امن کی فاختہ اور مخلوق خدا کے حقوق

مردوں اور عورتوں کی لڑائیوں کے منظرنامے لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں


نسیم انجم June 07, 2026
[email protected]

ہم کالم تو لکھنے بیٹھے تھے جانوروں خصوصاً سگ گزیدگی کے حوالے سے، چونکہ اسلام اور قانون بے زبان جانوروں کے بارے میں کیا احکام دیتا ہے اور قوانین کی رو سے کیا ان کا تحفظ لازم ہے لیکن ابھی دو تین سطور لکھی ہی تھیں کہ موجودہ دور میں ہونے والے وہ واقعات یاد آ گئے جو انسانیت سے خارج ہیں۔

انسان اشرف المخلوقات اور باعث احترام ہے لیکن احترام و عزت تو دور کی بات ہے اس کی بغیر کسی قصور کے سرِ بازار دھنائی کر دی جاتی ہے، کبھی ایسے معاملات میں ہماری پولیس بغیر کسی معاوضے کے اپنی خدمات پیش کر دیتی ہے اور اس کمزور و بے ضرر شخص کا جرم جانے بغیر حوالات میں بند کر دیا جاتا ہے۔

قانون ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیتا ہے، بے چارے غریب و بے کس کی معمولی سی غلطی ہوتی ہے جس کی پاداش میں اسے سالہا سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں طارق روڈ کے گنجان آباد اور تجارتی مرکز پر معمولی سی بات پر میاں بیوی نے اپنے مدمقابل گاڑی کے شیشے قوت بازو اور ڈنڈوں کی مدد سے توڑ ڈالے اور ساتھ ویڈیو بنانے کی بھی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔

مردوں اور عورتوں کی لڑائیوں کے منظرنامے لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ اس سے زیادہ حیرانی اس بات کی ہے کہ خواتین بازاروں اور سڑکوں پر دنگا فساد کرتی ہیں اور آپس میں دست و گریباں ہو جاتی ہیں اور اگر حالات سیاسی یا معاشرتی جبر کی صورت میں ہوں تب لیڈی پولیس اور پولیس موبائلز جائے حادثہ پر آ جاتی ہیں جب کہ حادثہ فوری طور پر کوئی نہیں ہوتا ہے بلکہ ردعمل ہوتا ہے۔

کبھی کسی کے ظلم اور بے جا تشدد کی صورت میں موت یا پھر لسانی و مذہبی منافرت کے تحت خونی واقعات کا پیش آنا اور پھر احتجاج کی صورت میں دھرنوں کا وجود۔

آج کے انسان نے بربریت و سفاکی کی انتہا کر دی ہے گھروں سے کچے کے ڈاکو لڑکی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، پولیس بے بس نظر آتی ہے اور جب ماں ان کے مطالبے کے مطابق اپنی جمع پونجی اور قرض کی رقم کے ساتھ مطلوبہ جگہ پر پہنچتی ہے تو وہ بھی اغوا کر لی جاتی ہے۔

ماں بیٹی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے، پولیس دونوں کو رہا کرانے میں جب ناکام ہو جاتی ہے تب بلوچستان کے غیور پٹھان اپنے سردار انعام اللہ اور اپنے ساتھیوں کی سنگت میں اسلحے سے لیس ہو کر ان دونوں ماں بیٹی کو چھڑانے کے لیے سفر اختیار کرتے ہیں، پھر کیا ہوتا ہے کہ غیرت جیت جاتی ہے اور انصاف کا پرچم ہمیشہ کی طرح سرنگوں ہو جاتا ہے۔

اگر معاشرے میں ہونے والے درد ناک واقعات کا نوحہ لکھنے بیٹھیں تو صفحات کے صفحات کالے ہو جائیں لہٰذا ادنیٰ مخلوق پر ہونے والے مظالم کی طرف آتے ہیں۔

ایک خاص مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی سخت ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ ناخواندگی، غربت و افلاس کی چکی میں پس رہا ہے۔ تعلیم سے بے گانگی کی وجہ سے رحم دلی اور انسانی اوصاف سے محرومی ہے۔

اس معاملے میں حکومت کا قصور سب سے زیادہ ہے، چونکہ والدین خود علم و آگہی سے ناآشنا ہیں اس کی وجہ انھوں نے بھی اپنی زندگیاں کسمپرسی اور جہالت کے اندھیروں میں گزاری ہیں۔ ان حالات میں وہ اپنے بچوں کو اچھے برے کی تمیز، ہمدردی ، انسانوں اور جانوروں کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دینے سے قاصر رہے۔

سالہا سال سے یہ ستم بھی جاری ہے کہ پسماندہ علاقوں اور غیر تعلیم یافتہ حضرات کی اولادوں نے بے زبان جانوروں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ بلی جو اس قدر خوبصورت اور پالتو جانور ہے اسے کمرے میں بند کرکے بعض اوقات جھاڑیوں میں پھینک کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہی رویہ کتوں کے ساتھ بھی ہے، انھیں بلاناغہ پتھر مارنا، گرم پانی پھینکنا، انھیں بھوکا رکھنا اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے اذیت دینا اور ان کا پیچھا کرنا اور بھی ایسے بے شمار مظالم ہیں جن کی وجہ سے اسٹریٹ اینیملز عدم تحفظ اور ظلم کا شکار ہیں۔

حال ہی میں آوارہ کتوں پر تشدد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ نے کتوں کو گولی مارنے اور زہر دینے پر پابندی عائد کر دی ہے اور ویکسین کے طریقے اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔ انسانوں پر ہونے والی بربریت اور ناانصافی پر بھی کاش نوٹس لیا جائے تو معاشرے میں کچھ تو سکون ہوگا اور امن کی فاختہ آزادی کے ساتھ پرواز کر سکے گی۔