جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ معیشت، زراعت اور انسانی بقا کی بنیاد ہے۔ اس خطے میں ایک ارب سے زائد افراد ایسے دریائی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہو کر بہتے ہیں، تاہم جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ ان دریاؤں کے بالائی حصے بھارت کے زیر اثر ہیں، جس کی وجہ سے اسے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں واضح آبی برتری حاصل ہے۔
پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے اور زراعت کا انحصار تقریباً مکمل طور پر دریائے سندھ کے نظام پر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 75 سے 80 فیصد قابل تجدید پانی کی فراہمی بیرونی ذرائع سے آتی ہے۔
ملک میں استعمال ہونے والے پانی کا تقریباً 94 فیصد زرعی شعبے میں استعمال ہوتا ہے جب کہ زراعت قومی معیشت میں 23 فیصد کے قریب حصہ ڈالتی ہے۔ دریائے سندھ کے نظام سے ہر سال تقریباً 182 ارب مکعب میٹر پانی گزرتا ہے جو ملک کی زرعی ضروریات کا بنیادی ذریعہ ہے۔
1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں کی تقسیم اس طرح کی گئی کہ بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج جب کہ پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب دیے گئے۔ اس معاہدے کے مطابق پاکستان کو تقریباً 135 ملین ایکڑ فٹ یعنی 80 فیصد اور بھارت کو 33 ملین ایکڑ فٹ یعنی 20 فیصد پانی ملا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازع بنیادی طور پر دریاؤں کے مشترکہ نظام اور بالائی و زیریں حصوں کی جغرافیائی تقسیم سے جڑا ہوا ہے، اگرچہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فریم ورک ہے، مگر بھارت ہمیشہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے،جس سے خطے میں انتشار پھیلتا ہے ،جس کی ابتدا ہمیشہ بھارت کرتا ہے۔
بھارت آبی منصوبوں کو اس انداز سے آگے بڑھاتا ہے جس سے پانی کے بہاؤ، وقت اور مقدار پر اثر پڑنے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ جس کے سبب آبی معاملات بار بار کشیدگی کا باعث بنتے ہیں۔سندھ طاس معاہدے کی روح سے بھارت قانونی طور پر پانی مکمل طور پر روکنے کا مجاز نہیں ہے۔
بھارت کا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کے بل پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی ایک خطرناک پیغام ہے کہ بھارت مستقبل میں کسی بھی معاہدے کی پاسداری کو ضروری نہیں سمجھے گا، اگر وہ اس کے مفادات کے خلاف ہو،پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض سفارتی یا قانونی نہیں بلکہ دفاعی اور اسٹرٹیجک نوعیت کا ہے۔
گزشتہ سال بھی بھارت نے پاکستان کا پانی روک کر جارحیت مسلط کی تھی اور چھ اور سات مئی 2025 کی درمیانی شب میں پاکستان پر بلاجواز حملہ کیا تھا ، جس کے جواب میں پاکستان نے اپنا دفاع کرتے ہوئے بھارت کے آٹھ جنگی طیارے جس میں چار رافیل شامل تھے، انھیں زمین بوس کیا تھا۔پاکستان نے بھارت کا ایس 400 دفاعی نظام نیست و نابود کیا تھا اور بھارت کی 26 ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنا کر بھارت کو اس کی اوقات یاد دلائی تھی،جب سے لے کر آج تک بھارت عالمی سطح پر رسوا اور تنہا ہے۔
بعد ازاں دسمبر 2025 میں بھارت نے اپنی ازلی کم ظرفی کے سبب سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج،II پن بجلی منصوبے کی منظوری دی۔اس منصوبے پر بھارت 3,277.45 کروڑ روپے خرچ کرے گا،بھارت کا یہ منصوبہ محض توانائی کا منصوبہ نہیں بلکہ پست ذہینت ہے۔
بھارت اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کے پانی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔یہ منصوبہ اکیلا نہیں بلکہ ساولکوٹ، رتلے، بسر، پکل دل، کوَر، کیرو اور کرٹھائی جیسے دیگر منصوبوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا جال بنتا جا رہا ہے جس کے ذریعے بھارت دریائے چناب کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے زرعی علاقوں، خاص طور پر پنجاب کے وسیع میدان، مستقبل میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات خوراک، معیشت، سماجی استحکام اور قومی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان بین الاقوامی قوانین، معاہدات اور ریاستی ذمے داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بھارت کی جانب سے حالیہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ پاکستان کا امریکا اور ایران کے تنازعے کو ختم کرانے کے ہی ثالث بنانا بھی ہے۔پاکستان کی عالمی سطح پر عزت بھارت سے برداشت نہیں ہو رہی ہے ، لہٰذا وہ اس قسم کی حرکات کر رہا ہے۔
پھر حسینہ واجد کا اقتدار الٹنے کے بعد سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان قربتیں بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے بھارت،بنگلہ دیش کا پانی بھی روکنا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش بھی بھارت کے ساتھ آبی تنازعات کا شکار ہے جہاں 54 سے زائد مشترکہ دریا دونوں ممالک کے درمیان بہتے ہیں۔
ان میں تیستا دریا سب سے اہم ہے جو شمالی بنگلہ دیش کی زراعت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ خشک موسم میں پانی کی کمی سے بنگلہ دیش کی زرعی پیداوار اور دیہی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان 1996 میں گنگا پانی معاہدہ طے پایا تھا جو 30 سالہ مدت پر مشتمل ہے اور 2026 میں ختم ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کی تجدید ایک اہم سفارتی امتحان بن چکی ہے۔
جنوبی ایشیا میں پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک اور انتہائی حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور گلیشیئرز کے پگھلنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
مجموعی طور پر خطے کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ایک ایسے آبی نظام سے جڑے ہیں،جس کی بنیادی وجہ بھارت ہے۔بھارت کی ہٹ دھرمی خطے میں قحط آب کا سبب بن سکتی ہے۔بھارت کی ہٹ دھرمی کو ختم کرنے اور قانونی بالادستی قائم کرنے کے لیے عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ بھارت خطے کی آبادی کو پیاسا مار دے گا۔