے۔جس میں چھوٹی بڑی، آسان مشکل ہر طرح کی بحروں میں شاعری کے عمدہ نمونے جگہ جگہ قاری کے ذہن و دل کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ان کا ایک خوبصورت خیال جو مجھے رہ رہ کر یاد آ رہا ہے کہ:
مجھے حرف حرف نہ لکھ کے رکھ، مجھے بس زبانی ہی یاد کر
تیری داستاں میں نہیں ہوں مَیں،مجھے دھڑکنوں میں تلاش کر
ان کا چوتھا شعری مجموعہ ’’عشق بلا خیز‘‘ کے نام سے منصئہ شہود پر آیا جس کے مندرجات سخنورانہ جذبات بھی جذبہء عشق سے معمور ہیں۔ ان کی نظموں کا مزاج ان کی غزل جیسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ ان کے ہاں ورافتگی اور غنائیت مل کر شعر کے بطون میں ایک تلاطم پیدا کر دیتے ہیں جو انھیں دوسرے ہم عصروں کی بلبلوں کی طرح بننے اور مٹنے والی شاعری سے ممیز کرتے ہیں۔
سچے لفظوں کی تراوت سے ہنر بولتا ہے
تیرے اشعار امرؔ کانوں میں رس گھولتے ہیں
عرفانہ امرؔ کا عشق سمندر کی لہروں کی طرح شدت اختیار کر چکا ہے جس کا علاج کسی بھی چارہ گر کے پاس نہیں موجود۔ کیوں کہ ان کا یہ عشق روحانی، وجدانی، رومانوی کیفیات پر مبنی ہیں۔ اس لیے ان کے عشق کو ’’عشق بلا خیز‘‘ کا نام ہی دیا جا سکتا ہے بقول اس شعر کہ:
حُسن بھی اپنے تئیں کیف و طلسمات انگیز
اور اُس پر یہ غضب عشق، بلا خیز بھی ہے
ان کی پسندیدہ شعرا میں علامہ اقبال اور احمد فراز ہیں جب کہ شاعرات میں فہمیدہ ریاض، یاسمین حمید اور ثمینہ راجہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ گوجرانوالہ شہر میں بہت سی شاعرات کے موجود ہوتے ہوئے بھی جو عزت اور شہرت عرفانہ امرؔکے حصے میں آئی وہ کسی اور کو نہ نصیب نہ ہو سکی۔ گوجرانوالہ شہر کی یہ پہلی شاعرہ ہیں جنھیں بیرون ملک عالمی مشاعرے کی صدارت کا اعزاز حاصل ہوا۔ آخر میں اس شعر کے سوا اور کیا کہا جائے۔
نہ امرؔ چراغِ کہن کی ہے نہ یہ شمع ہی میرے فن کی ہے
میرے حرف میں جو ہے روشنی یہ چمک تو خاک وطن کی ہے